بائی پولر ڈس آرڈر: کبھی خوشی، کبھی غم
بین الاقوامی اداروں کی ٹیم نے پہلی مرتبہ بائی پولر مرض کے لیے خون کا ٹیسٹ وضع کیا ہے۔ فوٹو: فائل
ڈچ مصور ونسنٹ وین گوخ نے ساری زندگی شدید ذہنی دباؤ اور جذباتی بے چینی میں گزاری۔ وہ کام کرنے پر آتے تو جسمانی ضرورتوں (مثلا نیند، بھوک، آرام) سے بے نیاز کام کرتے ہی چلے جاتے اور کبھی کبھی صدمے کی سی کیفیت ہوتی۔
اندرونی کشمکس کی یہ دو انتہائیں ان کے فن پاروں میں جابجا جھلکتی ہیں۔ جدید ماہرینِ ذہنی صحت نے اپنی تحقیقات میں ان کے بائی پولر عارضے میں مبتلا ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ اِس عارضے میں ایک طرف متاثرہ انسان اپنے آپ کو بے حد توانا، خوش، غیر حقیقی حد تک خود پسند اور برتر سمجھنے لگتا ہے جبکہ دوسری طرف وہی انسان خود کو سست، مایوس اور ناامید تصور کرتا ہے۔
عالمی ادارہِ صحت کی 2021 میں کی گئی تحقیق کے مطابق دنیا کی کل آبادی کا 0.5 فیصد اس عارضے میں مبتلا تھا۔ اگر اس تناسب کا اطلاق آج 2026 میں دنیا کی آبادی پر کیا جائے تو یہ تعداد کم و بیش چار کروڑ دس لاکھ افراد بن جاتی ہے۔
بائی بولر عارضے کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے ہر سال ونسنٹ وین گوخ کے یومِ پیدائش 30 مارچ کو اس عارضے کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ہم بائی پولر ڈس آرڈر کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے بائی پولر عارضے میں متاثرہ انسان دو پولز یا انتہاؤں شدید خوشی (مینیا) اور شدید افسردگی (ڈپریشن) کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔ شدید خوشی کے دوروں میں انسان ایک غیر معمولی و غیر حقیقی سرشاری، خود پسندی اور خبطِ عظمت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ہر وقت توانا، پرجوش اور خوش فہمی کی حد تک خوش رہتا ہے۔ مریض اس دورے میں خود کو کوئی مقدس ہستی، یا خاص مشن کےلیے بھیجے گئے اوتار کے طور پر تصور کرلیتا ہے۔ ہیجان انگیزی اور تخیل کی بلند پرواز کے سبب تخلیقی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں۔
ونسنٹ وین گوخ کی شدید خوشی کے دوروں میں تخلیق کردہ پینٹنگز مثلا ’ستاروں بھری رات‘ میں شوخ رنگوں کا استعمال نظر آتا ہے۔ انہوں نے تقریباً 1200 فن پارے مکمل کیے جن میں سے اکثر محض 2 سال کے قلیل عرصے میں تخلیق کیے گئے۔
شدید خوشی کی ایک قدرے خفیف حالت کو ہایپو مینیا کہتے ہیں۔ اس میں انسان اپنے آپے سے باہر نہیں ہوتا، علامات اور دورانیہ بھی کم ہوتا ہے اور قوتِ فیصلہ کسی حد تک قائم رہتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف شدید افسردگی کے دوروں میں انسان بے حد مایوسی، ناامیدی اور دل گرفتگی محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے جیسے اس کا دل ہر چیز سے اٹھ گیا ہے اور اب کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ کوئی کام کرنے کا دل نہیں کرتا۔ اسے دنیا کی بے توجہی اور اپنی کم مایئگی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ بعض افراد ان دوروں میں تنہائی پسند ہوجاتے ہیں۔
شدید افسردگی کے ان دوروں کا رنگ ونسنٹ وین گوخ کی ایک اور پینٹنگ’ایٹ ایٹرنیٹی گیٹ‘ میں جھلکتا ہے، جس میں انہوں نے نہایت خوبصورتی سے تنہائی اور دل گرفتگی کے عالم کو کینوس پر منتقل کیا ہے۔
طبی زبان میں بائی پولر عارضے کی تین اقسام میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔ بائی پولر ون، بائی پولر ٹو اور سائیکلو تھائیمیا۔ سات دن یا اس سے زیادہ دورانیہ کے شدید خوشی کے دورے کی صورت میں ماہرین صحت بائی پولر ون تشخیص کرتے ہیں۔ بائی پولر ون میں شدید افسردگی کا دورہ پڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایمرجنسی کی صورت حال بھی ہوسکتی ہے اور اسپتال میں داخلے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ بائی پولر ٹو میں ہایپو مینیا کے ساتھ شدید افسردگی کا دورہ پڑتا ہے۔ سائیکلو تھائیمیا میں علامات کی شدت کم مگر دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔
بائی پولر عارضے میں مبتلا انسان کو بروقت مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے، وگرنہ وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اس عارضے کی تشخیص و علاج کا اختیار صرف مستند ڈاکٹر بالخصوس ایک نیوروفزیشن کے پاس ہوتا ہے۔ البتہ ایک مستند ماہر نفسیات بھی مختلف تھراپیز کے ذریعے علاج میں معاونت اور متاثرہ انسان کے عزیز و اقارب کو عارضے سے متعلق مفید معلومات فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا بائی پولر کے عالمی دن کی مناسبت سے بطور ماہر نفسیات میری کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں۔
1۔ اگر آپ کو اپنے یا کسی انسان کے اندر مذکورہ بالا علامات نظر آنے لگیں تو فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع کیجیے۔
2۔ دورانِ علاج ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ کیونکہ ذہنی عوارض کے علاج میں ناغہ یا بے قاعدگی سے خطرناک علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔
3۔ متوازن غذا، پرسکون نیند اور ہلکی پھلکی ورزش علاج میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
4۔ اپنی جیب میں ہمیشہ اپنے گھر والوں یا چند قابل اعتبار عزیز و اقارب کے کارڈز یا رابطہ نمبر رکھیں اور اپنے بینک کارڈز والٹ سے نکال کر کسی محفوظ جگہ پر رکھ دیں۔ کیونکہ شدید خوشی کے دورے میں اکثر متاثرہ انسان بلا سوچے سمجھے پیسے خرچ کرنے لگتا ہے۔
5۔ متاثرہ انسان کے آس پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جس سے وہ خود کو نقصان پہنچا سکے یا خودکشی کا سوچ سکے۔ سماجی رابطہ اور اچھے دوستوں کی صحبت بھی بہت ضروری ہے۔
اللہ پاک نے انسان کو ایک خوبصورت مخلوق بنایا ہے۔ کسی بھی عارضے یا بیماری میں مبتلا ہوجانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ وہ انسان بے وقعت ہوگیا۔ بلکہ وہ تو اور بھی زیادہ توجہ کے لائق ہوجاتا ہے۔ ایسے متاثرہ انسانوں کو خود سے الگ نہ کیجیے۔ اْن کے ساتھ نرمی سے پیش آیئے کیونکہ غیرمناسب رویے ایسے انسان کو جیتے جی ہی ماردیتے ہیں۔ اللہ سب انسانوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔