سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھولنے کی قرارداد ویٹو؛ متحدہ عرب امارات کا اظہارِ تشویش
متحدہ عرب امارات اس جنگ سے مزید مضبوط ہوکر نکلے گا
متحدہ عرب امارات نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد ویٹو ہونے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ آج سلامتی کونسل نے ایران کے غیر قانونی حملوں اور عالمی معیشت کے لیے خطرات کو ختم کرنے کے لیے واضح عالمی تعاون کا فریم ورک قائم کرنے میں ناکامی دکھائی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرِ ہرمز کو سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے اور آبی گزرگاہوں کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ کسی بھی ملک کو یہ طاقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عالمی تجارت کی شریانوں کو بند کرے اور دنیا کو اقتصادی بحران کے کنارے پہنچا دے۔
بیان میں قرارداد پیش کرنے پر بحرین کی قیادت اور سفارتی کوششوں کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ یو اے ای عالمی کوششوں کے ذریعے بحرِ ہرمز کی حفاظت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل ترسیل کیا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا می تیل کی قلت کا سامنا ہے اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہیں۔