برطانیہ نے ایران پر حملوں کیلیے امریکا کو اپنے فوجی اڈّے دینے کی منظوری دیدی
برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے دینے کی منظوری دیدی
برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں مدد دی جا سکے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی امریکی افواج کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی اڈوں کا استمعال خاص طور پر ایسے اقدامات کے لیے جن کا مقصد ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کو روکنا اور برطانوی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔
تاہم اب آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے بھی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ڈرپوک اور کاغذی شیر قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے نیٹو اتحادی ممالک کے لیے فوجی کارروائی کرنا بہت آسان ہے مگر وہ اس سے گریز کر رہے ہیں۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے برطانیہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے امریکی حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے فراہم کیے تو اس عمل کو جارحیت میں براہ راست شمولیت تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب برطانوی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے ردعمل میں امریکا کو اپنے دفاعی آپریشنز کے لیے برطانوی فوجی اڈے دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔