ایران نے امریکا کی 48 گھنٹے کی جنگ بندی تجویز مسترد کر دی
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ہتھیار ڈالنے تک کوئی معاہدہ نہیں ہوگا
ایران نے امریکا کی 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہ سیزفائر ہماری شرط پر ہوگا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایران نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ایران صرف مستقل اور جامع جنگ بندی کو قبول کرے گا عارضی سیز فائر قابل قبول نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کے باعث ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی ایران کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ امریکا کی کچھ شرائط کو ضرورت سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کی سطح صفر ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے تاحال امریکا کی 15 نکاتی تجویز پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فوری طور پر کسی پیش رفت کا امکان کم ہے۔