سنک ہولز خطرے کی علامت
چند برس پہلے ہی پڑھا تھا کہ ایران میں زیادہ مقدار میں زیر زمین پانی نکالنے کے باعث زمین دھنس جانے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ابھی کچھ عرصہ قبل ایسا ہی کچھ ترکیہ کے بارے میں سنا جب کہ پاکستان میں بھی خاص کر کراچی میں زمین دھنس جانے کے بارے میں سنا ہے۔
زمین کی سطح پر اچانک بننے والے ایسے گڑھے سنک ہولزکہلاتے ہیں جن کی وجہ سے زمین اپنی سطح سے نیچے دھنس جاتی ہے، یہ زیر زمین چٹانوں کے پانی میں حل ہونے کے باعث یا کٹاؤ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
جب زیر زمین پانی کو کثرت سے نکالا جائے تو چونے کے پتھر یا نمکیات کا کٹاؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر پیدا ہو سکتے ہیں یا کان کنی اور دیگر تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بھی بنتے ہیں۔
حال ہی میں ترکیہ کے حوالے سے ایسے دیوہیکل سنک ہولز کے پھیلاؤ کے بارے میں پڑھا جہاں تیزی سے شدید گرمی میں زمین بیٹھنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس سے کسانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، ہر رات وہ اسی خوف کے ساتھ سوتے ہیں کہ ان کا گھر زمین میں نہ سما جائے۔
یہ ترکیہ کے وسطی اناطولیہ کے زرعی خطے میں خاص تعداد میں پائے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مستقل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ زراعت کے حوالے سے ماہرین کسانوں کو کم پانی والی فصلوں پر زور دے رہے ہیں۔
پاکستان میں پانی کے حوالے سے مسائل تو رہے ہیں لیکن شہری علاقوں میں استعمال اور پینے کے صاف پانی کے لیے ذرائع نت نیا رخ اختیار کرتے چلے گئے اور حال یہ ہے کہ ہر گلی محلے میں پینے کا پانی فراہم کرنے والے آر او پلانٹ نے مسائل تو حل کر دیے ہیں لیکن بڑے مسائل مستقبل کے لیے تیار کھڑے ہیں جس کے نتائج ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ان آر او پلانٹ کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے زیر زمین پانی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پانی کے حصول کو رواں رکھنے کے لیے عام عوام بھی کنویں کی کھدائی کے حصول میں جتی رہتی ہے، اب چاہے پانی کم کھارا ہو یا زیادہ کھارا، ضرورت تو رہتی ہے۔
اس تمام صورت حال میں اگر قصور وار کوئی ہے تو وہ ذمے دار ادارے ہیں جو اپنے فرائض میں کوتاہی اور غفلت کے باعث ایک بڑے دیوہیکل مسئلے کو نمو دے رہے ہیں۔
آج سے دس بیس سال بعد کیا آسمان جیسے بلند و بالا اپارٹمنٹس، عمارات اور مالز اپنے وجود پر قائم رہ سکیں گے۔ زیر زمین پانی کی موجودگی قدرت کی جانب سے ایک خاص فارمولے کے تحت زمین کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے اور اس میں بگاڑ کے باعث زمین میں سنک ہولز بن جاتے ہیں جو زمین کو بٹھا دیتے ہیں۔
اب چاہے اس پر گھر بنے ہوں یا بلند و بالا عمارات اپنے ساتھ دھنسا دیتے ہیں یہ چند انچ کا زمینی دھنساؤ اپنے اندر کس قدر خطرات رکھتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، خاص کر انسانی جانوں کے حوالے سے یہ صورت حال خوفناک ہے۔
کراچی کی زیر زمین چٹانیں چونے کے پتھر، ریت اور چکنی مٹی پر مشتمل ہیں۔ یہاں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کنوؤں کی کھدائی کا کام بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے مالز اور اپارٹمنٹس میں کنویں اور میٹھے پانی کی فراہمی جاری ہے۔
کم بارش کے باعث بھی زیر زمین پانی میں کمی پیدا ہوتی ہے سنک ہولز کے پیدا ہونے میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے یا مختصر وقت میں بارش کا بہت زیادہ ہونا بھی ہے۔
دونوں صورتوں میں انتہائی کمی یا انتہائی زیادتی ہے۔ساحل سمندر کے حوالے سے بپھرتا ہوا بے باک لہروں سے اچھلتا یا خاموش لہروں سے اپنی ہی سوچ میں محو سمندر ابھرتا ہے پر حالیہ چند برسوں میں کراچی کے باسی ساحل سمندر کے ماڈل کو دیکھ رہے ہیں، سمندر تو دور بہتا انسانی فطرت کے چلبلے، حریصانہ رویے پر حیران اپنی روش پر چلا جا رہا ہے لیکن حضرت انسان قدرت کے اس انمول تحفے سے مستقل ناشکری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
’’ارے یہ کیا۔۔۔‘‘ برسوں بعد سمندری علاقے سے گزرتے سمندر کی راہ گزر پر تعمیرات دیکھی تھیں۔
’’یہ تم نے اب دیکھا ہے، اسے تو بنے کافی عرصہ ہو گیا۔ لوگ چیخ کر بھی خاموش ہو چکے ہیں۔‘‘ حیرت انگیز فکر کا انتہائی دکھی جواب۔
قدرت کی جانب سے کراچی کے پہاڑ، ساحل اور میدان ایک تحفہ ہی ہیں جسے بے دردی سے مسخ کرتے آگے بڑھا جا رہا ہے، کیا اسے ترقی کی طرف قدم بڑھانا کہا جائے گا یا اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو خطرے سے آلودہ کرنا سمجھا جائے؟
کیونکہ پہاڑ زمین پر میخوں کی طرح ہیں اور سمندر خوش بختی کی علامت جو زندگی کو رواں دواں رکھتے آگے بڑھانے میں مگن رہتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ پانی کے قریب آبادیاں نمو پاتی اور ترقی کرتی ہیں، خشک اور بنجر علاقے بیابان اور سنسان غیر ترقی یافتہ رہ جاتے ہیں پر ہمارے یہاں پانی کو دھکیلنا ہی نہیں بلکہ ساحل پر ریت کو خشک کرکے بلند و بالا عمارتیں بھی بنائی گئی ہیں، ایسے میں ریت میں چھوٹے چھوٹے خلا بن جاتے ہیں جو سنک ہولز کا موجب ثابت ہو سکتے ہیں۔
زیر زمین پانی کی مقدار خطرناک حد تک گر رہی ہے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر کو ایکوافرز کہا جاتا ہے۔ بھارت، ایران، ترکیہ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں بھی ایکوافرز کی حالت شکستگی کی جانب بڑھ رہی ہے، اس سے زمین کے دھنساؤ کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور زرخیزی اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈیفنس، لانڈھی اور کورنگی میں آنے والے معمولی زلزلوں کی وجہ ان زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی اور تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ امریکا کا میکسیکو سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر آباد ہے یہ بلند ترین شہر دو کروڑ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل ہے۔
یہ شہر رفتہ رفتہ دھنس رہا ہے۔ 1950 میں اس شہر کے وسطی علاقے کئی فٹ بلند سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔ بیس برس تک یہ زمین میں بیس فٹ تک دھنس گئے تھے۔ عمارتیں جھکنے لگیں لہٰذا منہدم کرنا پڑیں۔
1935 کا بنا پیلس آف فائن آرٹس سنگ مرمر سے تعمیر ہوا، اس قدر زمین میں دھنسا کہ اس کی دوسری منزل سطح زمین تک آ پہنچی تھی۔ایسے علاقوں میں ہنگامی صورت حال کے طور پر تدابیر کے ساتھ مختلف پودوں کو بھی کاشت کیا گیا جن کی جڑیں بہت تیزی سے زمین سے پانی جذب کرتی ہیں۔
اس طرح کے پودے کچھ عرصہ قبل کراچی کے ان علاقوں میں بھی لہلہاتے دیکھے گئے تھے جو پانی کی زیادتی نہیں بلکہ کمی کا شکار تھے۔
بہرحال ضرورت اس بات پر ہے کہ ہمیں دیگر ممالک کی طرح سنک ہولز کے خطرات سے کس طرح نبرد آزما ہونا ہے اور ایسے حالات پر قابو پانا کس قدر ضروری ہے جو ہماری زمین کو بنجر اور دھنسانے کے عمل پر جتی ہوئی ہے اس میں شخصی کارروائیوں کی روک تھام اشد ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ جس مایا کے حصول کے لیے اونچے محل تعمیر کیے جا رہے ہوں وہی بیٹھ جائیں جو مالی اور جانی نقصان کا باعث ہو۔