اکٹھا کر لیں سب کچھ !

اکثر سننے میں آتا ہے کہ لوگ اب بہت مختلف ہو گئے ہیں، ایک دوسرے کو ملتے نہیں

Shireenhaider65@hotmail.com

گزشتہ چند دنوں میں پٹرول کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے نے تو غریب اور امیر، سب کو متاثر کیا ہے۔ تنخواہ وہی ہے، پنشن بھی وہی، ذرائع آمدنی بھی ویسے کے ویسے اور ہر شے کی قیمتیں ہیں کہ آسمان کو چھو چھو کر اس سے بھی اوپر نکل رہی ہیں، جن گھروں میں ماہانہ پٹرول، بچوں کی فیسیں، بجلی اور گیس کے بل، بزرگوں کی دواؤں اور ماہانہ گروسری کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے بھی کھینچ تان کر ناکافی ہوتے ہیں۔

ان گھروں میں لوگ پچاس ، ساٹھ ، ستر اور اسی ہزار روپوں میں کس طرح گزارا کرتے ہیں کہ سر کی طرف کھینچیں تو پاؤں ننگے ہوتے ہیں اور پاؤں ڈھانکیں تو سر ننگا۔ بچوں کی فیس دیں تو بزرگوں کی دوائیں رہ جاتی ہیں، بل ادا کریں تو کھانے پینے کو پیسے نہیں بچتے، اپنی بچتیں بھی لوگوں نے صرف کردیں اور اب کوئی چارہ نہیں بچا کہ لوگ زکوۃ لینے میں بھی تامل نہیں کرتے۔ دوسرا آپشن جرائم بچتے ہیں یا اجتماعی خود کشیاں ، جو ہو بھی رہی ہیں۔

اکثر سننے میں آتا ہے کہ لوگ اب بہت مختلف ہو گئے ہیں، ایک دوسرے کو ملتے نہیں، رشتہ داروں میں اور دوستوں میں خلوص کم ہو گیا ہے، اسی لیے کوئی بھی اب کسی سے تعلق نہیں رکھتا۔ کیسے رکھیں کوئی تعلق اور کیسے نبھائیں رشتہ داریاں کہ لوگو ں کے پاس مرنے کا بندوبست نہیں ہوپاتا تو جینے کے سامان کہاں سے کریں، کسی سے تعلق رکھیں ، سلام دعا یا دوستی بھی تو ان کے ہاں خوشی غمی میں جانا پڑتا ہے، کچھ نہ کچھ خرچہ تو اس میں ہو ہی جاتا ہے۔

بس اسی خرچے اور جانے آنے کے اخراجات میں کمی کرنے کی کوشش میں ہم ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں، کسی کے ہاں جائیں تو پھر انھیں بھی اپنے ہاں بلانا پڑتا ہے… وہ آئیں گے تو ان کی کچھ خاطر مدارات بھی کرنا ہو گی، بس انھی جھمیلوں سے بچنا کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو مہینوں تو کیا ، سالوں میں بھی مل نہیں پاتے۔ پہلے سادگی زیادہ تھی اور خلوص بھی، اس خلوص اور سادگی سے رشتے نبھا لیے جاتے تھے۔

لوگ ایک دوسرے سے صرف پیار، محبت اور خلوص کی توقع کرتے تھے، سفید پوشوں کے ہاں اگر کوئی مہمان آ بھی جاتا تھا تو جو کچھ دال ساگ پکا ہوتا تھا، دل سے اور مسکرا کر وہ ان کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا اور انھیں بھی اس میں اپنائیت محسوس ہوتی تھی کہ ان کی وجہ سے گھر والوں کو مشکل پیش نہیں آئی۔

پٹرول کی قیمتوں میں جب راتوں رات اضافہ ہوا تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں ، اب یہ چیخیں سوشل میڈیا پر سنائی دیتی ہیں ، لوگ مختلف طرح کے رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس مشکل میںبھی کچھ نہ کچھ ایسا ہلکے پھلکے انداز میں لکھ دیتے ہیں جو لبوں پر مسکراہٹ لے آتا ہے اور کچھ مشکل صورت حال میں ایسا مشکل مشورہ دیتے ہیں کہ سب کی زندگیاں مشکل میں پڑ جاتی ہیں۔

ایسے ہی کسی عقل مند نے فیس بک پر پوسٹ لگائی تھی کہ جتنا ممکن ہوسکے اپنے گھروں میں راشن ذخیرہ کرلیں کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہر چیزکی قیمتیں دوگنا ہو جائیں گی۔ اب میرے جیسے سیدھے سادے لوگ تو فورا اپنی فہرست تیار کرنا شروع کردیں گے کہ بھئی بچا لو جو کچھ بچانا ہے، اکٹھا کر لو جو کچھ اکٹھا کرنا ہے اور بھاگیں گے اس حکم کی تعمیل کے لیے کہ راشن ذخیرہ کر لو۔

اب چاہے گھر میں راشن ذخیرہ کرنے کو جگہ تک نہ ہو۔ذرا سوچیں کہ جس عقل مند نے یہ تجویز دی ہے وہ تجویز کس کے لیے ہے؟ حکومتی ارکان کو ان نرخوں کا علم ہوتا ہے جو ان کے ماتحت ان کو بتاتے ہیں اور ہم انھیں عرف عام میں ڈی سی ریٹ کہتے ہیں جن ریٹ پر ہر دکان میں سبزی اور پھل کے نام پر ایک کوڑا نما ڈھیر پڑا ہوتا ہے جوہمیں کوئی مفت میں دے تب بھی نہ لیں، زیادہ امیر کو تو علم بھی نہیںہوتا کہ بازار میں کس چیز کا بھاؤ کیا ہے۔

ان کا آدھے سے زیادہ کھانا باہر ہوتا ہے جہاں وہ ایک وقت میں اتنے کا کھانا کھا لیتے ہیں ، جتنے میں کسی سفید پوش کے ہاں مہینے بھر کا راشن آجاتا ہے ۔ کم امیر لوگ عموما مہینے بھر کا سودا سلف اکٹھا لے لیتے ہیں کہ بار بار مارکیٹ جانے کی زحمت سے بچ جائیں، وہ زحمت انھیں دہی، دودھ، سبزی، پھل اور انڈوں کے لیے کرنا پڑتی ہے، اس کے بعد ان کے ہاتھ میں اتنا ہی بچتا ہے کہ وہ پٹرول ڈلوا لیں یا کسی ضرورت میں ان کے ہاتھ میں کچھ رقم ہوتی ہے ۔

سفید پوش تو یوں بھی اپنی جیب کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھتے رہتے ہیں کہ مہینہ کیسے گزاریں، وہ سودا سلف ہفتہ وار کی بنیادوں پر لیتے ہیں تا کہ بالکل خالی ہاتھ ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔ اس کے بعد غریب اور مزدور طبقہ ہوتا ہے جو ہر روز کام کرتے ہیں اور اپنی روزانہ ملنے والی مزدوری سے اس دن کا چولہاجلانے کا سامان کرلیتے ہیں۔

جس دن کام نہ ہو، ان کے ہاں چولہا نہیں جلتا، خواہ وہ عید کا دن ہو مگر غریب کی کیا عید ہوتی ہے۔اس کے ہاں زیادہ تر روٹی پکا کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ محنت وصول ہو گئی،۔ روٹی وہ چائے کے ساتھ بھی کھا لیتے ہیں، دال کے ساتھ بھی، پیاز کی چٹنی کے ساتھ بھی اور کچھ نہ ملے تو پانی کے ساتھ بھی، اسی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اگلے دن کی مزدوری ملنے کی آس میں سو جاتے ہیں۔

اب بتائیں کہ کون سا طبقہ ہے جس کے لیے یہ تجویز ہے کہ راشن ذخیرہ کرلیں؟ آپ اور میں اگر ایسا کرنا شروع کردیں تو ہم ایک بڑی آبادی کا حصہ ہیں جن کے یوں راشن ذخیرہ کرنے سے خواہ مخواہ مارکیٹ میں بحران پیدا ہوگا اور قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ سفید پوش اور غریب آدمی متاثر ہو گا ، سارا بار ان پر آن پڑے گا۔ ہمارا جمع کیا ہوا راشن ہم سے مہینوں ختم نہ ہوگا، اس میں کیڑے پڑ جائیں گے اور سب سے بڑھ کر ہم ایک ایسے ظلم میں شامل ہو جائیں گے جو کہ پہلے ہی اس طبقے پر ہورہا ہے-

کسی نے کیا صحیح کہا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو مہنگائی کے خلاف بولتے نہیں تھکتے مگر ہمارے ملک کے مالز، دکانیں اور اسٹورز گاہکوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں لوگ کیڑوں کی طرح بھرے ہوتے ہیں، کھانے کے لیے میز کا حصول کے لیے گھنٹہ بھر کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے، یوں لگتا ہے کہ کسی کے گھر کھانا نہیں پکتا ، سب باہر ہی کھاتے ہیں۔

اب راشن ذخیرہ کرنے کی سکت تو انھی لوگوں میں ہے جو زیادہ تر کھاتے بھی باہر ہیں تو راشن کس کے لیے ذخیرہ کرتے ہیں۔ ان کے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین بھی یوں راشن کی بھر مار دیکھ کر حسرت سے کتنی بار مرتے ہوں گے، کتنا ترستے ہوں گے اور ان کے دماغ میںجانے کیا کیا سوچیں آتی ہوں گی۔ کسی کو اپنی دولت سے مرعوب کرنا ہے تو اور طریقوں سے اور ان طبقوں کو کریں جن سے آپ کا کوئی موازنہ بنتا ہے، غریبوں کے دلوں پر چھریاں چلا کر آپ کیا کما لیتے ہیں، حسد، بددعائیں، نظربد!!

ہم بحیثیت قوم یوں بھی بڑے ہی بے حس ہیں، ہمیں ہر طرح کے حالات میں اپنی فکر ہوتی ہے، ہماری جیب بھری ہو، ہمارا گھر محفوظ ہو، ہمیں کھانے کو مل جائیں ، ہاتھ بھرے ہوں تو بھی دل چاہتا ہے کہ دو ہاتھ اور ہوں تو انسان مزید سمیٹ لے۔

ان ملکوں میں دیکھیں جہاں جنگوں نے تباہی پھیر دی ہے ا ور عالمی قوتوں نے انسانیت کی دھجیاں اڑا دی ہیں مگر متاثرین جنگ کو دیکھیں تو آپ سوچیں گے کہ ان کا ایمان، توکل اور قناعت کس درجے کی ہے، انھیں صرف اپنا برتن بھرنے کی فکر نہیں ہوتی بلکہ وہ کم ترین میں بھی دوسروں کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں۔

ہمارے ہاں سیلاب آئے ، زلزلہ یا کوئی بھی اور آفت اور امدادی سامان بھیجا جائے تو اس وقت بھی لوٹ مار اور دھوکہ دہی عروج پر نظر آتی ہے۔ لوگ اپنی سکت سے، ضرورت سے اور ہمت سے زیادہ سامان اکٹھا کرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے چھینتے ہیں، لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، دھکم پیل کرتے ہیں جیسے انھیں اس کے بعد کبھی کچھ نصیب نہیں ہو گا۔ قناعت سیکھیں، دوسروں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دیں… آپ کا نصیب آپ کو بہر حال مل کر رہے گا ۔

Load Next Story