داتا دربار توسیع منصوبہ، مزار کی اپگریڈیشن اور جدید سہولیات پر کام تیزی سے جاری
برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار، داتا دربار، کی توسیع اور تزئین و آرائش کا ایک بڑا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
حکام کے مطابق مزار کے مرکزی گنبد کی تعمیراور کیلگرافی کا کام ایک سال میں مکمل ہوگا۔ جدید طرف کی ہائیڈرولک چھتریاں 6 ماہ تک درآمد کرلی جائیں گی
سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر پنجاب اوقاف و مذہبی امور ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ تقریباً 6.3 ارب روپے مالیت کے اس منصوبے کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے تحت بیرونی ترقیاتی کام، اندرونی تزئین اور مسجد و دیگر سہولیات کی توسیع شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کربلا گامے شاہ سے آنے والی سڑک کی بہتری، پیدل راستوں کی تعمیر اور ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے پر کام جاری ہے، جسے ٹیپا اور ایل ڈی اے مکمل کر رہے ہیں۔
مزار کے سامنے سابقہ پرندہ مارکیٹ کی جگہ کو پارکنگ میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں 150 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی گنجائش ہوگی، جبکہ پارکنگ سے مزار تک محفوظ رسائی کے لیے پیدل انڈر پاس بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق دوسرے مرحلے میں مرکزی مزار کی خوبصورتی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں مدینہ فاؤنڈیشن کے تعاون سے بڑا گنبد اور خطاطی کا کام جاری ہے۔
اس میں قرآن کی آیات اور احادیث کو شامل کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ماہرین اور علماء سے مشاورت کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تیسرے اور اہم ترین مرحلے میں جامع مسجد، سماع ہال اور کھلے صحن کی توسیع شامل ہے،تین اطراف سے تقریبا 28 کنال رقبہ مزید شامل کیا جارہا ہے جس سے مسجد اور دربارکا مجموعی رقبہ 85 کنال ہوجائیگا۔
مسجد کی گنجائش ایک ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار نمازیوں تک کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔
مزید برآں، زائرین کے لیے جدید طرز کے لنگر خانے، بیٹھنے کے وسیع مقامات اور مذہبی تقریبات کے لیے جگہیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق اس حصے کی تکمیل میں تقریباً ایک سال لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے پیش نظر ہائیڈرولک کنوپیاں نصب کرنے کا ایک الگ منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس کی لاگت 2.8 ارب روپے ہے اور اسے جرمنی سے درآمد کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی منظوری کے بعد چھ ماہ میں تکمیل متوقع ہے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق تعمیراتی کام کے باوجود مزار کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے اور ہفتہ وار نذرانہ 25 لاکھ سے بڑھ کر 46 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔
نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سی سی ٹی وی اور مرکزی کنٹرول سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جسے دیگر مزارات تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب زائرین نے جاری ترقیاتی کام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ لاہور کے رہائشی محمد عمران نے کہا کہ یہاں سہولیات بہتر ہونے سے زائرین کو بڑی آسانی ہوگی اور رش میں کمی آئے گی۔
فیصل آباد کی رہائشی عائشہ بی بی کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے الگ انتظامات ایک مثبت قدم ہے جس سے عبادت میں سہولت ہوگی۔
ملتان سے آئے غلام مصطفیٰ نے کہا کہ داتا دربار ہمیشہ روحانی سکون کا مرکز رہا ہے، اس کی بہتری سے عقیدت مندوں کو مزید سہولت ملے گی۔
داتا دربار صدیوں سے جنوبی ایشیا میں صوفی روایت کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں ہر روز ہزاروں افراد حاضری دے کر روحانی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ مزار نہ صرف مذہبی عقیدت بلکہ رواداری، محبت اور انسان دوستی کے پیغام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔