پاکستان، عالمی سیاست کا نیا مرکز
کینیڈا اور جاپان سمیت یورپی ممالک نے مشترکہ اعلامیہ میں امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کی تعریف کی (اے آئی، تصوراتی تصویر)
عالمی سیاست میں بعض اوقات کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کی بظاہر اہمیت نظر نہیں آتی لیکن ان کے نتائج عالمی سیاسی منظرنامے پر انتہائی دور رس ہوتے ہیں۔
کوئی بھی ریاست جب کسی عالمی مسئلے میں فریق بنتی ہے یا کسی بھی مسئلے سے اس ریاست کے مفادات پر ضرب لگتی ہے تو اس کا ردعمل انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔ عالمی مسائل میں واضح موقف، بہترین سفارتی حکمت عملی، علاقائی توازن میں اپنا کردار، معاشی مفادات کا تحفظ اور مستقبل کی سمت کا درست تعین ایسے عوامل ہیں جن پر توجہ مرکوز رکھنا کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے بحرین کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد اور اس قرارداد پر ووٹنگ کے عمل سے پاکستان کی غیر حاضری کو ہمارے کچھ اپنے ہی غیر ذمے دارانہ سفارتکاری سے تعبیر کر رہے ہیں اور اس کو خلیجی ممالک اور بالخصوص متحدہ عرب امارات سے دوری گردان رہے ہیں۔ حالانکہ یہ معروضی حالات میں بہترین سفارت کاری اور حکمت عملی کا مظہر تھا۔
سلامتی کونسل میں جہاں مستقل رکنیت رکھنے والے چین، روس، امریکا، برطانیہ اور فرانس کو عالمی سیاست میں مرکزیت حاصل ہے۔ اور سلامتی کونسل میں ہونے والا ہر فیصلہ پوری دنیا پر بطور مجموعی اثرات رکھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بحرین کی قرارداد پر روس اور چین کا اپنا ویٹو اختیار استعمال کرنا اور پاکستان کا کولمبیا کے ساتھ ووٹنگ سے غیر حاضر رہنا ایسا عمل ہے جس نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب کرلی۔
روزانہ 2 کروڑ بیرل کی گزرگاہ، یعنی کہ دنیا کی مجموعی تیل کی ترسیل کا 20 فیصد کم وبیش، آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یہ ایک تنگ سمندری گھاٹی ہی ہے کہ جو اس وقت پوری دنیا کے لیے توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آبنائے ہرمز ہی ہے۔ اس گزرگاہ کی جنگ میں مرکزیت کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ نتیجتاً امریکا اور اس کے اتحادی اس گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرنے لگے اور طاقت کا استعمال بھی کیا گیا۔
2026 کے آغاز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 10 سے 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران شروع ہو گیا۔ ایل پی جی کا زیادہ حصہ قطر سے آنے کی وجہ سے وہ بحران بھی شدت اختیار کر گیا۔
اس پورے منظرنامے میں بحرین کی طرف سے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی گئی جس کا مرکزی نقطہ یہی تھا کہ آبنائے ہرمز کو بزور طاقت یا کسی ایسے مشترکہ نظام کے تحت کھولنے کی اجازت دی جائے جس میں ایران کی منشا نہ بھی شامل ہو تو بھی گزرا جائے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی نقطہ تھا لیکن اس ایک قرارداد سے پورے خطے کی سلامتی جڑی ہوئی تھی۔ اس قرارداد کو ایران کیسے دیکھتا یہ اپنی جگہ اہم تھا۔ بنیادی طور پر یہ قرارداد تھی بھی ایران کو کچھ دباؤ میں لانے کےلیے کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی عمل داری ثابت کردی تھی۔ خلیجی ممالک ہمیشہ سے ایران کو خطے میں کشیدگی پھیلانے کا ذمے دار سمجھتے رہے ہیں اور یہ قرارداد بھی اسی پس منظر میں تھی۔ لیکن ایران اس بات سے انکاری رہا ہے اور آبنائے ہرمز پر بھی اپنی عمل داری سمجھتا ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ آبنائے ہرمز اس وقت خطے کی طاقت کی سمت متعین کرنے میں انتہائی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
روس اور چین کا بحرین کی قرارداد کو ویٹو کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ دو خاموش عالمی طاقتیں خاموشی سے ہی اپنا کام کر رہی ہیں۔ چین اپنی اقتصادی برتری کو واضح جنگ میں دھکیلے بغیر امریکی مفادات کو خطے میں پنپنے نہیں دینا چاہتا اور روس اپنی یوکرین کے ساتھ جنگ کی وجہ سے کسی دوسری جنگ کا حصہ بنے بغیر بھی امریکی پالیسیوں کو اپنے قریب کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا۔ اس قرارداد میں ویٹو پاور نے ایسا ہی کچھ کیا۔
موسمی تجزیہ کار سب سے زیادہ بحث اس قرارداد میں پاکستان کے کردار پر کر رہے ہیں اور واشگاف الفاظ میں پاکستان کی اس قرارداد پر ووٹنگ سے غیر حاضری کو متحدہ عرب امارات کی یا خلیجی ممالک کی مخالفت قرار رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے مکمل برعکس ہے۔ اگر پاکستان اس قرارداد سے دور نہ رہتا تو آج جب ایران اور امریکا مذاکرات کی میز پر آ رہے ہیں تو پاکستان کہاں کھڑا ہوتا؟ قرارداد سے تو پاکستان غیر حاضر رہا لیکن عالمی سیاست میں اپنی حاضری لگوا دی۔ اگر بحرین یا خلیجی ممالک کے حق میں ووٹ جاتا تو اس وقت پاکستان نہ صرف چین اور روس پہ اپنا اعتماد کھو دیتا بلکہ ایران بھی مذاکرات میں پاکستان کا کلیدی کردار تسلیم نہ کرتا۔ اور اسلام آباد ایکارڈ بھی اس وقت خبروں میں نہ آتا۔
پاکستان کی پوزیشن اس وقت انتہائی حساس ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کو ایک عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لایا ہے۔ بہترین سفارت کاری اور بیک چینل رابطوں سے پاکستان نے نہ صرف امریکا بلکہ ایران کو بھی یہ باور کروایا ہے کہ خطے کا جنگ میں جانا پوری دنیا کا جنگ میں جانے جیسا ہے۔ آپ اسے ثالثی کہیں یا مصالحت کاری لیکن پاکستان اپنی اہمیت واضح کرچکا ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں پاکستان اپنی اسی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان بھی بطور ثالث نظر آئے۔ اور ایسا ہونا قریں از قیاس بھی نہیں ہے۔
عالمی سیاست میں ثالثی یا مصالحت کاری کا بنیادی اُصول ہی غیر جانبداری ہے اور اگر پاکستان اس قرارداد پر خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہوتا تو بطور ثالث اپنا کردار کھو دیتا۔ اپنے کردار کی وجہ سے آج پوری دنیا پاکستان کی معترف ہے۔ اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ ایران، روس اور چین کی ناراضگی کا باعث ہوتا تو اس کی مخالفت میں ووٹ خلیجی ممالک کی ناراضی مول لیتا، لہٰذا اس پورے معاملے میں غیر جانبدار رہنا ہی واحد حل تھا۔
افغان وار، 90 کی دہائی کے ایران اور سعودی عرب تنازعے، یمن کا مسئلہ وغیرہ ایسے معاملات ہیں جن سے پاکستان نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب ایسی نہج پر معاملات ہیں کہ پاکستان کو سب سے پہلے پاکستان کا مفاد ہی مقدم رکھنا ہے۔ ایک متوازن خارجہ پالیسی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عالمی معاملات میں الجھے بنا اپنا وجود کیسے برقرار رکھنا ہے اور اس دوران اگر بات ملک پر آ جائے تو جواب بھی ایسے دینا ہے جیسا انڈیا کے ایڈونچر پر دیا گیا۔
خطے میں مکڑی کے جال کی طرح کی سیاست سے پاکستان نے جس طرح اپنا بچاؤ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ انقلابِ ایران کے بعد کے ایران کی مخاصمت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پراکسی وار نے خطے میں ایران کے کردار کی وجہ سے خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کی خلیج مزید وسیع کردی۔ لاکھوں لوگ تنازعات کا شکار ہوچکے ہیں، خطہ تباہی کے دہانے پر آج آ کھڑا ہوا ہے۔ اس لمحے میں پاکستان کا غیر دانشمندانہ فیصلہ اس خطے کو ہمیشہ کو لیے نہ رکنے والی جنگ میں دھکیل سکتا تھا۔
بحرین کی پیش کردہ قرارداد پر ووٹنگ سے غیر حاضر ہونے کو جو تجزیہ کار پاکستان کی غیر ذمے داری سے تعبیر کر رہے ہیں ان کے لیے عرض اتنی سی ہے کہ آج جب ٹرمپ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کر چکے ہیں اور ایران بھی مان چکا ہے تو اب پاکستان کا کردار واضح ہو چکا ہے کہ اس نے اس قرارداد سے خود کو دور کیوں رکھا۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات سب سے مضبوط کردار کسی پس پردہ رہنے والے فریق کا ہی ہوتا ہے اور یہ کردار اس مرتبہ پاکستان نے بخوبی نبھایا ہے۔
آنے والے دنوں میں نہ صرف پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک ثالث کے طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہوگا بلکہ مستقبل قریب میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان بھی ہونے والی بیٹھک کا مرکزی کردار پاکستان ہی ہوگا، اس لیے ایک قرارداد پر پاکستان کے کردار کو موضوع بحث بنانے کے بجائے مستقبل کا بیانیہ پاکستان کی موجودگی میں ترتیب دیجیے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔