سزائے موت
دنیا کے اس عہد میں جب انسان نے چاند پر قدم رکھ لیا ہے، مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی دنیائیں تخلیق کی جا رہی ہیں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، وہیں کچھ خطے ایسے ہیں جہاں زندگی کی حرمت آج بھی سیاسی مفادات کے قدموں تلے روندی جا رہی ہے۔
اسرائیلی پارلیمان میں فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا بل اسی تلخ حقیقت کی ایک نئی اور بھیانک مثال ہے۔ یہ محض ایک قانون سازی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کو بطور ہدف پیش کرنے کی منظم کوشش ہے، ایسی کوشش جو انصاف کے بجائے انتقام کو قانونی جواز دینے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
سزائے موت بذاتِ خود ایک متنازع سزا ہے۔ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک اس سے دستبردار ہو چکے ہیں کیونکہ یہ ناقابل واپسی ہے، اگر انصاف کے عمل میں ذرا سی بھی لغزش ہو جائے تو ایک بے گناہ زندگی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے، لیکن یہاں معاملہ صرف سزائے موت کا نہیں بلکہ اس کے اطلاق کا ہے کہ اسے کس کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور کیوں۔ جب ایک ریاست کسی مخصوص قوم یا نسل کو نشانہ بنا کر اس سزا کو قانونی شکل دینے لگے تو یہ محض قانون نہیں رہتا بلکہ جبر کا ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔
فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے ایک ایسی جدوجہد میں مصروف ہیں جسے دنیا مختلف نام دیتی ہے کوئی اسے مزاحمت کہتا ہے کوئی دہشت گردی۔ مگر تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب کسی قوم سے اس کی زمین شناخت اور آزادی چھین لی جائے تو مزاحمت ایک فطری ردعمل بن جاتی ہے۔
الجزائر سے لے کر ویتنام تک جنوبی افریقہ سے لے کر لاطینی امریکا تک ہر جگہ آزادی کی تحریکوں کو پہلے مجرم قرار دیا گیا اور بعد میں انھیں حق بجانب تسلیم کیا گیا۔ فلسطین کی کہانی بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
ایسے میں سزائے موت کا یہ مجوزہ قانون دراصل فلسطینی مزاحمت کو کچلنے کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ یہ قانون ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ نہ صرف مزاحمت کو برداشت نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کے جواب میں انتہائی سخت اور حتمی سزا دی جائے گی۔ یہ ریاستی طاقت کا وہ چہرہ ہے جو انصاف کے لبادے میں ملبوس ہو کر سامنے آتا ہے، مگر اس کے اندر انتقام، خوف اور کنٹرول کی خواہش پوشیدہ ہوتی ہے۔
انسانی حقوق کے علمبردار ممالک جو دیگر خطوں میں جمہوریت اور آزادی کے نام پر مداخلت کرتے ہیں یہاں خاموش نظر آرہے ہیں۔ یہ خاموشی اتفاقی نہیں بلکہ عالمی سیاست کے اس دہرے معیار کا حصہ ہے جہاں انصاف کا پیمانہ طاقتور کے مفاد کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ جب ظلم ایک طاقتور ریاست کی طرف سے ہو تو اسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اس کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے اس بل کے ردعمل میں اسی نوعیت کے اقدامات کی بات کرنا بھی ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک جوابی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت میں یہ اس دائرہ تشدد کو مزید وسیع کرتی ہے جس میں ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع کے نام پر جائز قرار دیتا ہے۔
انسانیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ظلم کا جواب ظلم نہیں ہو سکتا، اگر ایک ریاست غیر انسانی قانون نافذ کرتی ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ دوسری ریاست بھی وہی راستہ اختیار کرے۔ اس سے صرف نفرت، تشدد اور عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔
سزائے موت کے خلاف ایک بنیادی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ سزا ریاست کو ایک ایسا اختیار دیتی ہے جو کسی بھی صورت میں غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے خطوں میں جہاں انصاف کا نظام پہلے ہی سیاسی دباؤ اور تعصبات کا شکار ہو وہاں اس سزا کا نفاذ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔
فلسطینیوں کے خلاف یہ قانون اسی خدشے کو حقیقت میں بدلنے کی ایک کوشش ہے جہاں عدالتی عمل بھی طاقت کے زیر ِ اثر آ سکتا ہے اور فیصلے انصاف کے بجائے سیاسی مقاصد کے تابع ہو سکتے ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی قوم کو اجتماعی طور پر مجرم قرار دینا خود ایک غیر انسانی عمل ہے۔
اسرائیلی قانون سازی کا یہ رجحان اسی سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں فرد کے بجائے پوری قوم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی ضمیر کے بھی خلاف ہے۔
فلسطین کا مسئلہ محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ یہ ایک اخلاقی سوال ہے، ایسا سوال جو ہم سب سے یہ پوچھتا ہے کہ ہم انصاف کے کس تصور پر یقین رکھتے ہیں۔ کیا ہم اس دنیا کو اس اصول پر چلانا چاہتے ہیں کہ طاقتور جو چاہے کرے یا ہم ایک ایسے نظام کے لیے جدوجہد کریں گے جہاں ہر انسان کی زندگی برابر اہمیت رکھتی ہو؟
آج جب ہم اس بل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہم اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تو کل یہی اصول کسی اور جگہ کسی اور قوم کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ظلم کو نظرانداز کیا گیا وہ بڑھ کر ایک بڑے المیے میں تبدیل ہو گیا۔
انسانیت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہم ہر قسم کے جبر کے خلاف کھڑے ہوں چاہے وہ کسی بھی طرف سے کیوں نہ ہو۔ ہمیں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرنی چاہیے مگر ساتھ ہی ہمیں ہر اس عمل کی بھی مخالفت کرنی چاہیے جو انسانی زندگی کی حرمت کو پامال کرے چاہے وہ کسی ریاست کی طرف سے ہو یا کسی ردعمل کے طور پر۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ضمیر سے سوال کریں۔ کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے یا ہم ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے؟ کیونکہ آخرکار انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم زندگی کو موت پر ترجیح دیں انصاف کو انتقام پر اور امن کو جنگ پر۔