پاکستان کا متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر قرض واپس کرنے کا فیصلہ
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالرکا قرض رواں ماہ واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اسلام آباد میں اینکرپرسنز کو اپنے دفتر میں بریفنگ کے دوران کابینہ کے سینئر وزیر نے کہا کہ پاکستان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ رواں ماہ متحدہ عرب امارات کا 3.5 ارب ڈالر قرض واپس کردیا جائے گا، جو ایک ماہ کے لیے رول اوور ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت نے فیصلہ کیا کہ متحدہ عرب امارات سے حاصل کیا گیا قرض مکمل طور پر واپس کیا جائے گا۔
حکومت کے ایک اور عہدیدار کے مطابق متحدہ عرب امارات کو واپس کیے جانے والے 3.5 ارب ڈالر میں 450 ملین ڈالر کا قرض 97-1996 میں لیا گیا تھا جو پاکستان 30 سال بعد اگلے ہفتے واپس کر رہا ہے۔
کابینہ کے وزیر نے کہا کہ رقم واپس کی جارہی ہے جبکہ چند حکومتی عہدیداروں نے بتایا کہ مشاورت ہو رہی ہے کہ اس میں سے کچھ رقم سرمایہ کاری کی مد میں منتقل کی جائے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات اس سے پہلے قرض رول اوور کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا تاہم امریکا-اسرائیل-ایران جنگ کی وجہ سے یہ عمل تیزی سے آگے بڑھنے لگا اور اب قرض کی واپسی کے لیے تیاریوں کی صورت میں مکمل ہو رہا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے رواں برس جنوری میں رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایک ارب ڈالر کے دو قرض رول اوور کیے ہیں جو 16 اور 22 جنوری کو صرف ایک مہینے کے لیے رول اوور ہوئے تھے، پاکستان نے دو سال کے لیے قرض پر 3 فیصد شرح سود کے حساب رول اوور کرنے کی درخواست کی تھی لیکن متحدہ عرب امارات نے پرانے شرایط پر 6.5 فیصد شرح سود پر رول اوور کیا تھا۔
یاد رہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالر کے قرض کے لیے پاکستان کو متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے اگلے سال ستمبر میں پروگرام کے مکمل ہونے تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں مشترکہ طور پر 12.5 ارب ڈالر ڈپازٹس برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔