مصطفیٰ عامر قتل کیس: ارمغان کے گھر چھاپے میں زخمی ڈی ایس پی انتقال کرگئے
مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے بنگلے پر چھاپے کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے والے ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار گزشتہ روز دوران علاج اسٹیڈیم روڈ پر قائم نجی اسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے۔
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے گھر پر چھاپے کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے والے ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار ایک سال سے زائد موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد گزشتہ روز اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال میں دوران علاج زندگی کی بازی ہار گئے۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مرحوم ڈی ایس پی کی نماز جنازہ پیر کو بعد نماز مغرب طارق روڈ پر جامعہ مسجد رحمانیہ ادا کی گئی جنھیں بعدازاں سوسائٹی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
گزشتہ سال 8 فروری 2025 کو ڈیفنس خیابان مومن گلی نمبر 7 میں واقع بنگلہ نمبر 35 میں مغوی نوجوان مصطفیٰ عامر کی بازیابی کے لیے اس وقت کے ڈی ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل سید احسن ذوالفقار نے سی پی ایل سی کے ہمراہ چھاپہ مارا تھا جہاں ملزم ارمغان کی جانب سے جدید اسلحے سے پولیس پر کی گئی فائرنگ سے ڈی ایس پی احسن ذوالفقار ناٹگ پر گولی لگنے سے اپنے محافظ اہلکار محمد اقبال سمیت زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد سے وہ تاحال حال زیر علاج رہے۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے مرحوم ڈی ایس پی احسن ذوالفقار کی نماز جنازہ میں شرکت ، ڈی ایس پی احسن ذوالفقار ، مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ارمغان کے گھر چھاپے کے دوران زخمی ہوئے تھے جو کہ کافی عرصے سے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔
مرحوم کی نماز جنازہ میں کراچی پولیس چیف سمیت دیگر سینیئر افسران ، مرحوم کے اہل خانہ ، عزیز و اقارب اور اہل علاقہ سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی ، اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے مرحوم کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعا کی اور کہا کہ ڈی ایس پی احسن ذوالفقار ایک بہادر ، فرض شناس اور پیشہ ور افسر تھے ، انھوں نے دوران ڈیوٹی جرأت اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی ، ان کی خدمات سندھ پولیس کے لیے قابل فخر ہیں اور جرائم کے خلاف ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ، شہدا کے خون سے ہی صوبے میں امن قائم ہے۔
اس موقع پر آئی جی سندھ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایس پی احسن ذوالفقار کے اہلخانہ کے ساتھ غم کی اس گھڑی میں شریک ہیں ، مرحوم ڈی ایس پی نے ارمغان کیس میں ملزمان کو پکڑا تھا اور اس حوالے سے مزید مقدمہ بھی درج اور دفعات بھی شامل ہونگی ، انھوں نے کہا کہ آج ہی واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کے لیے کمیٹی بناتا ہوں ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اتنے عرصے سے بیماری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، مرحوم ڈی ایس پی کے اہلخانہ سندھ پولیس کا حصہ ہیں ، ملزمان کو سخت سزا ملے گی۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق محکمہ پولیس ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار کی شاندار خدمات ، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے ، انھوں نے دوران سروس نہایت لگن ، دیانتداری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے اور محکمہ پولیس کے وقار میں اضافہ کیا ، خصوصاً ارمغان کیس کی تفتیش کے دوران ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار نے حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اس دوران وہ زخمی بھی ہوئے جو ان کی فرض سے وابستگی اور جرات کی واضح مثال ہے۔
ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار کی خدمات محکمہ پولیس کے لیے قابل فخر ہیں اور انہیں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا ، ڈی ایس پی سید احسن ذوالفقار ایک سینئر پولیس آفیسر کے فرزند تھے پسماندگان میں ایک بیوہ ، 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔
مرحوم ڈی ایس پی احسن ذوالفقار کے برادر نسبتی سہیل خان نے بتایا کہ ڈیفنس میں ارمغان کے بنگلے پر چھاپے کے دوران ان کی ٹانگ پر گولی لگی تھی ، وہ مختلف 4 نجی اسپتالوں میں زیر علاج رہے ، ٹانگ پر گولی لگنے سے زخم کا معاملہ پیچیدہ ہوگیا ، احسن ذوالفقار لیاقت نیشنل اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ پیر کو خالق حقیقی سے جا ملے۔
سہیل خان کے مطابق ڈی ایس پی احسن ذوالفقار ارمغان کیس کے ایک ماہ کے بعد پولیس ریٹائر ہوگئے تھے جبکہ اس واقعے کے بعد سے وہ مسلسل اسپتالوں میں زیر علاج رہے۔