موٹرسائیکل سواروں کے ماہانہ فیول اخراجات میں 4500روپے اضافہ، رکشے اور بائیکیا کا سفر بھی مہنگا ہوگیا
پٹرول کی قیمت میں اضافہ کے بعد رکشہ اور موٹر سائیکل پر از خود ٹراسپورٹ سروس فراہم کرنے والوں نے کرایوں میں اضافہ کردیا۔
پٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکل سواروں کا یومیہ فیول خرچہ 150 روپے بڑھ گیا جس سے انکے ماہانہ ٹرانسپورٹیشن اخراجات میں 4500 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ایکسپریس نے پیٹرولیم منصوعات میں اضافے کے بعد شہریوں کو درپیش مشکلات پر رپورٹ مرتب کی ہے۔
قیوم آباد پر 6 سیٹر رکشہ کے ڈرائیور رستم احمد نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کے بعد کرایوں 20 سے 30 روپے کا اضافہ ہوا ہے، کم فاصلے کا کرایہ 40 روپے، درمیانی فاصلے کا کرایہ 70 اور زیادہ فاصلے کا کرایہ 100 سے زائد ہوگیا ہے۔ ابتدائی سے آخری اسٹاپ تک 120 سے زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کرایوں کا غیر اعلانیہ اطلاق ہوگیا ہے۔
تین سیٹر رکشہ کے ڈرائیور ندیم اختر نے بتایا کہ پیٹرول کی فی لیٹر میں اضافہ کے بعد کم فاصلے کے کرایہ 50 درمیانی فاصلے کے کرائے میں 100 روہے اور طویل فاصلے کے کرائے میں 150 روپے سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ رکشے فیملی اور زیادہ تر خواتین استعمال کرتی ہیں۔
کراچی میں آمدورفت کا بڑا ذریعہ موٹر سائیکلز ہیں۔ موٹر سائیکل پر سرجانی ٹاوٴن سے کورنگی فیکٹری میں کام کرنے والے مشین مین سعود شاہد نے بتایا کہ ان کو روزانہ سفر کے لیے دو لیٹر پیٹرول لگتا ہے، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کے بعد یومیہ فیول اخراجات میں تقریباً 280 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے، بیشتر موٹر سائیکل سواروں کے بجٹ میں 8400 روپے ماہانہ اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن موٹر سائیکل سواروں کا یومیہ پیٹرول دو لیٹر لگتا ہے۔ ان کا ماہانہ بجٹ 27600 روپے ہوگیا ہے۔ موٹر سائیکل کی آئل اور دیگر اخراجات ملا کر یہ خرچہ 30 ہزار روپے ہوگیا ہے۔ اب جن کی تنخواہ 35 یا 40 ہزار روہے ہے وہ کس طرح اپنے ٹرانسپورٹیشن اخراجات پورے کریں گے؟۔
ایم اے جناح روڈ پر فیول پمپ کے انچارچ عبدالرحمٰن نے بتایا کہ موٹر سائیکل سوار کی پہلی ترجیح کم سفر کے لیے 100 روہے پیٹرول ڈلوانا ہوتا تھا۔ا ب 100 روپے پیٹرول ڈلوانے کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ اب کم ازکم 200 سے 250 روپے کا پٹرول ڈلوانا ہوگا۔
ٹاور پر نجی شعبے میں ملازمت کرنے والی خاتون ماہین افتخار نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت اور کرایوں میں اضافے کے بعد یومیہ خرچہ 150 روپے بڑھادیا گیا ہے۔ اس طرح ماہانہ اخراجات میں 4500 روپے بڑھ گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن خرچے تو بڑھ گئے ہیں لیکن تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، حکومت نتخواہ میں کم ازکم پانچ سے دس ہزار روپے اضافہ کرے۔
موٹر سائیکل پر ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے والے نوجوان سیف محمود نے بتایا کہ پیٹرول بڑھنے سے کرایہ میں کم ازکم 70 سے 150 روپے فاصلے کے مطابق اضافہ ہوگیا ہے۔ لوگوں کی ترجیح پبلک ٹرانسپورٹ ہے۔
مزدور رہنما ناصر منصور نے بتایا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے اس وقت سفر کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے تنخواہوں اور ماہانہ اجرت میں 30 سے 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔
موسیٰ کالونی کے رہائشی موسیٰ چاچا نے بتایا کہ وہ تین ہٹی پل پر پلوں کے ٹھیلے پر کام کرتے ہیں، 700 روپے اجرت ہے۔ کرایہ بڑھنے کی وجہ سے مجھ جیسا طبقہ جو قریب میں رہتا ہے۔ اب وہ پیدل سفر کو ترجیح دے رہا ہے۔ اگر فٹ پاتھ پر تجاویزات نہ ہوں تو لوگ باآسانی پیدل سفر کرسکتے ہیں۔
حکومت سندھ کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کم آمدنی والے افراد پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے، حکومت سندھ ریلیف کے لیے اقدامات کررہی ہے۔