بھارت کی ایران پر حملوں کی خاموش حمایت
ایران پر فروری اور مارچ 2026 میں اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد بھارت کی ابتدائی خاموشی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ عالمی منظرنامے میں اس خاموشی نے نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی کے اصولوں پر سوالات اٹھائے بلکہ اس کی سیاسی، حکمت عملی اور معاشی ترجیحات کی بھی عکاسی کی۔
اس رویے نے یہ تصور دیا کہ بھارت اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات میں مصلحت پسندی کو ترجیح دے رہا ہے اور ممکنہ خطرات اور فوائد کا محتاط جائزہ لے کر فیصلے کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی خاموشی نہ صرف بین الاقوامی مباحث میں بحث کا موضوع بنی بلکہ اس نے داخلی سطح پر بھی عوامی رائے اور سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کی۔
بغل میں چھری اور منہ میں رام رام برصغیر کی یہ پرانی کہاوت صدیوں سے ایک ایسے طرزِ عمل کی نشاندہی کرتی آئی ہے جس میں بظاہر دوستی اور خیرخواہی کا اظہار کیا جاتا ہے مگر موقع ملتے ہی وار بھی کر دیا جاتا ہے۔
تاریخ میں کئی مواقع ایسے آئے جب اس کہاوت کو سیاسی اور سفارتی رویوں کے تناظر میں دہرایا گیا اور حالیہ واقعہ بھی کچھ اسی نوعیت کا محسوس ہوتا ہے۔ بحرِ ہند میں ایرانی بحریہ کے ایک بڑے جنگی جہاز کی تباہی نے نہ صرف خطے کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے بلکہ اس نے کئی ایسے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں جو مستقبل میں علاقائی تعلقات کے خدوخال کو متاثر کر سکتے ہیں۔
چند دن گزرنے کے بعد بھارت کی جانب سے رسمی تعزیت کا پیغام ضرور جاری کیا گیا، مگر اس تاخیر کے پس منظر میں کئی اہم عوامل کارفرما تھے۔ سب سے نمایاں سبب وزیر ِاعظم نریندر مودی کی قیادت میں اسرائیل اور امریکا کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں۔
بعض مبصرین کے مطابق ان حملوں سے تقریباً اڑتالیس گھنٹے قبل مودی اسرائیل کے سرکاری دورے پر موجود تھا، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ بھارت اب خود کو مغربی اتحادی ممالک کے زیادہ قریب سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے نئی دہلی نے فوری طور پر ایران کے حق میں سخت ردِعمل دینے یا حملوں کی واضح مذمت کرنے سے گریز کیا۔
اس صورتحال میں خلیجی خطے میں مقیم بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد بھی نئی دہلی کی پالیسی پر اثر انداز ہوئی۔ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی باشندے کام اور کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہیں، اس لیے بھارت کے لیے سب سے اہم ترجیح اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اور ضرورت پڑنے پر ان کی محفوظ واپسی کے انتظامات کرنا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اس بحران کے دوران زیادہ تر سفارتی رابطے متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک کے ساتھ کیے، جہاں بھارتی کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے۔ معاشی مفادات بھی بھارت کے محتاط رویے کا ایک نمایاں سبب ہیں۔
ایران کی اہم تجارتی گزرگاہ چاہ بہار بندرگاہ میں بھارت کی نمایاں سرمایہ کاری موجود ہے، جو اس کے علاقائی تجارتی منصوبوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر خطے میں بڑے پیمانے پر تنازع یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو یہ منصوبہ شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ چاہ بہار ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں گہرے سمندر میں واقع بندرگاہ ہے۔
انڈیا سے یہ ایران کی سب سے قریبی بندرگاہ ہے اور کھلے سمندر میں واقع ہونے کے سبب یہ بڑے مال بردار بحری جہازوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس بندرگاہ کے راستے انڈیا افغانستان، وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کو اپنی اشیا برآمد کر سکے گا۔
اسی لیے بھارت ایک طرف امریکا سے اس منصوبے کے لیے پابندیوں میں خصوصی رعایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ دوسری جانب وہ ایسا کوئی سخت بیان دینے سے بھی احتراز کر رہا ہے جس سے واشنگٹن ناراض ہو جائے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی میں موقع پرستی اور مفاد پرستی کا عنصر اکثر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سیاست میں نئی دہلی بسا اوقات اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایسے تعلقات بھی قائم کر لیتا ہے جو وقتی اور مفاداتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ حملے کے نتیجے میں کم از کم 87 اہلکار ہلاک جب کہ 41 لاپتا ہو گئے، اور صرف تین افراد کو سری لنکن بحریہ نے بچایا۔
یہ جہاز بھارتی شہر وشاکھاپٹنم میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی بحری جائزے اور‘‘ملان 2026’’نامی عالمی بحری مشق میں شرکت کے بعد واپس ایران جا رہا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
واقعے کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایرانی جہاز بھارتی بحری مشقوں میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا اور وہ بھارت کے سمندری حدود کے قریب موجود تھا تو امریکی آبدوز کو اس کی درست لوکیشن کیسے معلوم ہوئی؟
عسکری ماہرین کے مطابق کسی بھی جنگی جہاز کی نقل و حرکت کا درست اندازہ لگانے کے لیے جدید ریڈار، سیٹلائٹ اور انٹیلی جنس معلومات درکار ہوتی ہیں۔ اس خطے میں بھارتی بحریہ کے ریڈار سسٹمز اور نگرانی کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، اس لیے کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی افواج کو یہ معلومات کسی نہ کسی ذریعے سے فراہم کی گئی ہوں گی۔
ڈگلس میک گریگر امریکی دفاعی ماہر نے اس حوالے سے ایک اور اہم دعویٰ بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے نہ صرف امریکی افواج کو خطے میں لاجسٹک سہولتیں فراہم کیں بلکہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے اپنے بعض فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت بھی دی۔
ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے بحرِ ہند میں اپنے اہم فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کو ایران پر ممکنہ حملے یا عسکری کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
اس کے بعد امریکا نے بھارت کے ساتھ اپنا تعاون بڑھایا تاکہ اپنے فوجی اور حکمتِ عملی کے اہداف حاصل کر سکے۔
قطر سمیت بعض خلیجی ممالک میں ماضی میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں بھارتی خفیہ ایجنسی‘‘را’’سے منسلک افراد پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کرنے کے الزامات لگائے گئے۔
اگرچہ ان واقعات کی مکمل تفصیلات کبھی کھل کر سامنے نہیں آئیں، لیکن اس طرح کی رپورٹس نے خطے میں خدشات کو ضرور جنم دیا ہے۔ اس لیے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عرب ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
متحدہ عرب امارات کی مثال اکثر اس تناظر میں دی جاتی ہے، جہاں بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات بہت تیزی سے بڑھے ہیں۔ لاکھوں بھارتی شہری وہاں کام کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بھی بہت زیادہ ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی ایک ملک کے ساتھ حد سے زیادہ انحصار مستقبل میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ خارجہ پالیسی میں توازن اور تنوع ہمیشہ کسی بھی ملک کے مفاد میں ہوتا ہے۔
بحرہند میں ایرانی جہاز کی تباہی بظاہر ایک عسکری واقعہ ہے، لیکن اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اس نے نہ صرف ایران اور بھارت کے تعلقات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کی کشمکش میں ان کا کردار کیا ہونا چاہیے۔
تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ صرف مفادات ہوتے ہیں۔ اسی لیے دانشمندانہ خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو جذبات کے بجائے حقیقت پسندی اور طویل المدتی مفادات کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جائے۔
یہ واقعہ شاید وقت کے ساتھ عالمی خبروں کی فہرست میں نیچے چلا جائے، مگر اس کے مضمرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
ایران کے لیے یہ ایک تلخ تجربہ ہے، جب کہ عرب ممالک کے لیے ایک واضح پیغام کہ بین الاقوامی سیاست میں اعتماد کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی ضروری ہوتی ہے۔ تاریخ کے صفحات بار بار یہی سبق دہراتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے کھیل میں چھوٹی سی غفلت بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔