جمعہ مبارک کہنے کی روایت

لوگ ایک دوسرے کو نیک کام سمجھ کر یہ پیغام بھیجتے ہیں اور خود کو ثواب کا حقدار قرار دیتے ہیں

آج کل ’’جمعہ مبارک‘‘ کہنے کا رواج بہت عام ہوچکا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو قریب قریب نیک کام سمجھ کر یہ پیغام بھیجتے ہیں اور اس کے نتیجے میں خود کو ثواب کا حقدار قرار دیتے ہیں۔

اس جمعہ مبارک کے بڑھتے ہوئے رحجان کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔

عام طور پر کہتے ہیں کہ ایک نسل کی ’جہالت‘ دوسری نسل کی ’روایت‘ اور تیسری نسل کا ’عقیدہ‘ بن جاتی ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کےلیے میں آپ کو بت پرستی کے آغاز کی طرف لے جانا چاہوں گا۔

کیا آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں بت پرستی کا آغاز کیسے ہوا تھا؟ اس بات کا جواب جاننے کےلیے جب میں نے گوگل سے استفسار کیا تو مجھے جو جواب ملا وہ میرا پہلے بھی ایک کتاب میں پڑھا ہوا تھا۔ کتاب کے مطابق وہ ہستیاں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت شیث علیہ السلام تھے۔ حضرت شیث علیہ السلام کہ جن کو حضرت آدم علیہ السلام کے بعد نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا اور شیث کے معنی ’’اللہ کا عطیہ‘‘ یا ’’بیج‘‘ کے ہیں۔ اور ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد شیطان نے لوگوں سے ان کے مجسمے یا بت بنوائے تھے۔

گوگل کے مطابق بت پرستی کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں نیک لوگوں کی وفات کے بعد ہوا۔ جب لوگ ان نیک بزرگوں کی وفات سے مغموم رہنے لگے تو شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈال کر ان بزرگوں کی تعظیم کے بہانے لوگوں سے ان کے مجسمے، بت یا پتلے بنانے پر اکسایا۔ شروع میں لوگ وہاں پر ان مجسموں کے سامنے صرف تعظیم کےلیے حاضر ہوتے تھے اور ان کے وسیلے سے اللہ کے حضور دعائیں کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ وقت گزرنے پر جب ابتدائی نسل دنیا سے چلی گئی تو آنے والی نسلوں نے ان بتوں کی ہی عبادت شروع کردی اور یوں دنیا میں بت پرستی کا آغاز ہوا۔

یہاں یہ سوال بھی آتا ہے کہ قوموں نے اپنے لیے ہفتے میں کسی ایک دن کا انتخاب کیسے کیا؟ کتابوں میں درج ہے کہ یہود نے اپنے لیے ہفتے کا دن منتخب کیا، حالانکہ ان کےلیے بھی اللہ نے جمعہ کا دن مقرر کیا تھا لیکن انھوں نے اپنی شرارت سے اپنے لیے ہفتے کے دن کا انتخاب کیا اور اس کو یوم سبت کا نام دیا۔ ان کے عقائد کے مطابق اللہ نے چھ دنوں میں کائنات بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔ اس لیے انھوں نے ہفتے کے دن کو منتخب کیا۔ ان کے عقائد کے جواب میں سورہ البقرہ میں آیت الکرسی کافی ہے۔ نصارٰی نے اتوار کو چنا اور مسلمانوں کےلیے جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا۔

اب ہم جمعے کی اہمیت پر آتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ بات کہ جمعہ فرض کب ہوا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار کب اور کہاں نماز جمعہ ادا کی تھی؟ نماز جمعہ اگرچہ فرض مکہ مکرمہ میں ہوئی لیکن اس کی ادائیگی کا باقاعدہ آغاز مدینہ منورہ میں ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا سے مدینہ ہجرت کے دوران، ربیع الاول سنہ 1 ہجری کو مدینہ کے قریب ’’وادی رانوناء‘‘ میں بنی سالم بن عوف کی بستی میں پہلا جمعہ باجماعت ادا کیا تھا۔
جمعہ کو سید الایام بھی کہا گیا ہے یعنی دنوں کا سردار اور اس نام سے قرآن میں سورہ الجمعہ بھی ہے۔ ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو (سورہ الجمعہ)‘‘۔

جمعہ کے دن کے مسنون اعمال میں غسل کرنا، ناخن تراشنا، مسواک کرنا، عمدہ اور پاک و صاف لباس پہنا اور خوشبو لگانا شامل ہیں۔ جمعہ کا دن مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے، جو امت مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ جمعہ کی اہمیت اور افادیت بھی بھرپور انداز میں آپ کے سامنے پیش کی جائے۔ اب ہم اس سوال کی جانب آتے ہیں کہ کیا جمعہ مبارک کہنا بدعت ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ بدعت کیا ہے؟ بدعت ہر اس کام کو کہتے ہیں کہ جو قرآن، سنت اور صحابہ سے ثابت نہ ہو اور اس پر عمل کے امکان کے باوجود تابعین اور تبع تابعین نے اسے اختیار نہ کیا ہو اور ہم اسے دین سے ثابت شدہ اور ثواب کا کام سمجھ کر کریں بلکہ اس کو لازم سمجھیں اور نہ کرنے والے کو مورد طعن ٹھہرایا جائے تو اس کو بدعت کہتے ہیں۔

اس پر بنوری ٹاؤن کا ایک فتویٰ بھی موجود ہے کہ اگر جمعہ کی مبارکباد دینے کا مطلب جمعہ کے بابرکت ہوجانے کی دعا دینا ہے تو اس کو بدعت نہیں کہتے کیونکہ برکت والے دن کی دعا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اب اس کے بعد جمعہ مبارک ایک بالکل انفرادی فعل بن جاتا ہے کہ کون کس کو کس نیت سے بھیج رہا ہے اور سمجھنے والا اس کو کیا سمجھ رہا ہے؟ یہ دونوں کی اپنی نیت اور سمجھ پر منحصر ہے۔ یوں دیکھنے میں یہ دونوں افعال بظاہر انفرادی بھی ہیں اور جڑے ہوئے بھی ہیں، کیونکہ ایک عمل کے ردعمل کے طور پر دوسرا ہوا ہے۔

ہم کوئی بھی کام کتنی ہی اچھی نیت سے کریں لیکن مستقبل میں وہ کیا شکل اختیار کرلے گا نہ اس پر ہمارا کوئی اختیار اور نہ ہی ہم اس کو اپنے قابو میں رکھ سکتے ہیں لیکن ہاں کسی کام کو شروع کرتے ہوئے ہمیں اس کے تمام متوقع انجام، مضمرات، ثمرات، اثرات اور عوامل کو مدنظر رکھنا بھی ہماری ہی ذمے داری ہے۔

آخر میں ایک قصے کی جانب اشارہ اور اختتام۔ اگر ہم نے تمام عوامل کو نظر میں نہیں رکھا تو پھر یہ بالکل اسی طرح ہوگا کہ جس میں شیطان اپنی حرکتوں کی ذمے داری لینے کے بجائے یہ کہتا ہے کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا، میں نے تو بس انگلی سے دیوار پر شہد لگایا تھا بعد جو کچھ ہوا وہ میں نے نہیں کیا تھا۔ دنیا میں ہونے والے بہت برے کام بھی بہت اچھی نیت سے شروع کیے گئے تھے لیکن وقت اور حالات نے انھیں کچھ کا کچھ کردیا۔ اب جب اگلی دفعہ جمعہ آئے یا کوئی آپ کو جمعہ مبارک کا پیغام بھیجے تو اس کا بہت سوچ سمجھ کر اور ذمے داری سے جواب دیجیے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story