آبنائے ہرمز کے تحفظ کیلیے امریکا کی مدد کریں؛ ٹرمپ کا جاپانی وزیراعظم سے مطالبہ
جاپان کی نومنتخب وزیراعظم نے اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی
جاپان کی نو منتخب وزیراعظم سانے تاکائیچی نے امریکا کے صدارتی دفتر اوول آفس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی اور ایران جنگ سے متعلق دوبدو گفتگو کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے اُن سے ایران جنگ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
جاپانی وزیر اعظم سانے تاکائیچی نے اس موقع پر کہا کہ دنیا میں امن قائم کرنے کی صلاحیت صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے۔ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی موجودہ سرگرمیوں سے عالمی معیشت شدید دباؤ میں آ سکتی ہے۔ جاپان نے ایران سے براہ راست رابطہ کر کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں سمیت اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور جنگ طے شدہ منصوبے سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے جاپان سے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کے تحفظ میں ایران کے خلاف جاری صورتحال میں اپنا کردار بڑھائے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد پر توقع ہے کہ وہ آگے بڑھے گا کیونکہ امریکا خود جاپان میں بڑی تعداد میں فوجی موجودگی رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جاپان اپنی تیل کی ضروریات کا نوے فیصد سے زائد حصہ اسی بحری راستے سے حاصل کرتا ہے اس لیے اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس گزرگاہ کے تحفظ میں کردار ادا کرے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور ضرورت پڑنے پر خود ہی آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے اقدامات کرسکتا ہے۔
انہوں نے بعض اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک کی جانب سے ہچکچاہٹ ایک غلطی ہے جبکہ نیٹو ارکان کے رویے کو بھی غیر دانشمندانہ قرار دیا۔