سندھ تاجر اتحاد کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان، توانائی بچت کا فارمولا بھی پیش کردیا
(فائل فوٹو)
کراچی: سندھ تاجر اتحاد نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کردیا۔
سندھ تاجر اتحاد کے چئیر مین شیخ حبیب و دیگر تاجر تنظیموں کی قیادت نے پیر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جاری سنگین توانائی بحران، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر تاجر برادری نے ہنگامی بنیادوں پر موثر اور قابل عمل اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے فوری نفاذ کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں غیر ضروری توانائی کے استعمال کو کم کیے بغیر معیشت کو مزید نقصان سے بچانا ممکن نہیں، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمت نے کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ عام شہری پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ایک وقتی مگر ناگزیر حکمت عملی ہے جس پر فوری اور سنجیدگی سے عمل در آمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
تاجر تنظیم نے تجویز دی ہے کہ کاروباری و دفتری سرگرمیوں کے اوقات کار مرحلہ وار محدود کیے جائیں تاکہ توانائی کے استعمال میں واضح کمی لائی جاسکے، اس سلسلے میں انہوں نے اوقات کار تجویز کیے کہ سرکاری و نجی دفاتر دوپہر 3 بجے تک، بینکوں کے اوقات شام 4 بجے تک ہول سیل مارکیٹس کے اوقات شام 7 بجے تک ریٹیل مارکیٹس، مالز ، شاپنگ پلازہ کے اوقات رات 9 بجے تک ہوٹلز ریسٹورنٹس کے اوقات رات 10بجے تک شادی ہالوں کے اوقات رات 11 بجے اور تفریحی مقامات، پارکس اور سی ویو کے اوقات شام 6 بجے کے بعد مکمل پابندی عائد کی جائے۔
تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے تجویز کردہ اوقات کار پر عمل درآمد سے بجلی اور ایندھن کی بچت ممکن ہوگی، ٹینک کے دباؤ میں کمی آئے گی اور شہری نظم و ضبط بہتر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں توانائی بحران کے دوران اسی نوعیت کے اقدامات موثر ثابت ہوئے ہیں۔
مزید برآں تاجر تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران امریکا کشیدگی کو جواز بنا کر پیٹرول، ڈیزل ، ایل این جی اور سی این جی کی قیمتوں میں کیا جانے والا اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
سندھ تاجر اتحاد نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو بنیاد بنا کر مسلسل بوجھ عوام پر منتقل کرنا معاشی نا انصافی ہے، جس کے اثرات براہ راست کاروبار اور روزگار پر پڑتے ہیں ۔
تاجر تنظیمیوں کے رہنمائوں نے حکومت کو یہ بھی واضح پیغام دیا ہے کہ سبسڈی کے نام پر ایسے اعلانات سے گریز کیا جائے جنہیں عملی طور پر نافذ کرنے کی صلاحیت یا موثر میکینزم موجود نہ ہو، اس قسم کے اعلانات وقتی طور پر توجہ حاصل کر لیتے ہیں مگر بعد ازاں عوام میں بے چینی ، مایوسی اور حکومت پر تنقید میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں ، جو مجموعی طور پر اعتماد کے بحران کو جنم دیتا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر توانائی بحران کا بوجھہ یکطرفہ طور پر عوام اور تاجر طبقے پر ڈالا گیا تو اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں مزید سکڑ جائیں گی، بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور معیشت جمود کا شکار ہو جائے گی۔
سندھ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ، ہم صرف عوامی اور کاروباری مسائل کی نمائندگی کرتے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں خصوصا پنجاب میں ترقیاتی اقدامات اور ریلیف پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے کراچی کے عوام میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے، جسے نظر انداز کر نا مناسب نہیں۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھاکہ کراچی ملک کی معیشت کا بنیادی ستون ہے، اس شہر کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا نہ صرف صوبائی بلکہ قومی مفاد میں بھی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پالیسی سازی میں تاجر برادری کو بھی شامل کیا جائے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق موثر فیصلے کیے جاسکیں۔
تاجر برادری نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ قومی مفاد میں ہر مثبت اور قابل عمل فیصلےکا ساتھ دے گیبشر طیکہ پالیسی سازی میں تاجر کوشامل رکھا جائے۔