15 روز سے مسلط کردہ جنگ کے باوجود ایران میں سب کچھ نارمل ہے؛ صدر مسعود پزیشکیان

ایران پر 28 فروری سے اسرائیلی اور امریکی حملے جاری ہیں

اسرائیل نے ایرانی صدر کے دفتر پر بڑا حملہ کردیا

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جنگ میں تباہ شدہ علاقوں کو پہلے سے بھی بہتر انداز میں تعمیر کریں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ 15 روز سے جاری اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے باوجود دوران ملک میں ہونے والی تباہی کے باوجود ایران کے بیشتر حصوں میں معمولات زندگی برقرار ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں میں جنگ کے باعث تباہی ہوئی ہے اُن علاقوں کو پہلے سے بھی زیادہ بہتر انداز میں دوبارہ تعمیر کریں گے اور عوام کی ضروریات کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکلات اور دباؤ کے باوجود حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے اور عوام کے تعاون سے موجودہ صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔

صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایرانی قوم نے ماضی میں بھی مشکل حالات کا سامنا کیا ہے اور اس بار بھی ملک ان چیلنجز سے نکل آئے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ کئی ممالک جنگی بحری جہاز بھیجنے پر آمادہ ہیں۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس اہم بحری راستے کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کریں گے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز جسے ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں بند کر رکھا ہے۔ دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

​​​​​​

Load Next Story