ٹرمپ ڈیڈلائن کے آخری لمحات؛ جنگ بندی کیلیے سفارتی کوششیں تیز؛ پاکستان کا کلیدی کردار
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مرکزی کردار ادا کیا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو منگل کی رات تک دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب آنے کے ساتھ ہی امریکا اور ایران کے درمیان آخری لمحات میں مذاکراتی کوششیں تیز ہوگئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان ڈیڈ لائن کی آخری لمحات میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بالواسطہ بات چیت میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا جاری رہنا خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔ دونوں مالک کو کسی نہ کسی حل تک پہنچنا ہوگا۔
ایک ایرانی عہدیدار نے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزید امیدیں پیدا ہو رہی ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف ان مذاکرات میں ثالثی کی بلکہ ممکنہ جنگ بندی کے بعد باضابطہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
اسلام آباد میں ایران کے سفیر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششیں جنگ روکنے کے لیے ایک حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں مزید پیش رفت کے لیے انتظار کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے علاوہ مصر اور ترکیہ کے سفارتکار بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوز کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی معاہدہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے امریکا پر زور دیا ہے کہ اس وقت تک جنگ بندی قبول نہ کی جائے جب تک ایران کے کسی کے لیے خطرہ بننے کے خدشات ختم نہ ہوجائیں۔