پاکستان ٹیم کی شکست لمحہ فکریہ

کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کو ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بنیادی اسباب پر غور کرنا چاہیے.

کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کو ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بنیادی اسباب پر غور کرنا چاہیے. فوٹو : فائل

KABUL:
سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے سری لنکن اسپنر رنگنا ہیراتھ واقعی ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے، ان کی سحر انگیز اور الجھن میں ڈالنے والی بولنگ تکینک کے سامنے ہمارے سینئر بیٹسمین بیچارگی کی تصویر بنے رہے، اور دنیا بھر کے اسپنرز کو ہیراتھ یہ پیغام بھی دے گئے کہ مرلی دھرن کی روایت کے وہ نئے امین ہونگے۔

اس شکست کے ساتھ ہی پاکستان رینکنگ میں تیسری پوزیشن سے بھی محروم رہ گیا ۔ میزبان ٹیم گال ٹیسٹ میں 7وکٹوں سے کامیابی حاصل کرچکی تھی ۔ کرکٹ کے مبصرین کے نزدیک پاکستانی ٹیم کی شکست بولرز کی وجہ سے نہیں ہوئی ،وہ تو بہتر کارکردگی شمارہوگی مگربیٹنگ لائن کے ریت کی دیوار ثابت ہونے کو نفسیاتی مسئلہ قرار دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو ہیراتھ کی ٹکر کے اسپنر سعید اجمل بھی پاکستانی امیدوں کا محور تھے۔


تاہم کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کو ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بنیادی اسباب پر غور کرنا چاہیے، اور مصباح الیون کا جائزہ لینا چاہیے کہ بیٹنگ لائن کے سقوط کی کوئی اور وجہ تو نہیں تھی۔ اس لیے کہ پاکستانی ٹیم بڑی امیدوں اور انتہائی ٹف ایکسرسائزز کے بعد کولمبو روانہ ہوئی تھی اور توقع یہ تھی کہ پوری ٹیم کی قلب ماہیت ہوچکی ہے۔

سری لنکا نے پاکستان کو 2ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں 105 رنز سے شکست دیکر نہ صرف کلین سوئیپ کیا بلکہ اپنا آخری میچ کھیلنے والے مہیلا جے وردنے کو ایک شاندار تحفہ بھی دیا۔ پاکستان ٹیم271 رنز کے تعاقب میں165 رنز اسکور کرسکی، سرفراز احمد 55رنز کے ساتھ نمایاں رہے وہ پہلی اننگز میں بھی سینہ سپر رہے۔

دوسرے کھلاڑی وہاب ریاض تھے جنھوں نے سب سے زیادہ55 رنز بنائے۔ میچ کی پہلی اننگز میں انھوں شاندار سنچری اسکور کی تھی۔ بہر حال سری لنکن کی فائٹنگ اسپرٹ شاندار تھی ، وہ جیت کی مستحق ٹھہری ۔ بہر کیف ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ۔ ہار لمحہ فکریہ ہے، پاکستان ٹیم کو مستقبل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
Load Next Story