فلم ’دھرندھر‘ نئی قانونی مشکل میں پھنس گئی
بالی ووڈ کی متنازع فلم 'دھرندھر' باکس آفس پر تمام ریکارڈز توڑنے کے بعد اب قانونی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔
بالی ووڈ کی باکس آفس پر اب تک کی سب سے بڑی ہٹ ’دھرندھر ٹو‘ زبردست کمائی کے بعد میوزک تنازع کا شکار ہوگئی۔
ایک بھارتی پروڈکشن کمپنی کی جانب سے نے فلمساز ادتیہ دھر کے بینر ’B62 اسٹیڈیو‘ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
یہ گانا اصل میں 1989 کی فلم ’دریدو‘ میں شامل تھا، اسے کلیان آنند نے کمپوز کیا تھا جب کہ اس کے بول آنند بخشی نے لکھے تھے۔
پروڈیکشن کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس گانے کا ملتا جلتا ورژن دھرندھر کے سیکوئل میں بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، فلم میں اس گانے کو جزوی طور پر نئے ٹریک ’رنگ دے لال‘ میں شامل کیا گیا ہے، جس میں نئی آواز اور بول شامل کیے گئے ہیں، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پھر بھی نقالی کے زمرے میں آتا ہے۔
پروڈکشن کمپنی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ گانے کے مزید استعمال کو روکا جائے اور ساتھ ہی ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کمپنی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ ٹریک سینما گھروں، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور تشہیری مہم میں استعمال ہو رہا ہے۔
یہ قانونی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلم کاروباری لحاظ سے شاندار کارکردگی دکھا رہی ہے اور بھارت میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر چکی ہے۔