جنگ فائدہ یا نقصان

ایک طویل عرصے سے اسرائیل ایران کے اہم مناصب پر فائز اشخاص کو نشانہ بناتا رہا ہے

ایران کی جنگ کو اب مہینہ بھر ہونے کو ہے۔ یہ مارو یا مرجاؤ کی بنیاد پر ایران کی جانب سے شدومد سے جاری ہے جب کہ دوسری جانب سے کچھ پس و پیش کے ساتھ خبریں ابھرتی نظر آرہی ہیں لیکن کیا دونوں طاقتیں دم لیں گی یا یہ یوں ہی چلتا رہے گا۔

اس جنگ سے کس کس کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور کس کو نقصان تو فوائد کی فہرست میں اگر امریکا نظر آرہا ہے تو ایک عظیم تر نقصان کا بوجھ بھی اس کی کمر پر لدا ہے جو اس کے لڑاکا مار طیاروں کی بربادی سے جڑا ہے جن کی مالیت ہی ایک ترقی پذیر ملک کے بجٹ سے بڑھ کر ہے۔

پچیس ہزار کروڑ ڈالر کی رقم کم نہیں ہوتی لیکن طاقت کی سرمستی کے نشے کی قیمت شاید اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ امریکا میں بھی پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت امریکی عوام کی طبیعت پر کس قدر گراں ثابت ہوسکتا ہے، یہ آنے والے وقتوں میں ظاہر ہوجائے گا۔

غلطیاں کس سے نہیں ہوتی لیکن حکومتوں سے سرانجام دی جانے والی غلطیاں قوموں کے سر پر بہت بھاری پڑتی ہیں،شاید اسی کا نام زوال اور تختہ الٹ سے جڑا ہے۔

ماضی میں ایران کے حکمرانوں سے جو جو غلطیاں ہوئی تھیں اس کا خمیازہ وہاں کی عوام نے بھگتا تو تختہ بھی پلٹا، لیکن آیت اللہ خمینی کے آنے کے بعد بھی کسی نہ کسی انداز میں ایران کو مسائل درپیش رہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس ثابت قدمی سے ایرانی عوام نے اپنی حکومت کا ساتھ دیا، اس سے لگتا ہے کہ ان کے بلند عزائم دیکھ کر ہی مخالفین ٹینشن میں گھر رہے ہیں۔

یہاں تک کہ امریکا نے ایف بائیس لڑاکا طیارے جس کی پردہ پوشی کب سے کی جارہی تھی، انتہائی طاقتور اور مہنگے طیارے ہیں۔ ابھی تک امریکا نے کسی بھی ملک کو فروخت نہیں کیے۔ اب اسرائیل میں ڈیوٹی پر لگا دیے ہیں کہ وہ کھل کر ایران پر گرجنا چاہتے ہیں لیکن کیا ایران کے بلند عزائم کے سامنے ان کے طاقتور طیارے کام آسکیں گے۔

مسائل وہی ہیں جنھیں ایک عرصے سے نظر انداز کیا جارہا تھا یا بچا جارہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سابقہ شہید رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے مقابلے میں ان کے صاحب زادے مجتبیٰ خامنہ ای زیادہ جنگجو اور دبنگ ہیں۔

ایک طویل عرصے سے اسرائیل ایران کے اہم مناصب پر فائز اشخاص کو نشانہ بناتا رہا ہے جس میں خاص کر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 2020 میں جس طرح امریکی ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا گو اس کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر ایران کی جانب سے حملے کیے گئے تھے لیکن یوں کہ جیسے ضرورت کے تحت کہ نام تو آئے۔

درحقیقت یہ چھوٹی موٹی کارروائیاں نہ تھیں بلکہ ایرانی لیڈران کی ہمت اور جذبات کو اکسانے کا بہانہ تھا جسے کبھی ایٹمی سائنس دانوں کا قتل تو کبھی خواتین کے پردے کے خلاف احتجاج، حکومت کے خلاف سرگرمیاں ایسی بڑھ رہی تھیں کہ گمان کیا جارہا تھا کہ جیسے ایران کا تختہ پلٹا کہ پلٹا لیکن ایسا نہ ہوا اس کے بعد فلسطینی لیڈر اسماعیل ہنیہ کی ایران میں شہادت ایک کھلی بدمعاشی کی تحریک تھی لیکن پھر بھی نظر انداز، یہاں تک کہ انگلی پکڑتے پکڑتے گلے تک پہنچنے کے لیے تراکیب بھاری بھرکم انداز میں اختیار کرلی گئی یوں آیت اللہ خامنہ ای سے مجتبیٰ خامنہ ای تک سپریم لیڈر کی منتقلی ایک نئے نظریے کے ساتھ امریکا کے لیے بھاری ہی پڑ رہی ہے۔

ایک طویل عرصے سے یہ بھی کہا جارہا تھا کہ فلسطینی عوام کے لیے اگر ایران متحرک ہے تو کیا ایران میں بسنے والے بڑی تعداد میں یہودی اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں یا وہ بھی نیتن یاہو کے خاموش جاسوس کی طرح نگرانی پر مامور ہیں شاید یہ آیت اللہ خامنہ ای کی برداشت یا درگزر تھی جس کے بعد وہ سارے پوشیدہ در واضح ہوگئے،کالی بھیڑیں پکڑ میں آگئیں۔ آج کا ایران اپنے وجود کے بقا کے لیے سرگرداں ہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے سامنے والے نہ صرف چالاک، عیار ہیں بلکہ ماہر بھی ہیں جنھیں ہر طرح سے اپنے کام نکلوانے کا گر آتا ہے۔

حکومتیں گرتی ہیں اور بنتی ہیں لیکن رلتے عوام ہیں۔ ایران امریکا اور اسرائیل کی اس جنگ میں روس کو اپنے تیل کی فروخت کے سلسلے میں بڑا اہم مقام حاصل ہورہا ہے تو دوسری جانب یوکرین کے سلسلے میں اسے بڑا فائدہ بھی مل رہا ہے کہ امریکا اس وقت ایران سے نبردآزما ہے، لہٰذا یوکرین کی جانب سے تنہائی اور مسائل ہی بدترین ہتھیار ثابت ہورہے ہیں۔ روس اپنے بھرپور حملوں سے یوکرین کو ایک بار پھر حاصل کرکے اپنے وجود میں ضم کرنے پر جڑا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی عمر کا ایک طویل عرصہ خوش باش گزار چکے ہیں انھیں بزنس ڈیلنگز کا اچھا تجربہ رہا ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی کردار میں وہ ناکام ثابت ہورہے ہیں صرف یہ ہی نہیں امریکا نے اپنی سابقہ جنگوں کی ناکامی سے بھی کچھ نہ سیکھا اور ایک بار پھر اپنی مظلوم افواج کو ایک بڑی آگ میں جھونکنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔

افغانستان میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد جہاں افغانستان میں معاشی اور سیاسی طور پر بگاڑ پیدا کرکے نفسیاتی اور مالی الجھنوں کے ساتھ امریکی فوج لوٹی تھی۔ اس کے تجربے سے کچھ سیکھنے کے بجائے ایک بار پھر زمینی جنگ کے لیے اپنے فوجیوں کو اتارے جانے کی پلاننگ میں مصروف ہے۔

یاد رہے کہ اس بار ان کے سامنے افغانستان کی طرح کوئی چھوٹا ملک نہیں ہے بلکہ ایران جیسا عظیم تاریخی پس منظر رکھنے والا ملک ہے۔ سوال پھر وہی کہ اس خونریزی سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان پہنچ رہا ہے تو جنگ کرنے والے اور مسلط کرنے والے دونوں ہی بڑے نقصان کے بیچ جھول رہے ہیں اور عوام رل رہے ہیں۔

Load Next Story