پاکستان ایک مضبوط، ذمہ دار اور اسٹریٹجک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، ہارون اختر
فوٹو: فائل
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو مؤثر سفارت کاری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، ذمہ دار اور اسٹریٹجک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان نے لاہور ایکسپو سینٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی تباہی کا سبب بن سکتی تھی تاہم پاکستان نے اس نازک صورت حال میں توازن، تحمل اور مکالمے کی آواز بلند کی، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں دانش مندی اور عزم کے ساتھ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کیا، اسلام آباد اکارڈ امن، اعتماد اور باہمی احترام کی علامت ہے، تاریخ کے اہم لمحات جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر طے ہوتے ہیں، پاکستان ایک مضبوط، ذمہ دار اور اسٹریٹجک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی بحران کے خطرے سے نمٹنے کے لیے دن رات محنت کی، تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دی گئی، یہی اصل قیادت ہے، جو صرف باتوں نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے۔
ہارون اختر نے کہا کہ پاکستان کی کاوشوں سے کشیدگی میں کمی آئی اور عالمی امن کو فروغ ملا، ان اقدامات سے پاکستان کا عالمی تشخص اور ساکھ مزید مضبوط ہوئی، حقیقی قیادت طاقت کے ساتھ ساتھ دانش مندی سے تنازعات کو روکنے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر قیادت کے ساتھ ساتھ اندرون ملک معاشی بحالی کی نئی داستان رقم کر رہا ہے، ہم قلیل مدتی اقدامات سے نکل کر طویل مدتی اصلاحات کی جانب گامزن ہیں، پاکستان کو ایک مسابقتی صنعتی معیشت بنانے کا واضح وژن موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل پالیسی صنعتی ترقی اور بحالی کا جامع خاکہ ہے، ایس ایم ایز کو بااختیار بنانے اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، حکومت سہولت کار اور نجی شعبہ ترقی کا انجن بنے گا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ ریگولیٹری گیلوٹین کے ذریعے غیر ضروری قوانین کا خاتمہ کیا جا رہا ہے، ٹریکٹر پالیسی زرعی شعبے کو مضبوط کرے گی، موبائل اور الیکٹرونکس پالیسی ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو فروغ دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی بیٹری اسٹوریج اور جدید ڈیوائسز پالیسیز مستقبل کی صنعتوں میں پاکستان کا مقام مستحکم کریں گی، پاکستان میں صاف اور پائیدار توانائی کی جانب منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔