خوشامد کے جھولے

یہ وہ ظالم گروہ ہے جس نے انسانیت کو انسان رہنے نہیں دیا

کچھ لوگوں نے ’خوشامد‘ کے فن کو جِلا بخشتے ہوئے اسے ایک بزنس کا درجہ دے دیا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

دنیا کی تاریخ میں اگر ایجادات کا تذکرہ چھڑے تو لوگ پہیہ، انجن اور انٹرنیٹ جیسی معمولی چیزوں کا نام لے کر اپنی علمی پیاس بجھا لیتے ہیں، حالانکہ انسانی ترقی کے کٹھن سفر میں جس ’’اوزار‘‘ نے خاموشی سے سب سے زیادہ وزن اٹھایا ہے، وہ انجن نہیں بلکہ ’’چمچہ‘‘ ہے۔

یہ وہ جادوئی آلہ ہے جو باورچی خانے میں تو صرف سالن چکھنے کے کام آتا ہے لیکن سماجی اور سیاسی کڑاہی میں یہ عقل کو نیم پکا کر کے اس پر ’’عظمت‘‘ کا ایسا تڑکا لگاتا ہے کہ اچھے بھلے انسان کو اپنی اصلیت بھول جاتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ’’چاپلوسی‘‘ عقل کا وہ جنازہ ہے، جسے اٹھانے کے لیے کندھے ہمیشہ تیار ملتے ہیں اور ان کندھوں پر سوار چمچوں کا اپنا کوئی وزن نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ ’’بڑے‘‘ کے وزن سے پہچانے جاتے ہیں۔

یہ وہ عجیب الخلقت آئینہ ہیں جو کسی بھی بدصورت کو یوسفِ ثانی اور پیدائشی احمق کو بقراط و افلاطون بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کا ’’بڑا‘‘ جوشِ جذبات میں کہہ دے کہ ’’بھئی! آج تو سورج مغرب سے نکلا ہے‘‘، تو چمچہ اپنی بتیسیاں نکال کر فوراً تصدیق کرے گا کہ ’’قبلہ! میں تو خود صبح سے حیران تھا کہ آج دھوپ اتنی ٹھنڈی اور خوشگوار کیوں ہے، اب سمجھ آیا کہ یہ کرشمہ تو سورج کے مغرب سے برآمد ہونے کا ہے‘‘۔

چمچوں کی اس کہکشاں میں جب ہم ذرا آگے بڑھتے ہیں تو ایک اور بھاری بھرکم اور پھیلی ہوئی مخلوق سے سامنا ہوتا ہے جسے عرفِ عام میں ’’کڑچھا‘‘ کہا جاتا ہے۔ کڑچھا دراصل ان تمام چھوٹے موٹے خوشامدیوں کا ’’سردار‘‘ یا یوں کہیے کہ ’’چیف آف اسٹاف‘‘ ہوتا ہے، جو تعریف کے قطرے نہیں بلکہ پوری کی پوری بالٹی بھر کر صاحب کے سر پر انڈیل دیتا ہے۔

کڑچھے کا کام صرف خوشامد کرنا نہیں بلکہ وہ ان ننھے منے چمچوں کی نگرانی بھی کرتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی سچائی کی کوئی ہلکی سی ہوا صاحب کے عالی مقام تک نہ پہنچ جائے۔ جہاں کوئی سچ بولنے کی جسارت کرتا ہے، کڑچھا اسے ’’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘ ثابت کرکے وہیں دفن کردیتا ہے۔

یہی وہ کڑچھے ہیں جنہوں نے تاریخ کے بڑے بڑے بتوں کو یہ یقین دلا دیا کہ وہ زمین پر خدا کے سائے ہیں، حالانکہ وہ بیچارے سائے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔

خوشامد کے اس میلے میں اب ذکر ہو اس ’’مالشیے‘‘ کا جو اس فن کا عملی اور جسمانی ایڈیشن ہے۔ یہ وہ ہنرمند ہے جو صاحب کے کندھے اور پیر دباتے دباتے ان کے دماغ کی بھی ایسی مالش کرتا ہے کہ تھکا ہوا وجود خود کو جنگل کا شیر سمجھنے لگتا ہے۔ جہاں چمچہ زبان کا سہارا لیتا ہے، وہاں مالشیا اپنے ہاتھوں کے جادو سے یہ باور کراتا ہے کہ حضور کی طاقت لا محدود ہے۔

یہ وہی کردار ہے جو کبھی بادشاہوں کے حمام اور نوابوں کے حجروں کی زینت ہوا کرتا تھا اور آج بھی نئے ناموں کے ساتھ ہر بڑے دفتر کی کرسی کے پیچھے دبے پاؤں موجود ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں ان کے لیے الگ الگ القابات رائج رہے ہیں، کوئی انہیں ’’جی حضوریہ‘‘ کہتا ہے، کوئی ’’درباری‘‘ تو کوئی ’’قصیدہ گو شاعر‘‘۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ حقیقت کو سات پردوں میں چھپا کر ’’بڑے‘‘ کو رستمِ زماں ثابت کیا جائے، چاہے وہ رستم بیچارہ اپنے وزن سے خود ہی کیوں نہ دب رہا ہو۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جتنے بھی خوشامد پسند لوگ گزرے ہیں، وہ کسی دشمن کی تلوار سے نہیں بلکہ انہی چمچوں اور کڑچھوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوئے۔ یہ چمچے وہ مکھن لگاتے ہیں کہ ممدوح کو اپنی زمین پیروں تلے سے کھسکتی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ وہ کم بخت ہیں جو بڑے آدمی کو آسمان کی بلندیوں پر لے جا کر اس وقت ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں جب نیچے گرنے کا مقام قریب آجاتا ہے۔

ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ جب ’’بڑا‘‘ زوال کی کھائی میں گر رہا ہوتا ہے، تو یہی چمچے کسی دوسری ’’دیگ‘‘ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور پیچھے رہ جاتا ہے وہ شخص جو ان کی جھوٹی تعریفوں کے نشے میں خود کو ناگزیر سمجھ بیٹھا تھا۔ یزید کے دربار سے لے کر ہٹلر کے جنون تک، اور مغلوں کے زوال سے نوابوں کی بربادی تک، ہر جگہ ان چمچوں نے ہی اپنے آقاؤں کو اصلیت سے دور رکھ کر ان کی رسوائی کا سامان کیا۔ یہ وہ ظالم گروہ ہے جس نے انسانیت کو انسان رہنے نہیں دیا اور ’’بڑوں‘‘ کو ان کی اوقات سے اتنا بڑا دکھایا کہ آخرکار وہ اپنی ہی بڑائی کے بوجھ تلے دب کر تاریخ کا کوڑا بن گئے۔

خلاصہ کلام یہ کہ چمچہ دیگ کے ساتھ، مالشیا جسم کے ساتھ، اور چاپلوس عقل کے ساتھ ہوتا ہے، اور جب تک یہ تکون سلامت ہے، دنیا کی دیگ میں انصاف کا سالن کبھی نہیں پکے گا اور خوشامد پسند یونہی ذلیل ہوتے رہیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story