پاکستان میں خواتین اور خواجہ سراؤں پر تشدد و زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ

32 فیصد کیسز میں ملزمان متاثرہ کے جاننے والے اور 12 فیصد میں شوہر ملوث پائے گئے، رپورٹ

پاکستان میں خواتین اور خواجہ سراؤں پر (صنفی بنیاد پر ہونے والے) تشدد و زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران ملک بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے مجموعی طور پر 7071 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں قتل، خودکشی، اغوا، عصمت دری، غیرت کے نام پر قتل اور دیگر تشدد جیسے جرائم شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں کچھ کیسز خواجہ سرا افراد سے متعلق بھی شامل ہیں جبکہ مجموعی طور پر صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں قتل کے 1546، اغوا کے 1345، تشدد کے 1169، زیادتی کے 877، خودکشی کے 680، زخمی کرنے کے 449، ہراساں کرنے کے 316، غیرت کے نام پر قتل کے 284 اور تیزاب گردی کے 41 واقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مجموعی کیسز میں سے 32 فیصد میں ملزمان متاثرہ افراد کے جاننے والے تھے جبکہ 18 فیصد واقعات میں اجنبی افراد ملوث تھے۔

اسی طرح 12 فیصد کیسز میں شوہر ملوث پائے گئے جبکہ تقریباً 20 فیصد واقعات میں ملزم کی شناخت یا تفصیل رپورٹ نہیں کی گئی۔

صوبائی بنیاد پر اعداد و شمار کے مطابق صنفی بنیاد پر تشدد کے کل کیسز میں سے 78 فیصد پنجاب سے رپورٹ ہوئے جبکہ 14 فیصد کیسز سندھ سے سامنے آئے۔ اسی طرح 6 فیصد کیسز خیبرپختونخوا جبکہ 2 فیصد واقعات بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ کیے گئے۔

Load Next Story