ایران امریکا بیٹھنے کو تیار تھے، اسرائیل نے مذاکرات کامیاب دیکھ کر بڑا حملہ کردیا، اسحاق ڈار
فوٹو فائل
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے مذاکرات کے حوالے سے کل بڑی پیشرفت ہوئی اور اس کامیابی کو دیکھ کر اسرائیل نے بڑا حملہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے ایوان بالامیں کہا ہے امریکا ایران جنگ کے معاملے میں کل رات سے پہلے بہت پرامید تھا کہ معاملہ جلد حل ہوگا، معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نان سٹاپ لگے ہوئے ہیں،پاکستان کو کسی تمغے کی خواہش نہیں، بلکہ مقصد خطے میں امن کا قیام ہے۔
ایوان میں قائدحزب اختلاف علامہ راجہ ناصرعباس نے بات کرتے ہوئے کہا ایران پر جنگ مسلط کی جارہی ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو اپنے عزائم کی خاطر مسلمانوں کا خون بہارہے ہیں،اس جنگی صورتحال میں پاکستان کے حالات مزید خراب ہوں گے اس وقت ملک کو آگے لے کر چلنے کیلئے ملک کے اندرقیادت کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرور ت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن سے مذاکرات کرنے کا کہا تھا ہمیں مذاکرات کرنے چاہئیں، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں آج تک نہیں کہا کہ جنگ روکی جائے، ٹرمپ ایک اتنے بڑے ملک کا صدر ہوکر گالیاں دیتا ہے، یہ خطے دن بدن جنگ اور قتل وغارت گری کی طرف بڑھ رہا ہے، 2ایٹمی قوتوں نے ایران پر حملہ کیا ہے، اصل مسئلہ دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے ،
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اٹھالیا گیا اور اب یہ ہضم کیا جاچکا ہے،اس وقت اس تنازعے میں پاکستان کا کردار انتہائی قابل ستائش ہے، یہ جنگ جاری رہی تو حکومت پاکستان مہنگائی اور حالات کا مقابلہ نہیں کرسکے گی،ملک کے مسائل کا حل یہ ہے اپوزیشن و حکومت کو اعتماد میں لے کر فیصلے کئے جائیں۔
ڈپٹی وزیراعظم محمد اسحاق ڈارنے خطے کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر ایوان کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اسلامی ممالک میں سے واحد ملک ہے جس نے ایران پر حملے کی مذمت کی، اس کے بعد اگلا ٹیلیفون میں نے ایرانی وزیرخارجہ کو کیا، تین چارگھنٹوں کے بعد ایران نے عرب ممالک پر حملے شروع کردئیے لیکن ہم جنگ رکوانا چاہتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کل ہی میں نے چین جاپان، انگلینڈ اور کینیڈا سے رابطہ کیا، ہمیں خوشی ہے دونوں ممالک نے پاکستان کی ثالثی کو قبول کیا، چین کے وزیرخارجہ کے ساتھ بھی ہماری بات چیت ہوتی رہی،چینی وزیرخارجہ کی دعوت پر میں چین گیا، پانچ نکات پر چین اور پاکستان میں اتفاق ہوا اور چینی وزارت خادجہ نے انہیں جاری کیا۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ کل بڑی خطرناک پیشرفت سامنے آئی ہیں،کل رات جب اسرائیل نے دیکھا کہ ہم دونوں فریقین کو اکٹھے بٹھالیں گے تو اسرائیل نے رات کو ایران پر بڑا حملہ کردیا اور نتیجے میں ایران نے سعودی عرب میں بڑا حملہ کردیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے بتایا وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر ایران امریکا جنگ بندی کے لیے نان سٹاپ کوششیں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک نے پاکستان کی ثالثی اور سہولت کاری پر اتفاق کیا اور اسلام آباد میں بات چیت کو قابل قبول قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے امریکا کی پندرہ نکاتی شرائط اور ایران کی پانچ نکاتی شرائط ایک دوسرے تک پہنچائیں۔ ہمیں کوئی شوق نہیں کہ کوئی ہمیں تمغہ دے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے بے پناہ کوشش کی ہے۔ میں نے بھی بطور وزیرخارجہ اپنی پوری کوشش کی ہے۔ ہماری کوششوں سے جنگ میں وقفہ آیا۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کل رات خطرناک پیش رفت ہوئی۔ دونوں فریقین کے بیٹھنے کے مرحلہ پر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ایران نے سعودی عرب میں جبیل میں آئل تنصیبات پر حملہ کیا۔ کل رات سے پہلے بہت پرامید تھا کہ معاملہ جلد حل ہوگا۔معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔