انڈسٹری 4.0 : چین اور بھارت کی انوکھی جنگ
چین نے ’’انڈسٹری 4.0 ‘‘میں برتری حاصل کر لی ہے … ٹکنالوجی کی اگلی لہر جو فیکٹری آٹومیشن، روبوٹکس، سائبر فزیکل سسٹمز، سینسرز، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، 5G اور لاجسٹکس جیسے تکنیکی و صنعتی نظام یکجا کرتی ہے۔ایسے میں بھارت کے لیے ایک اہم تزویراتی (Strategic) سوال جنم لے چکا: یہ نہیں کہ آیا چین انڈسٹری 4.0 کی قیادت کرے گا یا نہیں…وہ پہلے ہی ایسا کر رہا ہے بلکہ یہ کہ یہ قیادت بھارت کی اپنی ترقی، صنعتی صلاحیت اور ڈیجیٹل خودمختاری کو کس طرح متاثر کرے گی۔ بھارتی مینوفیکچرر چینی ٹکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
اگرچہ چین کی برتری ناقابل شکست نظر آتی ہے لیکن بھارت کی اپنی طاقت سافٹ ویئر، عوامی پالیسی اور اس کے تجرباتی’’پہلے سیکھو، بعد میں ریگولیٹ کرو‘‘ والے رویّے میں مضمر ہے۔ یہ ’’اوپن سسٹمز‘‘ ( Systems Open ) کا فائدہ بھی اٹھاتا ہے، اس امید کے ساتھ کہ چینی، مغربی اور مقامی ٹکنالوجیوں کو یکجا کیا جا سکے۔
چین کی برتری: انڈسٹری 4.0 اب صرف ایک پیش گوئی نہیں رہی؛ یہ عالمی مینوفیکچرنگ کے فن تعمیر (Architecture) کی تعریف کرنے کا ایک جیتا جاگتا مقابلہ ہے۔ اس کے مرکز میں آپریشنل ٹیکنالوجی (OT) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کا ملاپ ہے: ایسے صنعتی روبوٹ جو سیکھتے ہیں، ایسی فیکٹریاں جو خود کو بہتر بناتی ہیں اور سپلائی چینز جنہیں صنعتی انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے ذریعے حقیقی وقت (Real-time) میں منظم کیا جاتا ہے۔چین الیکٹرانکس اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں ’’سمارٹ‘‘ اور ’’ڈارک فیکٹریوں‘‘ کی شروعات کر رہا ہے جہاں انسانوں کے بغیر کام ہوتا ہے ۔ مکمل طور پر خودکار پلانٹس چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور جہاں اے آئی کی مدد سے انسانی مداخلت کے بغیر سامان تیار کیا جاتا ہے۔
انڈسٹری 4.0 کی ٹیکنالوجیز میں برتری حاصل کرنے کے بعد چین اب ’’دنیا کی فیکٹری‘‘ سے ترقی پا کر عالمی صنعت کا ’’پلیٹ فارم آرکیٹیکٹ‘‘ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ان معیارات (Standards) کو طے کرنا ہے کہ مشینیں کیسے بات چیت کریں گی، ڈیٹا کیسے چلے گا، سیکیورٹی کیسے کام کرے گی اور فیکٹریاں ایک دوسرے سے کیسے جڑیں گی۔اس نئی دنیا کے خدوخال اب واضح ہو رہے ہیں۔ موبائل فون بنانے والی چینی کمپنی، شاؤمی نے ایک مکمل خودکار اسمارٹ فون فیکٹری بنائی ہے جو ہر تین سیکنڈ میں ایک اسمارٹ فون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مینوفیکچرنگ کا پورا عمل، اسمبلی سے لے کر ٹیسٹنگ تک، اے آئی سے چلنے والی مشینیں سنبھالتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی بڑی چینی کمپنی،فاکس کون( Foxconn )نے، جو ایپل کی مصنوعات بنانے کے لیے مشہور ہے، ایسی ڈارک فیکٹری پروڈکشن لائنیں لگائی ہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر کام کرتی ہیں، جس سے کارکردگی میں اضافہ اور لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔اسی طرح چین کی الیکٹرک گاڑیاں اور سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیاں ہائی ٹیک مصنوعات کی بڑھتی عالمی مانگ پورا کرنے کے لیے مکمل خودکار فیکٹریاں بنانے کی خاطر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
انڈسٹری 4.0 کی اہم خصوصیات: اگرچہ سرمایہ کاری بہت زیادہ ہے، لیکن حقیقی ڈارک فیکٹریوں میں مزدوری کی لاگت میں 80 سے 92 فیصد تک بچت ہوتی ہے۔ شاؤمی کے چانگ پنگ پلانٹ نے عوامی طور پر 91 فیصد کمی کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ بچتیں آہستہ آہستہ ان ممالک کا فائدہ ختم کر دیں گی جہاں سستی لیبر دستیاب ہے۔ انڈسٹری 4.0 ٹیکنالوجیز کے لیے معیارات کا تعین ایک اہم میدان جنگ ہے۔ 2024-25 ء میں بین الاقوامی اداروں میں پیش کی جانے والی عالمی معیارات کی اعلی تجاویز میں تقریباً 34 فیصد چینی اداروں کی تھیں۔ یہ معیارات محض تکنیکی کنونشن نہیں ، یہ طے کرتے ہیں کہ پورے صنعتی نظام کے ڈھانچے پر کنٹرول کس کا ہوگا۔اگر چین انڈسٹری 4.0 کے لیے کمیونیکیشن پروٹوکول، سینسرز کے باہمی تعاون کے قوانین اور صنعتی اے آئی کے اصول طے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ آنے والی کئی دہائیوں تک عالمی صنعتی تنظیم کی تشکیل کر سکتا ہے۔
بھارت کی مشکل: بھارت آٹومیشن کے بغیر صنعت کاری نہیں کر سکتا۔ اہم شعبوں میں مزدوری کی پیداواری صلاحیت چین کے مقابلے میں پانچواں حصہ ہے اور صرف 15 فیصد بھارتی کمپنیوں نے بنیادی آٹومیشن کو اپنایا ہے، جبکہ چین میں یہ شرح 60 فیصد ہے۔ روبوٹکس اور ڈیجیٹل پروڈکشن سسٹم کے بغیر بھارت کا محنت کش برآمدی ماڈل ( model intensive Labor ) مسابقتی نہیں رہے گا۔چین سے علیحدگی (Decoupling) کی کوششوں کے باوجود بھارت کا الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اینڈ مینوفیکچرنگ (ESDM) ایکو سسٹم اب بھی چینی اجزا پر منحصر ہے۔فاکس کون کے بھارتی شہروں، سری سٹی اور چنئی میں واقع پلانٹس جو PLI اسکیم کے تحت آئی فون اسمبل کرتے ہیں، اپنے زیادہ تر پارٹس (Bill of materials) اسی چینی سپلائی چین سے حاصل کرتے ہیں جو زینگ زو (Zhengzhou) کی فیکٹریوں کو سپلائی کرتی ہے۔
یہ تصویر محض دشمنی کی نہیں ، جغرافیائی سیاسی تناؤ کے دوران بھی تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔ ’’BYD‘‘ جو اب دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک کار بنانے والی چینی کمپنی ہے، بھارت میں الیکٹرک بسیں بناتی کمپنی، Olectra Greentech کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔بھارت کی الیکٹرک بسیں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ، ٹاٹا موٹرز بھی ان بڑے بھارتی EV اداروں میں شامل ہے جو چینی ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، خاص طور پر لیتھیم آئن بیٹری سیلز، پاور الیکٹرانکس، موٹرز اور سافٹ ویئر جیسے اہم حصوں کے لیے۔ چین عالمی ای وی سپلائی چین پر حاوی ہے۔
اسی طرح بھارتی فیکٹریاں اکثر ’’میڈ ان انڈیا‘‘ کا لیبل استعمال کرتی ہیں لیکن مشینوں کا ’’دماغ‘‘ عام طور پر چینی ہوتا ہے۔ بھارتی موبائل فون مینوفیکچرر چین سے پرزہ جات، ڈسپلے، پروسیسر، کیمرہ ماڈیولز اور سیمی کنڈکٹر درآمد کرنے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ 2024 ء میں بھارت میں درآمد ہونے والے الیکٹرانکس کا تقریباً ’’ستّر‘‘ فیصد چین سے آیا تھا۔اس کے علاوہ کچھ پوشیدہ سافٹ ویئر باہمی انحصار بھی موجود ہیں: بھارتی اے آئی فرمیں خاموشی سے چینی کمپیوٹر ویژن ماڈیول یکجا کر رہی ہیں۔ حیدرآباد اور پونہ میں فارماسیوٹیکل آٹومیشن کے مراکز سنگاپور کے راستے چینی مشین ٹول پرزہ جات درآمد کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مسابقت گہرے صنعتی باہمی انحصار پر ٹکی ہوئی ہے۔
پالیسی کے اختلافات: چین اور بھارت، دونوں نے انڈسٹری 4.0 کو مستقبل کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ لیکن دونوں ممالک بنیادی طور پر مختلف پالیسی فلسفوں پر عمل پیرا ہیں۔چین انڈسٹری 4.0 کو ایک قومی تزویراتی منصوبے کے طور پر دیکھتا ہے جو صنعتی اپ گریڈنگ سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے برعکس بھارت اسے بنیادی طور پر ترقی کے ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھتا ہے جس کا مقصد پیداواری صلاحیت، شمولیت اور عالمی ویلیو چینز میں شرکت ہے۔
بھارت کی حکمت عملی زیادہ غیر مرکزی (Decentralized)، ترغیب پر مبنی اور کُھلے پن کی حامل ہے۔ قومی چیمپیئن کمپنیوں کو منتخب کرنے کے بجائے حکومت مقامی مینوفیکچرنگ اور تحقیق و ترقی (R&D) میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے مالی مراعات استعمال کرتی ہے۔گورننس کا انداز جان بوجھ کر "ہلکا پھلکا" (touch Light ) رکھا گیا ہے: ریگولیٹری سینڈ باکس، لازمی کے بجائے رضاکارانہ معیارات اور ڈیجیٹل عوامی اثاثوں (Digital public goods) پر بہت زیادہ زور۔
ماہرین کا خیال ہے، بھارت کا سافٹ ویئر ٹیلنٹ اور اس کے لچکدار، مارکیٹ دوست قوانین آخر کار اُسے انڈسٹری 4.0 کی ذہانت کی تہہ ( layer Intelligence ) یعنی اے آئی آپٹیمائزیشن، پیشگی دیکھ بھال (maintenance Predictive ) اور سائبر سیکیورٹی پر غلبہ حاصل کرنے میں مدد دیں گے، چاہے وہ ہارڈ ویئر کی درآمد جاری رکھے۔
مزید برآں بھارت انڈسٹری 4.0 کی ایپلی کیشنز کے لیے اپنے موجودہ اوپن پبلک پلیٹ فارموں کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ’’آدھار‘‘ (Aadhaar)، بھارت کا قومی ڈیجیٹل شناختی نظام ایک ایسے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی طرح کام کرتا ہے جس پر کوئی بھی اپنی ایپ بنا سکتا ہے۔ آدھار سپلائرز کی تصدیق سے لے کر صنعتی پلیٹ فارمز تک رسائی کو محفوظ بنانے تک ہر چیز کے لیے فوری تصدیق فراہم کرتا ہے۔
’’یو پی آئی‘‘(UPI)، بھارت کا ریئل ٹائم موبائل ادائیگی کا نظام اب خوردہ ادائیگیوں سے آگے بڑھ کر سپلائی چین کی ادائیگیوں، مشینوں کے درمیان لین دین (M2M) اور یہاں تک کہ IoT سے منسلک بلنگ تک پھیلایا جا رہا ہے۔ یو پی آئی کمپنیوں کو سست بینکنگ عمل پر انحصار کرنے کے بجائے مینوفیکچرنگ سسٹمز میں فوری مالی بہاؤ یکجا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
آدھار اور یو پی آئی اوپن پبلک پلیٹ فارمز ہیں، نجی ملکیت والے نظام نہیں۔ چونکہ یہ بند تجارتی مصنوعات کے بجائے باہم مربوط تعمیراتی بلاکس ہیں، اس لیے یہ ایک ایسے ’’ڈیجیٹل انفراسٹرکچر‘‘ کے طور پر کام کرتے ہیں جس پر کوئی بھی…سٹارٹ اپس، سرکاری ایجنسیاں، مینوفیکچرر، لاجسٹکس کمپنیاں، یا عالمی سپلائرزکام کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا میدانِ جنگ: اے آئی ہی انڈسٹری 4.0 کا ’’آپریٹنگ سسٹم‘‘ ہوگا۔ چین تیزی سے اپنی ملکیت کے بنیادی ماڈل تیار کر رہا ہے جیسے بیدو (Baidu) کا ERNIE اور علی بابا کا Qwen۔ یہ ماڈل براہ راست صنعتی ماحولیاتی نظام میں ضم کیے گئے ہیں۔چین کو فائدہ اس کے ’’عمودی انضمام‘‘ (Integration Vertical ) سے ملتا ہے: سینسرز + ہارڈ ویئر + صنعتی سافٹ ویئر + بنیادی ماڈلز، سب کچھ مقامی طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ ایک متحدہ ’’کلوزڈ لوپ‘‘ بناتا ہے جو پوری مینوفیکچرنگ میں پھیل جاتا ہے۔ اس کے صنعتی اے آئی پیکجز سستے، زیادہ مضبوطی سے جڑے اور اس پیمانے پر آزمائے ہوئے ہیں جس کا کوئی دوسرا ملک مقابلہ نہیں کر سکتا۔
بھارتی فیکٹریوں میں نچلے سے درمیانی سطح کے آٹومیشن منصوبوں میں چینی سینسر، کنٹرولر اور مشین ویژن ماڈیولز اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں لاگت اور رفتار سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، وہاں ’’شینزین اسٹیک‘‘ (stack Shenzhen ) ہی اکثر پہلی پسند ہوتا ہے، چاہے وہ سنگاپور یا ویتنام کے راستے ہی آئے۔
بھارت کے پاس گہرا صنعتی ڈھانچہ موجود نہیں ہے لیکن اس کے پاس عالمی معیار کا سافٹ ویئر ٹیلنٹ ہے۔ اس کی حکمت عملی ہارڈ ویئر پر غلبہ پانا نہیں بلکہ بنیادی ماڈلز کی فائن ٹیوننگ، شعبہ وار اے آئی خدمات اور اوپن پلیٹ فارم انٹیگریشن میں مہارت حاصل کرنا ہے۔پورے اے آئی اسٹیک کا مالک بننے کی کوشش کے بجائے بھارت خود کو ایک ایپلی کیشن لیئر اور عالمی سسٹم انٹیگریٹر کے طور پر پیش کرتا ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جو چین کے مرکوز صنعتی نظام کا متبادل چاہتی ہیں۔مزید برآں بھارت چینی تکنیکی غلبے کے خلاف فعال طور پر حفاظتی اقدامات کر رہا ہے۔ نئی فیکٹریوں نے صرف چینی پلیٹ فارمز پر انحصار کرنے کے بجائے سیمنز (Siemens)، راک ویل (Rockwell) اور جاپانی روبوٹکس فرموں کو شامل کر کے اپنے سپلائرز کی بنیاد متنوع بنائی ہے۔
کئی جدید ترین تنصیبات جیسے تامل ناڈو میں فاکس کون کا کمپلیکس یا ٹاٹا کی ابھرتی ہوئی سیمی کنڈکٹر لائنیں پہلے ہی ’’ہائبرڈ اسٹیک‘‘ پر کام کر رہی ہیں: جسمانی سطح پر چینی ایکچوایٹرز اور مشین ویژن ہارڈ ویئر جبکہ ان کے اوپر مغربی یا بھارتی مڈل ویئر اور اے آئی سسٹم نصب ہیں۔ اہم بات یہ کہ ذہانت کی وہ تہہ جہاں اب اصل قدر اور پیسہ منتقل ہو رہا ہے، تیزی سے بھارتی انجینئرز کے ذریعے کھلے معیارات اور مقامی طور پر تربیت یافتہ ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی جا رہی ہے۔
بھارت کے نرم اور تجرباتی قواعد و ضوابط واضح طور پر کثیر فروخت کنندہ (vendor Multi) اور باہم مربوط نظاموں کے حق میں ہیں، بجائے ان بند نظاموں کے جنہیں چین ترجیح دیتا ہے۔ چینی کمپنیاں سستا لوہا اور سلیکون فراہم کرنا جاری رکھیں گی لیکن بھارت سافٹ ویئر، ڈیٹا کے بہاؤ اور حتمی انتظام کا مالک بننے کے لیے پُرعزم ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھیں تو ایک تہہ دار حقیقت نظر آتی ہے: نیچے چینی ہارڈ ویئر، اوپر بھارتی (اور مغربی) ذہانت، اور درمیان میں شدید مقابلہ۔ لیکن بھارت کے پاس وقت کم ہے۔2032 ء تک بھارتی فیکٹریوں میں روبوٹ اب بھی جاپانی، جرمن یا بھارتی ناموں کی تختیاں اٹھائے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ سافٹ ویئر جو یہ طے کرتا ہے کہ وہ کب چلیں گے، وہ کیسے ڈھلیں گے، اور وہ کیا پیدا کریں گے، وہ اب بھی خاموشی سے چین کو جواب دہ ہوگا۔
چین کے مکمل صنعتی اے آئی پیکجز (ہارڈ ویئر، کنیکٹیویٹی، بنیادی ماڈل اور مڈل ویئر کا مجموعہ) پہلے ہی کسی بھی اوپن یا مغربی متبادل کے مقابلے میں کل لاگت میں 25 سے 40 فیصد تک سستے ہیں۔اگر بھارت اگلے پانچ سے سات سال میں اپنے صنعتی درجے کے بنیادی ماڈلز اور مڈل ویئر کو وسعت نہیں دیتا، تو انتہائی احتیاط سے متنوع بنائے گئے ’’ہائبرڈ‘‘بھارتی کارخانے بھی آہستہ آہستہ، تہہ در تہہ، چینی سافٹ ویئر کے ماحولیاتی نظام کی گرفت میں چلے جائیں گے۔n