خیرات
ایک بڑی شاندار مہنگی سی گاڑی آکر رکی تھی، اس میں سے ایک صحت مند عربی جبہ پہنے ایک شخص نکلا ہم اس سے متاثر ہوئے۔ میرے شوہر نے بتایا کہ ’’ یہ گاڑی جس میں یہ شخص آیا ہے کس قدر مہنگی ہے۔‘‘
ابھی ہمارا متاثر ہونے کا وقت ختم نہیں ہوا تھا کہ اس نے ہمارے پاس آکر ہم سے امداد طلب کی، سیدھے الفاظ میں بھیک مانگی۔ اس قدر ذلت اور شرمندگی کا احساس ہوا کہ نہ پوچھو، یہ شخص پاکستانی ہے۔
دوسرے یہ کہ اسے بھیک مانگنے کی ضرورت ہی کیا ہے جب کہ وہ ایک مہنگی گاڑی سے برآمد ہوا تھا۔ میرے شوہر کو تو سخت غصہ آیا انھوں نے ڈپٹ کر کہا کہ ’’ہم کیا جیب میں پیسے لے کر گھومتے ہیں جائو نہیں ہیں ہمارے پاس پیسے۔‘‘ وہ ہمارے پاس سے تو چلاگیا لیکن اس کا مانگنے کا عمل نہ رکا تھا۔
یہ کہنا تھا ہماری ایک عزیزہ کا جو حال ہی میں عمرہ کرنے گئی تھیں اور اپنے پاکستانی فقیروں کی امارت سے شرمندہ اور کبیدہ تھیں کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ ایسے لوگوں کی وجہ سے ہمارا ملک بدنام ہورہا ہے۔
اب ان معصوم خاتون کو کون سمجھائے کہ ہمارے یہاں بھیک مانگنے کا بزنس ہی سب سے زیادہ منافع بخش سمجھا جارہا ہے اور عجیب بات ہے کہ لوگ کما رہے ہیں اور جائیدادیں کھڑی کررہے ہیں۔
ان پر روک ٹوک کی گئی، پابندیاں عائد کردی گئی تھیں، لیکن کیا ہوا؟ کچھ عرصے بعد یہ پابندی بھی مجبوراً دور کردی گئی اور پھر چل سو چل۔ ایک دلچسپ خبر پر نظر پڑ گئی تھی جہاں ایک بھکاری نے بھیک مانگ مانگ کر چوبیس کروڑ روپے سے زائد پیسے جمع کرلیے جب کہ وہ اس کے علاوہ دو قیمتی فلیٹوں اور تین قیمتی گاڑیوں کا بھی مالک ہے۔
اس کے بچے مہنگے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں مذکورہ بھکاری گزشتہ چالیس برسوں سے اپنا دھندہ بخوبی چلا رہے ہیں اور پاکستانی روپوں کے مطابق ڈھائی لاکھ تک ماہانہ کمارہا ہے اور باقاعدگی سے مندروں اور خیراتی اداروں کو بھی چندہ دیتا رہتا ہے، اس بھکاری کا تعلق بھارت سے ہے۔
پاکستان میں بھی اسی طرح کے بھکاریوں کی تعداد کم نہیں ہے البتہ ان کی آمدنی کی شرح مختلف ہے۔ ہمارے یہاں پاکستان سے باہر جاکر کمانے والوں میں، بھکاریوں میں زیادہ تر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔
جن کے باقاعدہ بینک اکائونٹس ہیں اور یہ باہر جانے کے لیے ایجنسی کو بڑی بڑی رقوم ادا کرتے ہیں تاکہ انھیں ویزہ مل جائے۔ اس کے بعد ان کا مشن اپنی اخراجات کے بعد منافع سمیت کمائی پر ہوتا ہے۔
پاکستانی گداگروں کی خبریں اس وقت زیادہ گرم ہوئیں جب ویزے کی پابندی کی وجہ اس حوالے سے ابھری۔ یہ ایک تعجب انگیز خبر تھی لیکن وقتاً فوقتاً پاکستانی گداگروں کو ڈی پورٹ کرنے کے بارے میں بھی سنا جاتا رہا تھا لیکن اس حوالے سے اب تک سوال در سوال کھڑے ہیں۔
دینے والے خیرات کو بوجھ کی طرح اتار پھینکتے ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ خیرات لینے والا اس کا حق دار بھی ہے یا نہیں، اس طرح ہم غیر ذمے داری کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں بہت سے سوشل ورکرز اور اداروں نے اپنے تجربات شیئر کیے جس کے مطابق لوگ دیتے ہیں اور پوچھتے نہیں۔ خلیجی پولیس نے اپنے ایک اہل کار کو نقلی بھکاری بناکر یہ تجربہ کیا جس میں وہ مختلف سڑکوں پر گھمایا جس نے محض ایک گھنٹے میں تین سو سے زائد درہم بھیک میں حاصل کیے۔
اس ایک اندازے سے کسی بھی بھکاری کی آمدنی فی گھنٹہ کے حساب سے لگائی جاسکتی ہے بعد میں پولیس نے عوام سے مستند خیراتی اداروں کو خیرات دینے کی اپیل کی تھی۔پاکستان میں خیرات کے حوالے سے جہاں بڑے بڑے اداروں کے نام نظر آتے ہیں۔
وہیں کئی چھوٹے چھوٹے ادارے بھی کام کررہے ہیں ان کی کارکردگی کے بارے میں بھی بہت کچھ سننے کو ملتا رہتا ہے۔ مثلاً اشتہار بازی، بیان بازی اور دکھاوے کے ویڈیوز اور شاٹس لیکن اس کے برعکس جو کام کررہے ہیں وہ خوب کررہے ہیں۔
سر اور گھنی داڑھی کے سارے بال سفید چہرے پر جھریاں، ملگجا لباس ایک ہاتھ میں دس دس کے نوٹوں کی گڈیاں، چہرے پر مظلوم سی مسکراہٹ، باقاعدہ نوٹوں کی گڈی والا ہاتھ جھلاتے صدا لگتے ہیں۔
’’بیٹا اﷲ کے نام پر دے دو۔‘‘
چن چی میں بیٹھی نرم دل خواتین فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والی جو چند ہزاروں کی تنخواہ پر مطمئن اور پرسکون تھیں اس صدا پر دل اس قدر پسیجا کہ پہلے ایک پھر دوسری اور یوں فقیر پچاس کے دس دس نوٹ لے کر ہی گیا۔
’’آپ اس طرح فقیروں کو مت خیرات دیا کریں۔ یہ لوگ پروفیشنل فقیر ہیں گداگری ان کا پیشہ ہے۔‘‘ایک نے احتجاج کیا تو دوسری نرم دل چپ نہ رہ سکی۔ ’’بھئی ہم تو اپنے دل کے لیے دیتے ہیں اپنے دل کی خوشی کے لیے۔‘‘
’’لیکن یہ مستحق نہیں ہے ہماری گلی میں ایک فقیر ہر ہفتہ آتا ہے سامنے والی نے بتایا کہ اس کی مہنگی اپنی گاڑی ہے ان کے بیٹے نے اپنی آنکھوں سے اسے گاڑی چلاتے دیکھا تھا۔‘‘
’’اب بھی کوئی امیر ہو یا لینڈ لارڈ ہو ہم تو رب کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اب کون جاکے دیکھے کہ وہ حق دار ہے یا نہیں۔‘‘
منہ بناکر چپ کرانے کی کوشش کی گئی۔
’’جو ضرورت مند ہوتا ہے وہ منہ سے کچھ نہیں بولتا کوئی غبارے والا، شاپرز بیچنے والا، بازار میں بیٹھا ویٹ مشین والا جو دس روپے لے کر وزن بتاتا ہے وہ اور ان جیسے کتنے مظلوم۔
وہ سبزی والا جو سارا سارا دن دھوپ میں گھوم کر سبزی اور پھل بیچنے والے۔ کیا وہ محنت نہیں کرتے، کیا وہ بہت امیر ہیں، پر نہیں، وہ غریب ضرورت مند ہوتے ہیں جو ہم لوگوں کی مدد کے طلب گار ہیں۔ پر اپنے منہ سے نہیں مانگتے ہیں۔
سوچیے کیا فرق ہے اس نوٹ لہراتے بھیک مانگتے فقیر اور ان محنت کشوں کے درمیان، عجیب بات نہیں کہ ان کے ہاتھ میں نوٹوں کی گڈی موجود ہے تو پھر انھیں مزید مانگنے کی کیا ضرورت تھی اور تو اور انھوں نے تو اپنے پیسوں کو چھپاکر مانگنے کی بھی زحمت نہ کی کیوں کہ انھیں پتا تھا کہ ہماری عوام اتنی ہی عقل مند ہے۔‘‘
بات تو درست ہے پر بات ہے سمجھنے کی۔ ہماری یہاں خیراتی اداروں کی بڑھتی شرح ایک خطرناک مسئلے کی جانب نشان دہی کررہی ہے کہ ہمیں اپنی قوم کو فقیرانہ سوچ اور عمل سے نکالنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا ہی ہوگا۔