پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے ہزاروں واقعات، روزانہ کتنے بچے نشانہ بنتے ہیں؟ چشم کشا رپورٹ
فوٹو: فائل
ملک میں بچوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے اغوا اور زیادتی جیسے کیسز میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ سال 2025 کے دوران بچوں سے زیادتی کے مجموعی طور پر 3630 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ان واقعات میں متاثرین میں 1924 یعنی 53 فیصد لڑکیاں جبکہ 1625 یعنی 47 فیصد لڑکے شامل تھے۔ اس کے علاوہ 116 کیسز نومولود بچوں کے بھی رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران اوسطاً ایک دن میں 9 سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
غیر سرکاری تنظیم کے مطابق سال 2024 کے مقابلے میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں 8 فیصد یعنی 266 بچوں کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اغوا کے 1107، جنسی زیادتی کے 596، عصمت دری کے 522 اور بچوں کی گمشدگی کے 365 کیسز رپورٹ ہوئے۔
اسی طرح زیادتی کی کوشش کے 195، بدفعلی کی کوشش کے 141، اجتماعی زیادتی کے 130 جبکہ اجتماعی زیادتی کے مزید 108 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کے بعد قتل کے 58 جبکہ بچوں کی شادی کے 53 واقعات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 11 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو زیادتی کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور اس عمر کے گروپ میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 73 فیصد کیسز پنجاب سے جبکہ 21 فیصد کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح 4 فیصد کیسز خیبرپختونخوا، 2 فیصد کیسز بلوچستان، وفاقی دارالحکومت، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 82 فیصد کیسز پولیس کے پاس رجسٹرڈ ہوئے جو کہ فعال پولیس کی مثبت علامت قرار دی گئی ہے۔