فکسڈ چارجز، مہنگا پیٹرول اور پالیسی کی ناکامی
پاکستان میں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم ہوتی ہوئی آمدنی کے بوجھ تلے دب چکی ہے، مگر حالیہ دنوں میں بجلی کے بلوں میں ہونے والی تبدیلیوں نے اس دباؤ کو ایک نئے بحران میں تبدیل کردیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیا ٹیرف نظام بظاہر ایک تکنیکی اصلاح ہے، مگر درحقیقت یہ عوام کے لیے ایک ایسا مالی بوجھ بن چکا ہے جس سے بچنا ممکن نہیں رہا۔ اب بجلی کا بل صرف استعمال شدہ یونٹس پر نہیں بلکہ ’’منظور شدہ لوڈ‘‘ پر بھی منحصر ہوگا، یعنی اگر آپ بجلی استعمال نہ کریں تب بھی آپ کو ایک مقررہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
یہ پالیسی دراصل اس بنیادی اصول کے برعکس ہے جس پر یوٹیلٹی نظام قائم ہوتا ہے، یعنی ’’جتنا استعمال، اتنا بل‘‘۔ اب ایک عام شہری، جو پہلے بجلی کی بچت کر کے اپنے اخراجات کو کنٹرول کرتا تھا، وہ اب چاہے جتنی بھی احتیاط کرے، اسے ہر ماہ فکسڈ چارجز کی صورت میں ایک بھاری رقم ادا کرنا ہوگی۔ مثال کے طور پر، 5 کلوواٹ لوڈ رکھنے والا صارف تقریباً 3375 روپے ماہانہ صرف فکسڈ چارجز کی مد میں ادا کرے گا، چاہے اس نے بجلی استعمال کی ہو یا نہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک متوسط یا غریب گھرانے کے بجٹ پر براہِ راست حملہ ہے۔
حکومت اور توانائی ماہرین اس فیصلے کی جو توجیہ پیش کرتے ہیں، وہ بھی اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی قومی گرڈ سے بجلی کی کھپت مسلسل کم ہو رہی ہے اور کیپیسٹی چارجز صرف زیادہ استعمال سے پورے کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے حکومت نے تمام گرڈ صارفین پر لوڈ کے حساب سے فکسڈ چارجز عائد کر دیے ہیں تاکہ وہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، ایک مقررہ رقم ادا کرتے رہیں۔ مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ صارفین جنہوں نے اپنی منظور شدہ گنجائش سے زیادہ سولر پینلز لگا رکھے ہیں، انہیں بھی اس نظام کے تحت لایا جا رہا ہے تاکہ وہ بھی اس مالی دائرے میں شامل ہوں۔
یہ وضاحت بظاہر معقول لگ سکتی ہے، مگر حقیقت میں یہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ اگر بجلی کی کھپت کم ہو رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگی بجلی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں مزید بوجھ تلے دبانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید سنگین بنانا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ فکسڈ چارجز بجلی کے بل میں ’’میٹر رینٹ‘‘ کے خانے میں ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے عام صارف یہ سمجھتا ہے کہ یہ معمول کا کرایہ ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک الگ اور بھاری مالی بوجھ ہے۔ یہ عمل نہ صرف غیر شفاف ہے بلکہ عوام کے ساتھ ایک طرح کی غلط فہمی بھی پیدا کرتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت عوام کو بجلی کی بچت کی سزا دے رہی ہے؟ اگر کوئی صارف کم بجلی استعمال کرتا ہے تو اسے ریلیف ملنا چاہیے، نہ کہ اضافی جرمانہ۔ موجودہ نظام میں کفایت شعاری کا کوئی فائدہ نہیں رہا، بلکہ یہ خود ایک نقصان بن چکی ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف معاشی طور پر غیر منصفانہ ہے بلکہ سماجی انصاف کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور اہم پہلو پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو مستقبل میں بجلی کے بلوں کو مزید بڑھانے کا باعث بنیں گی۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ اب بھی مہنگے ایندھن، خصوصاً فرنس آئل اور ڈیزل، پر منحصر ہے۔ جب پیٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر بجلی کی پیداواری لاگت پر پڑتا ہے، جو بعد میں ’’فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز‘‘ کی صورت میں عوام سے وصول کی جاتی ہے۔
یعنی ایک طرف عوام کو فکسڈ چارجز کی شکل میں مستقل ادائیگی پر مجبور کیا جارہا ہے، اور دوسری طرف پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں ان کے بلوں میں مزید اضافہ کریں گی۔ یہ دہرا بوجھ ایک ایسے معاشی جال کی صورت اختیار کرچکا ہے جس سے نکلنا عام آدمی کے لیے تقریباً ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بجلی کا بل ایک بنیادی ضرورت کے بجائے ایک ’’عیاشی‘‘ بن جائے گا، جسے ہر کوئی برداشت نہیں کر سکے گا۔
یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی میں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔ مسائل کا حل عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ ان پالیسیوں کو درست کرنا ہے جن کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فکسڈ چارجز کے اس نظام کا فوری جائزہ لے اور کم از کم کم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اسے ختم کرے۔ بجلی کے بل کو دوبارہ یونٹس کی بنیاد پر منصفانہ انداز میں ترتیب دیا جائے تاکہ صارفین کو انصاف مل سکے۔
مزید برآں، مہنگے پاور پلانٹس کے معاہدوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ اگر یہ معاہدے قومی مفاد کے خلاف ہیں تو انہیں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی، جیسے سولر اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے تاکہ ملک کو سستی اور پائیدار توانائی میسر آ سکے۔
پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے بھی حکومت کو ایک واضح حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ عالمی منڈی کے اثرات اپنی جگہ، مگر مقامی سطح پر ٹیکسوں میں کمی، سبسڈی کے مؤثر نظام اور قیمتوں کے شفاف تعین کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بجلی کا بل صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک گھر کی کہانی ہے،ایک باپ کی فکر، ایک ماں کی بچت، اور ایک بچے کے خوابوں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر پالیسی ساز اس انسانی پہلو کو نظر انداز کرتے رہے تو یہ بحران صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی بن جائے گا۔
یہ وقت ہے کہ حکومت سنجیدگی سے سوچے، عوام کی آواز سنے، اور ایسی پالیسیاں بنائے جو صرف کاغذی نہ ہوں بلکہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔ کیونکہ اگر روشنی مہنگی ہو جائے تو اندھیرے صرف گھروں میں نہیں بلکہ نظام میں بھی پھیل جاتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔