ہرمز سے نیٹو تک امریکی دھونس کی شکست

جب کوئی طاقت اپنا بیانیہ کھو دیتی ہے، تو اس کے جنگی جہاز بھی اسے اخلاقی برتری نہیں دلا سکتے

واشنگٹن پھر وہی پرانا کھیل کھیلنا چاہتا ہے: پہلے آگ لگاؤ، پھر دنیا کو بتاؤ کہ آؤ، مل کر آگ بجھاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار دنیا نے امریکی اشارے پر دوڑنے سے انکار کردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محاذ کھول کر اب آبنائے ہرمز کے نام پر اتحادیوں سے جنگی جہاز مانگ رہے ہیں، لیکن یورپ اور ایشیا کے کئی بڑے ملک صاف سمجھ چکے ہیں کہ یہ ’عالمی سلامتی‘ کا نہیں، امریکی طاقت کے بکھرتے ہوئے رعب کو بچانے کا معاملہ ہے۔ اسی لیے جرمنی، اسپین اور اٹلی جیسے ممالک نے کھل کر فوجی حمایت سے گریز کیا، جبکہ برطانیہ اور چند دوسرے ملک بھی ایسی شمولیت کو سفارتی، قانونی اور سیاسی شرطوں سے باندھ رہے ہیں۔

ٹرمپ کا مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا خطرہ نہیں سمجھ رہی؛ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا اب امریکی بیانیہ آنکھیں بند کر کے ماننے کو تیار نہیں۔ آبنائے ہرمز یقیناً محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ عالمی تیل اور مائع گیس کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اور اس میں رکاوٹ پوری دنیا میں توانائی کی قیمتیں، رسد اور مہنگائی کو متاثر کرتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس بحران کو اس نہج تک پہنچانے والا کون ہے؟

جب امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطہ بھڑکا، تیل کی قیمتیں اچھلیں، اور ہرمز تقریباً بندش کی کیفیت میں چلا گیا، تو پھر دنیا کیوں سمجھے کہ امریکی جنگی مہم ہی اس مسئلے کا حل بھی ہے؟

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ٹرمپ کی سیاست ننگی ہو جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ باقی ملک امریکی طاقت کے سائے تلے رہیں، امریکی جنگوں کے اخراجات اور نتائج میں شریک ہوں، مگر فیصلے واشنگٹن کرے۔ پہلے حملہ خود، پھر تحفظ کی اپیل سب سے۔ پہلے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلو، پھر اتحادیوں سے کہو کہ عالمی تجارت بچانے نکل آؤ۔ یہ سفارت کاری نہیں، یہ سیاسی بددیانتی ہے۔ اور دنیا نے غالباً پہلی بار اتنی کھل کر اس بددیانتی کو پہچانا ہے۔

یورپی دارالحکومتوں نے واشنگٹن سے صاف پوچھا ہے کہ آخر اس جنگ کا مقصد کیا ہے؟ حد کیا ہے؟ مدت کیا ہے؟ کامیابی کی تعریف کیا ہے؟ اور سب سے اہم سوال: نیٹو کیوں ایک ایسی مہم کا حصہ بنے جس کا نہ واضح مینڈیٹ ہے، نہ واضح انجام؟

ٹرمپ کی زبان اس بحران میں ان کی کمزوری کو اور بھی نمایاں کر رہی ہے۔ جو رہنما اپنے اتحادیوں کو قائل نہ کر سکے، وہ انہیں دھمکانے لگتا ہے۔ نیٹو کے مستقبل کو ہرمز میں تعاون سے جوڑنا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امریکا اب قیادت سے زیادہ دباؤ کے ذریعے ساتھ لینا چاہتا ہے۔ مگر نیٹو کوئی نجی سیکیورٹی کمپنی نہیں، نہ یورپ امریکی ضد کا مالی اور عسکری ضامن ہے۔ جرمن قیادت نے صاف اشارہ دیا کہ نیٹو کو مداخلت پسند اتحاد میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اور یورپی وزرائے خارجہ نے بھی اس معاملے میں غیر معمولی احتیاط دکھائی ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے: واشنگٹن اب بھی خود کو حکم دینے والا مرکز سمجھتا ہے، مگر دنیا اسے ایک پریشان، جلدباز اور غیر واضح طاقت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

اور پھر چین ہے، جو اس پورے بحران میں ٹرمپ کے لیے خاموش مگر گہرا جواب بن کر سامنے آیا ہے۔ بیجنگ نے جنگی اتحاد میں شامل ہونے سے گریز کیا اور کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا۔ یہ رویہ محض سفارتی بیان بازی نہیں؛ یہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی علامت ہے۔

امریکا اب بھی ہر بحران کو فوجی جوتے سے کچلنے کی عادت میں مبتلا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں چین طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی استحکام کے بیانیے سے اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی شی جن پنگ سے ملاقات میں تاخیر کی خبریں محض شیڈول کا مسئلہ نہیں بلکہ سفارتی بے وزنی کی علامت بن چکی ہیں۔ واشنگٹن خطے کو آگ میں جھونک کر بھی عالمی قیادت کا مرکز نظر نہیں آ رہا؛ بلکہ الٹا اسے دوسروں کو منانا پڑ رہا ہے۔

اس بحران میں ایک اور تلخ سچ بھی کھل کر سامنے آیا ہے: صرف جنگی جہاز بھیج دینا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ عالمی میری ٹائم تنظیم کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ بحری اسکارٹ بھی محفوظ گزرگاہ کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتے، اور فوجی موجودگی پائیدار حل نہیں۔ یعنی خود وہ ادارے بھی جنہیں سمندری سلامتی کا تجربہ حاصل ہے، یہ کہہ رہے ہیں کہ طاقت کا مظاہرہ سلامتی کا مترادف نہیں۔ مگر ٹرمپ کی سیاسی فطرت کو باریک حل نہیں چاہیے؛ انہیں تصویریں چاہئیں، بیانات چاہئیں، اور ایسا منظرنامہ چاہیے جس میں امریکا پھر سے دنیا کا چوکیدار دکھائی دے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب دنیا اس ڈرامے کی قیمت جان چکی ہے۔

ایران کی طرف سے بھی مفاہمت کی فوری کوئی راہ ہموار نظر نہیں آتی۔ اگرچہ بعض امریکی ذرائع نے حالیہ براہِ راست رابطوں کی بات کی، مگر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علانیہ ایسے تاثر کی نفی کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران نہ فوری جنگ بندی مانگ رہا ہے، نہ موجودہ حالات میں امریکا سے معنی خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہی تضاد واشنگٹن کے بیانیے کو مزید کمزور کرتا ہے۔ ایک طرف ٹرمپ دنیا کو بتاتے ہیں کہ ایران شاید معاہدے کے لیے تیار ہے، دوسری طرف تہران ان دعوؤں کو رد کر رہا ہے۔ تو پھر سوال بجا ہے: کیا امریکا واقعی امن چاہتا ہے، یا صرف ایک ایسی سفارتی کھڑکی دکھانا چاہتا ہے جس سے جنگی دباؤ کو جائز ٹھہرایا جا سکے؟

اس ساری صورتِ حال میں سب سے زیادہ قابلِ مذمت بات یہ ہے کہ انسانی المیہ پھر پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ جب طاقتور ریاستیں ’سمندری راستوں‘، ’اتحادی ذمے داریوں‘، ’توانائی سلامتی‘ اور ’جوابی حکمتِ عملی‘ کی زبان بولتی ہیں، تو مرنے والے انسان اعداد میں بدل جاتے ہیں۔ بچوں کی لاشیں خبر کی ایک لائن بن جاتی ہیں، تباہ شہر ’کولیٹرل‘ کہلا کر فائلوں میں دفن ہوجاتے ہیں، اور جو خطہ جل رہا ہوتا ہے، وہ بڑی طاقتوں کےلیے صرف جغرافیہ رہ جاتا ہے۔ یہی امریکا کی جنگی سیاست کا سب سے مکروہ پہلو ہے: انسان اس کے لیے مرکز نہیں، محض خرچ ہونے والی شے ہے۔

اور اب بات اخراجات کی۔ امریکی سیاسی حلقوں میں جنگ کے مالی اور تزویراتی بوجھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اور سینیٹ میں بریفنگز طلب کی جا رہی ہیں تاکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اگلے قدم، مقاصد اور سفارتی راستے پر وضاحت دے۔ جب جنگ کے اہداف روز بدلیں، کبھی جوہری ڈھانچہ، کبھی میزائل صلاحیت، کبھی تیل کی رسد، کبھی ہرمز، کبھی نیٹو، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ پالیسی نقشے پر نہیں، ردعمل پر چل رہی ہے۔ اور ردعمل پر چلنے والی جنگیں اکثر مورچوں سے زیادہ ذہنوں میں ہاری جاتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ٹرمپ جس انداز میں اتحادیوں سے شکوہ کر رہے ہیں، اس سے امریکی بالادستی کے زوال کی جھلک نظر آتی ہے۔ کل تک امریکا کہتا تھا: ’’ہم قیادت کرتے ہیں، دنیا ساتھ آتی ہے۔‘‘ آج کیفیت یہ ہے: ’’ہم نے لڑائی چھیڑی، اب تم جہاز بھیجو، ورنہ اتحاد کمزور ہو جائے گا۔‘‘ یہ لہجہ قیادت کا نہیں، گھبراہٹ کا ہے۔ یہ اعتماد کا نہیں، سفارتی تنہائی کا ثبوت ہے۔ اور دنیا اس فرق کو صاف دیکھ رہی ہے۔

اصل مسئلہ ہرمز نہیں، اصل مسئلہ یہ ذہنیت ہے کہ دنیا اب بھی امریکی حکم پر جنگ اور امن کے بٹن دبائے گی۔ مگر دنیا بدل چکی ہے۔ اتحادی اب تابع دار نہیں رہے، عالمی رائے عامہ اب یک رخا نہیں رہی، اور طاقت کی پرانی زبان اب پہلے جیسا سحر نہیں رکھتی۔ ٹرمپ شاید اب بھی سمجھتے ہیں کہ اونچی آواز، سخت دھمکی اور عسکری تیزی سے راستہ نکل آئے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی ایران پالیسی نے امریکا کی طاقت سے زیادہ اس کی سیاسی اکیلاہٹ کو بے نقاب کیا ہے۔

اگر اس بحران کا ایک جملے میں خلاصہ کیا جائے تو وہ یہ ہے: ٹرمپ جنگ جیتنے سے پہلے بیانیہ ہار رہے ہیں۔ اور جب کوئی طاقت اپنا بیانیہ کھو دیتی ہے، تو اس کے جنگی جہاز بھی اسے اخلاقی برتری نہیں دلا سکتے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story