کراچی میں شہری کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ، ملوث اے وی ایل سی انسپکٹر معطل
مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور پولیس گردی کا ایک اور واقعہ منظرِ عام پر آگیا، گلشنِ معمار کے علاقے نور محمد گوٹھ سے ایک شہری کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ شہری ذیشان کے مطابق اسے 2 اپریل کو اے وی ایل سی گڈاپ ٹاؤن کے سب انسپکٹر صوبہ خان جتوئی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مبینہ طور پر گھر سے اٹھایا، متاثرہ شہری کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آگیا ہے جس میں اس نے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
متاثرہ شہری ذیشان نے الزام عائد کیا کہ اغوا کے دوران اسے اور اس کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ گھر سے سامان بھی لوٹ لیا گیا جبکہ ملزمان نے اسے نازک اعضاء پر کرنٹ بھی لگایا۔
متاثرہ شہری کے مطابق اے وی ایل سی کی جانب سے نہ تو متعلقہ تھانے میں کوئی اطلاع دی گئی اور نہ ہی کوئی انٹری کی گئی، اس معاملے سے متعلق آئی جی سندھ کمپلین سیل، مددگار 15 اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔
ذیشان کے جاری کردہ ویڈیو بیان کے مطابق اغوا کاروں نے اسے دھمکیاں دیتے ہوئے منہ بند رکھنے کی شرط پر ایدھی سینٹر میں چھوڑ دیا، جبکہ کسی کو اطلاع دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی۔
واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی، ایس ایس پی اے وی ایل سی خالد مصطفیٰ کورائی نے واقعے کا نوٹس لے لیا ۔ ان کے مطابق سب انسپکٹر صوبہ خان جتوئی نے انہیں آگاہ کیے بغیر شہری کو گھر سے اٹھایا۔ ایس ایس پی نے واقعے میں ملوث سب انسپکٹر صوبہ خان جتوئی کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے جبکہ ڈی ایس پی ایڈمن اے وی ایل سی کو شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔