80 لاکھ بچوں کی ویکسی نیشن کے لیے 2.8 ارب کا فنڈ منظور

ای سی سی اجلاس میں اجلاس میں چھالیہ کی درآمد سے متعلق پالیسی میں ترمیم کی بھی منظور دیدی گئی

اسلام آباد:

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بچوں کے ویکسی نیشن پروگرام کے لیے 2.8 ارب روپے کی منظوری دیدی، پروگرام کے تحت ملک بھر میں 80 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف ہے، اجلاس میں چھالیہ کی درآمد سے متعلق پالیسی میں ترمیم کی بھی منظور دیدی گئی۔

ای سی سی نے ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس کے لیے 30 کروڑ سے زائد گرانٹ، وزیراعظم پیکج اور دیگر ادائیگیوں کے لیے فنڈز جاری کرنے کی بھی منظوری کے علاوہ ای سی سی نے تعلیم کے شعبے کے لیے 2 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔

ایکسپریس کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کو وزارتِ خزانہ میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اہم قومی معاملات پر فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں وزارتِ قومی صحت کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دی گئی جس کے تحت وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے لیے 2.8 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ جاری کی جائے گی۔

حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ یہ پروگرام ملک بھر میں آٹھ ملین سے زائد بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچاوٴ کے ٹیکے لگانے کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ اس فنڈ سے ویکسین، سرنجز اور کولڈ چین آلات کی خریداری کو مزید موٴثر بنایا جائے گا۔ اجلاس میں وزارتِ تجارت کی جانب سے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022ء میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی جس کا تعلق چھالیہ (آریکا نٹ) کی درآمد سے ہے۔ نئی پالیسی کے تحت پری شپمنٹ انسپیکشن اور سخت نگرانی کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ غذائی تحفظ اور بین الاقوامی معیار پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے اور تجارتی تنازعات میں کمی لائی جا سکے۔

ای سی سی نے ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس کے لیے بھی 30 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی جو وزیراعظم کے امدادی پیکیج، لیو پریپریشن ریزرو کی ادائیگی اور سفری اخراجات جیسے ضروری امور پر خرچ کی جائے گی۔

علاوہ ازیں وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 2 ارب روپے کی منظوری دی گئی جو دانش اسکول کْری اسلام آباد کے قیام اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے تحت نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے پروگرام پر خرچ کیے جائیں گے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ فنڈز کے شفاف اور موٴثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی، واضح اہداف اور باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام وضع کیا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء، سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Load Next Story