مشرق وسطیٰ کے بگڑتے حالات

عراق کی وحدت کا خواب ٹوٹ چکا ہے اور یہ اس وقت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے

عراق کی وحدت کا خواب ٹوٹ چکا ہے اور یہ اس وقت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

امریکا کے عراق سے نکلنے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہاں کے حالات بہتر ہو جائیں گے اور یہ ملک اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا اور وہاں بہتری آنے کے بجائے حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس ملک کی قومی وحدت پارہ پارہ ہو چکی ہے اور وہ تین بڑے مرکزی گروہوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔

ایک جانب عرب ہیں تو دوسری جانب کرد ہیں جن کے زیر تسلط ایک آزاد اور خود مختار علاقہ قائم ہو چکا ہے' تیسری جانب وزیراعظم نوری المالکی اور ان کے حامی مقتدیٰ الصدر پر مشتمل گروہ ہیں۔ یہ تمام گروہ باہم برسرپیکار ہیں جس سے وہاں خانہ جنگی جاری ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک نیا مسلح گروہ داعش کے نام سے وجود میں آیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ عربوں پر مشتمل ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس گروہ میں صدام حسین دور کے بعث پارٹی کے ارکان اور کئی مذہبی رہنما بھی شامل ہیں، دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کی عسکری کارروائیوں کی نگرانی بعث پارٹی کے سابق فوجی افسران کر رہے ہیں، یہ لوگ اعلیٰ تربیت یافتہ اور ان کے پاس اسلحہ بھی اعلیٰ معیار کا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ سرکاری فوجوں کے خلاف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ داعش کی جانب سے لڑنے والے افراد وزیراعظم نوری المالکی کی ان پالیسیوں سے مایوس ہیں جن کے تحت انھیں الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے۔

عراق کے بعض علاقوں میں کچھ لوگ انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اس لیے بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے تنگ یہ افراد بھی داعش کا ساتھ دے رہے ہیں۔ دارالحکومت بغداد کی جانب داعش کے زیر اثر مارچ کرنے والے گروہوں میں شامل تمام لوگ وہ جہادی ہیں جو اپنے عقیدے کے خلاف چیزیں تباہ کرنے اور ملک میں اسلامی خلافت قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ داعش کے جنگجو اب تک بہت سے مزارات تباہ کر چکے ہیں۔ اس کی بڑھتی ہوئی قوت عراقی حکومت کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق داعش صدام کی بعث پارٹی کے حامیوں اور اسلامی رجعت پسندوں کا اتحاد ہے، ان دونوں میں بعض معاملات پر اختلافات بھی موجود ہیں۔ سرکاری حلقوں کو امید ہے کہ وہ جلد ہی عراقی فوج' امریکی فوجی ماہرین اور قریبی ہمسایہ ممالک کی حمایت یافتہ ملیشیا کی مدد سے داعش کے حملوں کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے باغیوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے اور ان کی باہمی تفریق سامنے آنا شروع ہو جائے گی تاہم ابھی تک ان کا اتحاد قائم ہے اور جب تک داعش بغداد کی جانب پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہے آنے والے دنوں میں سرکاری فوج اور داعش کے درمیان لڑائی کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔


عراق کی وحدت کا خواب ٹوٹ چکا ہے اور یہ اس وقت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔شمال مشرقی کرد علاقے خود مختاری کی خواہش رکھتے ہیں ' یورپ اور امریکا کردوں کا ساتھ دے رہے ہیں جس کا مقصد ملکی وحدت کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ حکومت سے باہر عرب قبائل میں احساس محرومی اور سرکار کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے' یہ تمام قبائل اور صدام کی بعث پارٹی کے ارکان، حکومتی پالیسیوں کو ناپسند اور اس کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ اس وقت عراقی حکومت اور امریکا مل کر داعش پر بمباری کر رہے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا نے جان بوجھ کر عراق میں ایسا سیٹ اپ قائم نہیں ہونے دیا جس سے وہاں ملکی وحدت پیدا ہوتی۔ آج وہاں جو نسلی اور مسلکی تفریق ہے اس میں امریکا کا بنیادی کردار ہے ،وہ عراق کو مستحکم ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا اس کی پالیسی ہے کہ یہ ملک بدامنی اور انتشار کا شکار رہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ عراق کے ہمسایہ ممالک بھی اپنے اپنے حمایتی گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں جس سے وہاں نسلی اور مسلکی تفریق مزید گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔

شام میں بھی عراق جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں، وہاں کا اقلیتی طبقہ اکثریت پر حکومت کر رہا ہے' اکثریتی طبقے نے حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کر رکھی ہے جس میں القاعدہ بھی شریک ہے۔ شام کے ہمسایہ ممالک بھی اپنے حمایتی گروہوں کی مدد کر رہے ہیں جس سے وہاں خانہ جنگی ختم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لیبیا میں بھی خانہ جنگی جاری ہے اور وہاں بھی ہر طرف بدامنی اور انتشار پھیل چکا ہے۔ یورپ اور امریکا نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے عراق' شام اور لیبیا میں بحران پیدا کر رکھا ہے۔

ان مسلم ممالک میں موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یورپ اور امریکا ایک منصوبے کے تحت مسلم ممالک کو کمزور کر رہے ہیں، انھوں نے سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کمزور کر دیا' مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ الٹنے میں بھی امریکا یورپ نے بنیادی کردار ادا کیا۔ فلسطین کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح اسرائیل نے وہاں بربریت کا مظاہرہ کیا۔

عراق میں جاری بحران حل کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ وہاں سیاسی اصلاحات کر کے محروم طبقوں کے مسائل حل کیے جائیں اور تمام قبائل پر مشتمل قومی حکومت تشکیل دی جائے جب تک ایسا نہیں کیا جاتا وہاں کے مسائل ایک طویل عرصے تک حل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ مشرق وسطیٰ ممالک کے بگڑتے ہوئے حالات کی ذمے داری صرف امریکا یورپ ہی پر نہیں ڈالی جا سکتی وہاں کی حکومتیں اور اشرافیہ بھی اس کی برابر ذمے دار ہیں انھیں بھی اپنے کردار پر غور کرنا ہوگا۔
Load Next Story