سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے قیام پاکستان سے پہلے کا اراضی ریکارڈ طلب کرلیا
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے روبرو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ پیش ہوئے اور کمیشن کو دستیاب ریکارڈ فراہم کر دیا۔ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے مکمل ریکارڈ جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا بھی کی جس پر کمیشن نے قیام پاکستان سے قبل کا ابتدائی ریکارڈ طلب کر لیا۔
کمیشن نے استفسار کیا کہ گل پلازہ کی اراضی ریوینیو اور میونسپل ریکارڈ میں کس حیثیت سے درج تھی اور آیا یہ زمین میونسپل پراپرٹی، لیز ہولڈ یا کسی گرانٹ کے تحت دی گئی تھی۔
کمیشن نے پوچھا کہ اراضی سے متعلق منتقلی انٹریز اور نقشے کیا ظاہر کرتے ہیں اور 1873 میں کراچی میونسپلٹی جبکہ 1884 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ٹرام وے کے لیے الاٹمنٹ کا مقصد کیا تھا۔
کمیشن نے ہدایت کی کہ اگر کراچی میونسپلٹی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان کوئی معاہدہ موجود ہے تو اس کی نقول پیش کی جائیں اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ آیا اراضی کا معاہدہ ٹرام ویز ایکٹ 1886 کے تحت کیا گیا تھا۔
کمیشن نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1933 کے تحت زمین کی حیثیت، صوبائی حکومت کے ملکیتی حقوق اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے دعوؤں کی نوعیت پر بھی وضاحت طلب کی۔
جوڈیشل کمیشن نے پوچھا کہ آیا بورڈ آف ریونیو نے اس زمین سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن یا گزٹ اندراج جاری کیا، اور کیا کے ایم سی کے ملکیتی دعوؤں کی توثیق یا تردید کسی نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی۔
کمیشن نے یہ بھی واضح کرنے کو کہا کہ موجودہ حیثیت میں یہ زمین صوبائی حکومت کی ملکیت ہے یا کے ایم سی کے پاس بطور ٹرسٹ ہے یا مکمل میونسپل ملکیت ہے۔
کمیشن نے مزید ہدایت کی کہ قیام پاکستان سے قبل اس نوعیت کی اراضی کو بمبئی لینڈ ریونیو کوڈ 1879، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1933 اور سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت کس طرح ٹریٹ کیا جاتا تھا، اس کی بھی وضاحت دی جائے۔
کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا بورڈ آف ریونیو نے کبھی گل پلازہ کی زمین کے استعمال کا گرانٹ شرائط کے مطابق آڈٹ یا جائزہ لیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے تمام متعلقہ ریکارڈ یکم اپریل تک کمیشن سیکریٹریٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔