خلیجی ممالک اپنی سرزمین سے امریکی فوجیوں کو نکال دیں؛ ایران کا مطالبہ
خلیجی ممالک اپنی سرزمین سے امریکی فوجوں کو باہر نکال دیں؛ ایران
امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس پر پڑوسی ممالک نے شکوہ بھی کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان مشرق وسطیٰ کے ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یہی مطالبہ دہراتے ہوئے خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے امریکی فوج کو فوری طور پر نکال دیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے برادر ہمسایہ ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کو اپنے علاقوں میں موجودگی کی اجازت نہ دیں، خاص طور پر اس وقت جب ان کا بنیادی مقصد صرف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جوابی حملوں کے تناظر میں اب وقت آ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک غیر ملکی جارح قوتوں کو اپنے علاقوں سے نکال دیں۔
Touted US security umbrella has proven to be full of holes and inviting rather than deterring trouble. US is now begging others, even China, to help it make Hormuz safe.
Iran calls on brotherly neighbors to expel foreign aggressors, especially as their only concern is Israel.انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے فراہم کیا جانے والا نام نہاد سکیورٹی امبریلا ناکام ثابت ہوچکا ہے جو خطے میں امن قائم رکھنے کے بجائے مزید مسائل کو دعوت دے رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اب خود آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے دوسرے ممالک حتیٰ کہ چین سے بھی مدد مانگ رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی حکمت عملی خطے میں استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔