آبنائے ہرمز کی بندش؛ دنیا کیلیے نئی آبی گذرگاہ کون سی ہوسکتی ہے؟ ماہرین کا بڑا انکشاف

ایران نے امریکا اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل رک گئی ہے

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے جس سے دنیا بھر میں پیٹرول کی ترسیل معطل ہوگئی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں گرنے لگیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی شپنگ 2026 کے بقیہ عرصے کے دوران مشرق وسطیٰ کے راستے سے گزرنے کے بجائے جنوبی افریقا کے کیپ آف گڈ کے گرد طویل چکر لگانے کا انتخاب کرسکتی ہے۔

اینالسٹ پیٹر سینڈ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز غیر محفوظ ہے اور شاید رواں برس ایسا ہی معاملہ رہے گا کیونکہ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال غیر یقینی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ تجارتی جہاز اب دیگر رسد کے راستوں جیسے کہ باب المندب (یمن اور افریقا کے سرنگ کے درمیان) اور سوئز کینال (مصر میں سرخ سمندر سے ملنے والا راستہ) سے بھی دور رہیں گے جہاں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے شپنگ کو متاثر کیا ہے۔

اینالسٹ پیٹر سینڈ نے کہا کہ ہم نے پچھلے کئی برسوں میں دیکھا ہے کہ وسیع خطے میں بے چینی جاری ہے۔ حوثی باغی باب المندب کو بند کر کے شدید رکاوٹیں پیدا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ممکن ہے کہ اگلے ایک سال تک عالمی شپنگ مکمل طور پر کیپ آف گڈ کے گرد کا راستہ اختیار کرے بجائے اس کے کہ چھوٹے راستے یعنی سوئز کینال سے گزرے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی شپنگ کی یہ صورتحال عالمی مال برداری کی لاگت اور ترسیل کے وقت پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

 

Load Next Story