سندھ حکومت کا امتحانات میں نقل کی روک تھام کیلئے جدید سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ
سندھ حکومت نے امتحانات میں نقل کی روک تھام کیلئے جدید واٹر مارکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس سسٹم سے پیپر آؤٹ کرنے والوں کا فوری سراغ لگایا جاسکے گا۔
وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز اسماعیل راہو کی زیر صدارت سندھ بھرمیں نئے تعلیمی سال کے امتحانات کی تیاریوں سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز نے شرکت کی۔
اجلاس میں امتحانی مراکز کی سیکیورٹی، فرنیچر، پینے کے پانی اور نقل کی روک تھام سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی اور بجلی و دیگر بنیادی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امتحانی مواد کی خریداری، ٹینڈرز اور بجٹ کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر سندھ بھر میں امتحانات اپنی مقررہ تاریخوں پر ہی ہوں گے۔ صوبے بھر میں آئندہ ماہ 7 اپریل سے نویں تا بارہویں جماعت کے 13 لاکھ 53 ہزار 258 طلبہ امتحانات میں حصہ لیں گے۔ سندھ بھر میں 16 سو سے زائد امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
وزیرتعلیمی بورڈز نے بتایا کہ کراچی میں 11ویں تا 12ویں کے امتحانات 25 اپریل جبکہ نویں تا دسویں جماعت کے 7 اپریل سے شروع ہونگے، سکھر ڈویژن میں نویں تا دسویں 30 مارچ اور گیارہویں تا بارہویں جماعت کے امتحان 15 اپریل سے شروع ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی مراکز اور ویجیلنس ٹیموں کی نگرانی کیلیے صوبائی سطح پر سیکریٹری بورڈز کے دفتر میں شکایتی سیل قائم کیا جائے گا۔
اسماعیل راہو نے ہایت دی کہ امتحانات کے شفاف اور بروقت انعقاد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، اگر کہیں بھی پیپر لیک ہوا تو بورڈز چیئرمینز کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔ سکھر اور شہید بینظیر آباد ڈویژن تمام امتحان ای مارکنگ کے تحت لیں گے، لاڑکانہ بورڈ نویں تا 12 ویں جماعت تک فی الحال 8 پیپر ای مارکنگ کے تحت لیں گے، کراچی میں نویں کے تمام اور میٹرک کے صرف 2 پیپر ای مارکنگ کے ذریعے لئے جائیں گے۔
وزیر تعلیمی بورڈز نے کہا کہ تمام امتحانی مراکز میں پینے کے پانی، فرنیچر اور دیگرسہولیات سے متعلق مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔ متعلقہ اداروں کو امتحانی مراکز میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے حوالے سے خطوط ارسال کیے جائیں۔ تمام امتحانی سینٹرز پر موبائل فونز لانے پر پابندی، اور مراکز میں 144 نافذ کی جائے گی۔