پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار

عدالت نے ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے اور پی آئی اے کو ملازمہ کو تمام فوائد و واجبات کی ادائیگی کا حکم دیدیا

اے ٹی سی میں 1868 مقدمات زیر التواہیں، ضلعی عدالتوں میں 970 مقدمات میں ملزمان بری ، 608 مقدمات میں ملزمان کو سزا ہوئی فوٹو:فائل

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست این آئی آر سی کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔

ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پی آئی اے کی ملازمہ کی نوکری سے برطرفی کالعدم قرار دینے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

پی آئی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ صائمہ حفیظ سومرو کو 2017 میں نوکری سے غیر حاضر  رہنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ انکوائری کے بعد ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ ماتحت عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرکے ملازمہ کی برطرفی کالعدم قرار دی۔

صائمہ حفیظ سومرو کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار اپنے والد کی علالت کے باعث رخصت پر تھیں۔ درخواستگزار کے پاس مناسب چھٹیاں موجود تھیں تاہم ایچ آر نے چھٹیاں منظور نہیں کیں, ملازمہ کو شوکاز نوٹس قانونی مدت گزر جانے کے بعد جاری کیا گیا۔

انکوائری کے دوران ملازمہ کو گواہوں کو جرح کا حق بھی نہیں دیا گیا۔ ملازمہ کیخلاف کی گئی تمام کارروائی غیر قانونی تھی۔

عدالت نے این آئی آر سی کا ملازمہ کی بحالی کا فیصلہ برقرار رکھنے اور پی آئی اے کو ملازمہ کو تمام فوائد و واجبات کی ادائیگی کا حکم دیدیا۔

عدالت نے ریمارلس دیئے کہ ماتحت فورمز کے فیصلوں میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا جواز نہیں ہے۔

Load Next Story