لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر خلیجی ممالک میں جسم فروشی کروانے والے گروہ کا کارندہ گرفتار
فوٹو ایکسپریس
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے خلیجی ریاستوں میں سیلون اور بیوٹی پارلر کی آڑ میں غریب گھرانے کی لڑکیوں کے استحصال میں ملوث گینگ کے اہم کارندے کو گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ کراچی نے خلیجی ریاستوں میں سیلون اوربیوٹی پارلرکی آڑمیں غریب گھرانوں کی لڑکیوں کےجسمانی استحصال میں ملوث گینگ کوبےنقاب کردیا۔
یہ گینگ دیہی سندھ کے مختلف شہروں سے بھاری تنخواہوں پر ملازمت کا جھانسہ دے کربجھوائی جانے والی خواتین کوڈانس بار میں استعمال کرواتا تھا جبکہ خفیہ کیمروں کےذریعے خواتین کی نازیبا ویڈیوزبناکرانھیں قبیح فعل کیلیے بلیک میل کرتا تھا۔
ذرائع کےمطابق ڈنکی کے بعد یورپ جانےوالے پاکستانی نوجوان مبینہ طورپرایک نئے بین الاقوامی گٹھ جوڑکاحصہ بن رہے ہیں، واضح رہےکہ چند روزقبل صدرکےعلاقےمیں واقع مختلف ہوٹلوں سے33 کے قریب خواتین کوبازیاب کروایا گیا تھا جنھیں اگلے روزمختلف پروازوں سے دبئی روانہ کیاجانا تھا۔
مذکورہ خواتین کا تعلق پنجاب کےمختلف شہروں سےتھا، تاہم حالیہ کارروائی کےدوران ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نےایک نئے گینگ کوبےنقاب کیا،جواسی قسم کی غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
کیس کے تفتیشی افسرمسرورنے ایکسپریس نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی ائیرپورٹ پرتعینات امیگریشن عملے نے ایک خاتون کوجناح ٹرمینل پرمشتبہ جان کرروکا اوراس کیس کو ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ بھیجا۔
’’ جب ابتدائی تفتیش کی گئی توپروازسےآف لوڈ ہونے والی خاتون نے بتایا کہ وہ اس پرواز کے ذریعے دبئی جانے پر آمادہ نہیں تھی کیونکہ وہ انجانے میں ایک ایسے دلدل میں پھنس چکی جس کی وجہ سے وہ دبئی نہیں جانا چاہتی تھی۔
ایف آئی اے کے تفتیشی آفیسرکےمطابق چند ماہ قبل ایک فی میل ایجنٹ نے 6 لاکھ روپےکی ماہانہ خطیررقم کا کہہ کراسے دبئی میں ایک سیلون میں ملازمت کا جھانسہ دیا مگرجب وہ وہاں پہنچی تووہ ایک ڈانس بارتھا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈانس بارمیں لڑکی سے کام اوراس کا جنسی استحصال کیاگیا، 3 ماہ کے دوران اس کی مختلف کمروں میں نازیبا ویڈیوزبنائی گئی، وہ تمام کیمرے خفیہ طور پر نصب کیے گئے تھے، تب تک اس خاتون کواس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ نازیبا ویڈیوزکے ذریعےان ایجنٹس کےجال میں بری طرح سے پھنس چکی ہے مگر جب پاکستان آنے کے بعد اس نے دوبارہ جانےسے انکار کیا تو پھران ویڈیوز کے ذریعے اس کی پوری فیملی کوڈرایا اور دھمکایا گیا جبکہ خوفناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
خاتون نے ایف آئی اے کو بتایا کہ یہ گینگ ضرورت مند اورغریب گھرانوں کی خواتین کونشانہ بناتے ہیں، پہلے جھانسہ دیتے ہیں اورپھر پوری زندگی ان سے یہ گھناؤنا دھندہ کروایا جاتا ہے۔
ایف آئی اے تفتیشی آفیسرمسرور کا مزید کہناتھا کہ مرکزی ایجنٹ بیک وقت مختلف سب ایجنٹس کے ذریعے خواتین کی دبئی روانگی کے لیےان سے رابطے میں تھا، خاتون کےموبائل فون کے ذریعے سب ایجنٹس میں شامل حاذق میمن نامی ملزم کی حیدرآباد میں نشاندہی ہوئی، جس کے ذمے دیہی سندھ کے مختلف شہروں کی ضرورت مند خواتین کوسبزباغ دکھا کرملازمت کا جھانسہ دینا اورانھیں سفری سہولیات میں معاونت فراہم کرناتھا تاکہ دبئی سمیت خلیجی ریاستوں میں پہنچ کران خواتین کاجنسی استحصال کیاجاسکے۔
انہوں نے کہا کہ تفتیش میں یہ پہلوبھی دیکھا جارہا ہے کہ دبئی کےعلاوہ بھی یہ نیٹ ورک کسی اورملک میں کام کررہا ہے۔
ملزم حاذق میمن نے ایکسپریس نیوزسے گفتگومیں بتایا کہ وہ بنیادی طورپرپراپرٹی کا کام کرتا ہے، صرف خاتون کو امیگریشن کی سہولیات مہیا کرنے کی کوشش کی تھی،اس وجہ سے گرفتاری عمل میں آئی۔
ملزم نےاس بات کا اعتراف کیا کہ بہت زیادہ تو نہیں مگراس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ خواتین کو ڈانس کلبز بجھواتے ہیں، تاہم خواتین کوبلیک میل کرنے کے معاملے کا قطعی علم نہیں تھا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتارملزم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا، اور اُس سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ دیگرملوث ملزمان کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔