آبنائے ہرمز بند رہی تو 3 ہفتوں میں جیٹ فیول کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے
جہازوں کے ایندھن کے فیول کی قلت سے فضائی سفر مہنگے ہوجائیں گے
گزشتہ ہفتے یورپی جیٹ فیول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 1,838 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی جبکہ جنگ سے قبل یہ قیمت 831 ڈالر فی ٹن تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ہوائی اڈوں کی تنظیم اے سی آئی یورپ نے یورپی کمشنرز برائے توانائی اور سیاحت کو اہم خط لکھا ہے۔
جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز آئندہ 3 ہفتوں میں دوبارہ نہ کھلی تو ہوائی جہازوں کے ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور ایندھن کی ترسیل جلد معمول پر نہ آئی تو اس کا براہِ راست اثر ہوائی اڈوں کی کارروائیوں اور فضائی رابطوں پر پڑے گا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ یورپی ایئرپورٹس کے درمیان ایندھن کی دستیابی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ جس سے متاثرہ علاقوں اور یورپ کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اگر آئندہ تین ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمد و رفت بحال نہ ہوئی تو یورپی یونین میں نظامی نوعیت کی جیٹ فیول کی کمی حقیقت بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی خطہ یورپ کے لیے ہوائی ایندھن کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور تقریباً 50 فیصد درآمدات اسی خطے سے ہوتی ہیں۔
اس صورتحال کے باعث کئی ایئرلائنز نے پروازیں کم کر دی ہیں اور ممکنہ قلت کے پیش نظر ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔