اوسط درجے کے لوگ ہی کامیاب لوگ ہیں

اوسط درجے کے لوگوں میں سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کےلیے بہت زیادہ باصلاحیت ہونا ضروری ہے لیکن حقیقت میں جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو ہم پر یہ راز کھلتا ہے کہ دنیا میں دراصل ’’اوسط درجے کے لوگ ہی کامیاب لوگ ہیں‘‘۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوسط درجے کے لوگ کامیاب کیسے ہوتے ہیں؟ اور یہ مفروضہ کس کا پھیلایا ہوا ہے کہ کامیاب ہونے کےلیے بہت زیادہ باصلاحیت ہونا ضروری ہے۔ ہم دونوں سوالوں کا ایک ایک کرکے جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

پہلا سوال کہ اوسط درجے کے لوگ کیسے کامیاب ہوتے ہیں؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اوسط درجے کے لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ ان کی ذہانت اور صلاحیت کا معیار اوسط درجے کا ہے، اس لیے ان میں سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ عادت اور بھی پختہ ہوجاتی ہے اور یہی ان کی سب سے بڑی خوبی قرار پاتی ہے۔

باصلاحیت لوگوں کو اپنے کام اور صلاحیت پر اعتماد ہوتا ہے اور اگر اس اعتماد کو قابو میں نہ رکھا جائے تو یہ وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے گھمنڈ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کےلیے فلم ’’گجنی‘‘ میں عامر خان کا ایک ڈائیلاگ بہت اچھا ہے۔ ’’میں یہ کام کرسکتا ہوں، یہ وشواس ہے اور میں ہی یہ کام کرسکتا ہوں، یہ گھمنڈ ہے۔ وشواس کو اپنے پاس رکھیں اور گھمنڈ کو دروازے کے باہر چھوڑ آئیں‘‘۔

یہ بڑھتا ہوا اعتماد جب گھمنڈ بن جاتا ہے تو ان باصلاحیت لوگوں کی صلاحیت کو کھا جاتا ہے اور ان کو ناکام کردیتا ہے۔ اور جو اس میں اعتدال پر قائم رہتے ہیں وہ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اوسط درجے کے لوگوں میں سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت غیرمعمولی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ معمولی لوگ اس معاملے میں غیرمعمولی ہوتے ہیں۔

دوسری اور بہت اہم بات، اوسط درجے کے لوگ صرف حکم بجا لانا جانتے ہیں اور اس پر سوال نہیں کرتے۔ یہ ان کی دوسری بڑی خوبی ہوتی ہے۔ ان کی تیسری بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ تنقید کا برا نہیں مانتے بلکہ کچھ مواقع پر تو طنز اور گالی تک کو ہنسی خوشی برداشت کرلیتے ہیں۔ آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ اوصاف تو غیرت، حمیت اور خودداری کے خلاف ہیں، تو جناب آج کل کی نوکری میں یہ خوبیاں نہیں بلکہ کمزوریاں سمجھی جاتی ہیں۔

میں ایک نجی ادارے میں کام کرتا تھا اور اس ادارے کے مالک جب کسی کنٹری منیجر سے بہت خوش ہوتے تھے تو اس انگریزی میں کہتے He is a real son of a bitch۔ ایک دن میں نے ایک کنٹری منیجر سے کہا کہ جب ’’صاحب‘‘ آپ لوگوں کو ایس او بی کہتے ہیں تو آپ لوگوں کو غصہ نہیں آتا؟ اس پر انھوں نے مجھے کہا کہ میرے سوچنے کا انداز غلط ہے، اصل میں ’’صاحب‘‘ ہم سے پیار کرتے ہیں اور وہ یہ ہمیں پیار سے کہتے ہیں۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ لوگ ’’صاحب‘‘ سے پیار نہیں کرتے؟ انھوں نے مجھے گھور کر دیکھا اور شاید دل میں میری عقل پر ماتم بھی کیا ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ اس حقیقی مثال کے بعد آپ کو تیسری خوبی کی اہمیت اور افادیت سمجھ آگئی ہوگی۔

چوتھی اور آخری خوبی، ویسے تو بے شمار خوبیاں ہوتی ہیں لیکن ہم اپنی بات کو چار خوبیوں تک محدود کرتے ہیں۔ تو جناب چوتھی خوبی یہ ہوتی کہ اگر کبھی غلطی سے ہی سہی اوسط درجے کے لوگ خود تحریک لے کر کوئی اچھا کام کر بھی جائیں تو انھیں چاہیے کہ خود ہی بڑے صاحب کو اس کا کریڈٹ دے دیں، نہیں تو بڑے صاحب خود ہی وہ کریڈٹ لے لیں گے۔

دوسرا سوال یہ تھا کہ یہ مفروضہ کس کا پھیلایا ہوا ہے کہ کامیاب ہونے کےلیے بہت زیادہ باصلاحیت ہونا ضروری ہے؟ مجھے امید ہے کہ اب تک آپ جواب تک پہنچ چکے ہوں گے کہ یہ مفروضہ بھی انھیں اوسط درجے کے لوگوں کا پھیلایا ہوا ہے تاکہ لوگ ان کی ان صلاحیتوں سے مرعوب ہوں جو ان میں کبھی تھی ہی نہیں تاکہ ان کی حقیقی صلاحیتوں پر کسی کی نظر نہ پڑے۔

مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میں قابل ہونے کی دعا کرتا تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ قابل ہونے کی صورت میں کامیابی مجھے حاصل ہوجائے گی۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے میری دعا قبول نہیں کی، اس نے بہت عطا کیا ہے لیکن عمر کے اس حصے میں مجھے یہ بات سمجھ آئی ہے کہ قابل اور کامیاب دو علیحدہ اوصاف ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کم اور خارج زیادہ کرتے ہیں کہ جس کو انگریزی میں mutually exclusive کہتے ہیں۔

آخر میں ہمیشہ کی طرح ایک کہانی اور اختتام۔ یہ کہانی میرے اپنے ذہن کی اختراع ہے۔ یہ ہلکی مزاحیہ کہانی ہے اور میری درخواست ہوگی کہ اس کو اسی معنوں میں پڑھا اور سمجھا جائے۔

فرشتے اللہ کے حکم سے انسانوں میں مختلف پیشے کے بندے بناتے ہیں۔ ایک فرشتہ اللہ کے حضور حاضر ہوکر رپورٹ پیش کرتا ہے کہ ہم نے اتنے ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ، سائنسدان، کلرک، افسر وغیرہ وغیرہ آپ کے حکم سے بنائے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی کام کے نہیں۔ آپ حکم دیجیے کہ ان کا کیا کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو ایسی جگہ بٹھا دو کہ انھیں خود کوئی کام نہ کرنا پڑے۔ ان کو نوکری دینے والا بنادو۔

اب اگر آپ اپنے اردگرد دیکھیں گے تو شاید آپ کو اتنا برا نہیں لگے گا اور اسی میں یہ راز پنہاں ہے کہ یہ دنیا کیسے چلتی ہے۔ اس میں سمجھنے والوں کے نشانیاں اور زیادہ سمجھنے والوں کےلیے پریشانیاں ہیں۔ اس لیے اجازت دیجیے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story