ایم کیو ایم نے میٹرک بورڈ کراچی میں جونیئر ملازم کی تعیناتی کو تعلیمی قتلِ عام کے مترادف قرار دے دیا

ایم کیو ایم اراکینِ سندھ اسمبلی نے کراچی کے خلاف پیپلز پارٹی کی متعصبانہ ذہنیت کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے میٹرک بورڈ کراچی میں امتحانات سے محض 3 روز قبل لاڑکانہ بورڈ کے جونیئر ملازم احمد خان چھٹو کی بطور ناظمِ امتحانات غیر قانونی تعیناتی کو تعلیمی قتلِ عام اور طلبہ کے ساتھ دہشت گردی کے مترادف قرار دے دیا۔

ایم کیو ایم اراکینِ سندھ اسمبلی نے اسے کراچی کے خلاف پیپلز پارٹی کی متعصبانہ ذہنیت کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ بیان میں حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ کراچی کے 4 لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل کو ایک ایسے جونیئر انسپکٹر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جسے امتحانی عمل کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں، بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا کراچی کے لاکھوں طلبہ کو جان بوجھ کر فیل کرنے اور یہاں کے تعلیمی ڈھانچے کو ملیا میٹ کرنے کا ٹھیکہ لاڑکانہ سے درآمد شدہ مہروں کو دے دیا گیا ہے؟

محکمہ بورڈز و جامعات کا یہ اقدام محض ایک تبادلہ نہیں بلکہ کراچی کے میرٹ پر براہِ راست خودکش حملہ ہے، ارکانِ اسمبلی ایم کیو ایم پاکستان نے انکشاف کیا کہ یہ تعیناتی کسی ضابطے یا ضرورت کے تحت نہیں بلکہ سسٹم کے اہم کارندوں کی جانب سے بھاری مالی فوائد اور ٹینڈرز کی بندر بانٹ کے لئے کی گئی ہے۔

حق پرست اراکینِ اسمبلی نے کہا کہ جس شخص کو ماضی میں انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی سے اس کی بدترین کارکردگی اور غیر قانونی تعیناتی پر احتجاجاً نکالا گیا تھا اسے دوبارہ کراچی پر مسلط کرنا ثابت کرتا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے اداروں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتی ہے۔

متحدہ اراکینِ سندھ اسمبلی نے کہا کہ جب تک تعلیمی بورڈز گورنر ہاؤس کے زیرِ نگرانی تھے میرٹ اور شفافیت کا بول بالا تھا لیکن جب سے یہ نظام وزیر اعلیٰ ہاؤس اور محکمہ بورڈز و جامعات کے ماتحت ہوا ہے اداروں میں اقرباء پروری مشکوک ٹیسٹ انٹرویوز اور عدالتی کیسز کی جان بوجھ کر ناقص پیروی نے نظام کو تباہ کر دیا ہے، ایڈہاک ازم اور ڈیپوٹیشن کے ذریعے من پسند افسران کی تعیناتی کا مقصد صرف اور صرف کرپشن کو دوام دینا ہے۔

ارکان سندھ اسمبلی ایم کیو ایم پاکستان نے واضح کیا کہ امتحانات سر پر ہونے کے سبب لاکھوں والدین اور طلبہ شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں اگر اس مشکوک تعیناتی کے نتیجے میں امتحانی عمل متاثر ہوا یا کراچی کے طلبہ کے رزلٹ کے ساتھ کوئی ہیر پھیر کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیرِ بورڈز و جامعات پر ہوگی۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ تخت لاڑکانہ کے ملازم کی غیر قانونی تعیناتی کا نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے، کسی سینئر تجربہ کار اور مقامی اہل افسر کو مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جائے، تعلیمی بورڈز میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔

اراکینِ اسمبلی نے کہا کہ اگر کراچی کے تعلیمی وقار پر حملہ بند نہ ہوا تو ایم کیو ایم پاکستان سڑکوں سے لے کر ایوانوں اور عدالتوں تک بھرپور احتجاج کرے گی اور سسٹم کے اس مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا جائے گا۔

Load Next Story