سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا سروسز اسپتال سے کوئی تعلق نہیں، اسپتال انتظامیہ
فوٹو: ایکسپریس نیوز
سروسز اسپتال اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے سوشل میڈیا پر اسپتال کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو کو بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی رپورٹ میں واضح ہوگیا کہ مذکورہ ویڈیو کا سروسز اسپتال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پرنسپل سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر زہرہ اور ایم ایس سروسز اسپتال ڈاکٹر رانا خرم آفتاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں اسپتال کے حوالے سے چلنے والی حالیہ ویڈیو کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور انکوائری رپورٹ میں ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ویڈیو سروسز اسپتال کی نہیں ہے۔
ڈاکٹر زہرہ نے اسپتال کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا کہ سروسز اسپتال پر عوام کا اعتماد مثالی ہے اور گزشتہ روز 7 ہزار سے زائد مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جن میں 2100 سے زائد ایمرجنسی کیسز تھے جبکہ 300 سے زائد آپریشنز کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ غریب مریضوں کو ہر ممکن ریلیف دیا جا رہا ہے اور عید کے ایام میں فالج کے مریضوں کو لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی انجکشنز بالکل مفت فراہم کیے گئے تاکہ کوئی غریب مریض خود کو بے بس نہ سمجھے۔
ڈاکٹر زہرہ نے میڈیا پر زور دیا کہ کسی بھی خبر کو چلانے سے پہلے اس کی تصدیق لازمی کریں کیونکہ ایک غلط خبر پورے محکمے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن تھیٹر میں مریض اور ڈاکٹر کے درمیان صرف خدا کی ذات ہوتی ہے، اس لیے اس مقدس رشتے اور اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، اگرچہ سسٹم میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے اور ہم اس کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔
اس موقع پر ایم ایس سروسز اسپتال ڈاکٹررانا خرم آفتاب نے وضاحت کی کہ جیسے ہی مبینہ ویڈیو سامنے آئی، فوری طور پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور انکوائری رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو سروسز اسپتال کی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور شٹ ڈاؤن کے باوجود اسپتال میں علاج معالجے کا عمل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا اور تمام مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں
اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ عوامی خدمت کا سفر جاری رہے گا اور کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوں گے۔