دیہات کے پس منظر میں لکھاگیا ایک یاد گار ناول ’’دھنورا‘‘
nasim.anjum27@gmail.com
بچپن گزرا، لڑکپن نے ساتھ چھوڑا اور بہت سے ماہ و سال رخصت ہوئے۔ بیتے دنوں میں 14سالہ ایم اسلم بدر کا افسانہ ماہ نامہ ’’روشن ادب‘‘ دہلی سے شائع ہوا تھا۔ اسی ماہ یہ ہی افسانہ اخبار ’’تنویر‘‘ میں اشاعت کے مرحلے سے گزرا۔ اس سے قبل اس نوآموز افسانہ نگار کے افسانے اس وقت کے پرچوں کے مدیران نے انکار کی صورت اختیار کرتے ہوئے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اپنے شہر کے کسی افسانہ نگار کو دکھاکر ہمارے ادارے میں بھیجا کریں۔
ان کے منفی جواب نے طالب علم کی ہمت کو کمزور نہیں کیا بلکہ ہمت و حوصلے کے ساتھ لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ محنت رنگ لاتی ہے اور اگر لگن سچی ہو تو اپنا رنگ جما کر دکھاتی ہے اور پھر ایسا ہی ہوا کہ کل کے ایم اسلم بدر آج کے اسلم جمشید پوری کے نام سے اپنی شناخت رکھتے ہیں اور گلستان ادب میں ان کی حیثیت شجر سایہ دار کی طرح ہے۔
ان کی علمی صلاحیتوں اور تخلیقات سے بے شمار طلبہ استفادہ کرتے ہیں وہ ماہر تعلیم اور فکشن نگار کے طور پر علم و ادب کے افق پر جلوہ گر ہوئے ہیں، وہ بحیثیت صدر شعبۂ اردو ،چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
قارئین کرام ! آپ کو حیرت ہوگی جناب اسلم جمشید پوری کی فکشن کی تنقید پر اب تک اٹھارہ کتابیں منظر شہود پر جلوہ فگن ہوچکی ہیں اس کے علاوہ ان کی اپنی تخلیقات میں افسانوں کے مجموعے شامل ہیں۔ 1997 سے 2024 تک مسلسل لکھتے رہے ہیں اور آج بھی ان کا قلم رواں ہے ،وہ تخلیق کے جوہر سے اہل ادب کو آشنا کرنے کے ہنر سے اچھی طرح واقف ہیں۔
بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ ہندی زبان میں بھی لکھنے کا عمل جاری رکھتے ہوئے تین افسانوں کے مجموعے اور ساتھ میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھ کر افسانوی ادب کے سکّہ بند ادیبوں سے خوب داد وصول کی ہے۔ اس کے ساتھ بچوں کی انوکھی اور طلسماتی دنیا میں بھی اپنا نام روشن کرچکے ہیں۔ افسانہ نگاری کی ایک ضخیم کتاب کولاژے نے بھی ان کی ادبی پہچان میں اضافہ کیا ہے۔
فی الحال پروفیسر صاحب نے ایک خوبصورت ناول ’’دھنورا ‘‘ کے نام سے تخلیق کیا ہے کہنے کو تو یہ پہلا ناول ہے لیکن کئی مشہور ناولوں پر بھاری ہے۔ ’’دھنورا ‘‘ کسی تاریخی جگہ کا نام نہیں بلکہ یہ ایک گاؤں ہے اور اس نے خود اپنا تعارف کرایا ہے ۔
’’مجھے آباد ہوئے کوئی چار ساڑھے چار سو برسوں کا زمانہ گزرا ہوگا۔ ایک روایت کے مطابق کئی صدی قبل جہانگیر آباد سے دہلی لوٹتے ہوئے عالمگیر اورنگ زیب کا اپنی فوج کے ساتھ یہاں قیام ہوا تھا۔ بعد میں کافی لوگ یہاں رک گئے۔ انھی کے دم پر میں آباد ہوا۔
میرا پورا نام عالمگیر پور دھنورا ہے، پر میں ’’دھنورا ‘‘ کے نام سے ہی جانا جاتا ہوں۔ مصنف نے ’’دھنورا ‘‘ گاؤں کی تاریخ اور جغرافیہ کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ ساتھ میں واقعہ کی مناسبت سے ادباء و شعراء کا مختصر تعارف بھی ملتا ہے جن میں انتظار حسین، مرزا غالب کے دوست ہرگو پال تفتہ، نواب مصطفیٰ علی خان شیفتہ شامل ہیں۔
ان دنوں ہندو اور مسلمانوں میں بغیر نفرت و تعصب کے سچی دوستی ہوا کرتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے کام آتے تھے اگر کسی ایک کا نقصان ہوجائے تو دوسرا اس کی قیمت لینے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوتا جیسے گھنشیام اور اسماعیل خان کی بے لوث دوستی۔
ایک موقع پر گھنشیام نے اپنے دوست اسماعیل خان سے بیل مانگے کہ ان کے بیل بیمار تھے جب بیل کئی روز تک واپس نہیں آئے تب اسماعیل خان نے ترکھاگری کو بلاکر کہا گھنشیام تو تین چار دن کا کہہ گیو تھا اب تک نہ آیو۔ ان دونوں کے درمیان بولے جانے والے مکالمے قاری کے لیے لطف کا باعث بنتے ہیں اور گاؤں کی بولی رکھ رکھاؤ اور طور طریقوں، بودوباش اور رسم و رواج، رہن سہن ، نیک اطوار اور اعلیٰ ظرفی کی چاشنی میں لپٹے ہوئے کردار پڑھنے والے کو متاثر کرتے ہیں۔
چند مکالمے بیل کے چوری ہوجانے پر ترکھا گری اور گھنشیام ایک بیل لے کر اسماعیل خان کی بیٹھک پر آئے تاکہ چوری ہونے والے بیل کا بدلہ اتارسکیں ۔
کاہے۔ بائی تاکہ بیل چوری ہوگو، بھیا یو گھنشیام ’’بیل ہمارے گام سو بھی چوری ہوسکے تھو۔‘‘
بہانے آپ پیسے دھرلو۔ ترکھا کیا میں اب گیر ہوگو ہوں تو میرو بھائی نا ہے۔
پورے ناول میں دھنورا کے کردار دیہاتی بولی بولتے ہیں ۔ باب نمبر4 میں دھنورا اور شاہ پور گاؤں میں ہونے والی شادی اور دعوت کا ذکر ملتا ہے کس طرح ان بستیوں کے باسی مذہبی تعصب کے بناء ہی آپس میں شیر وشکر ہوکر رہتے تھے اور اس زمانے کے اساتذہ کی خوداری اور طلباء پر مکمل توجہ اور ان کی تربیت کرنا ایک استاد اپنا فرض سمجھتا تھا۔
تحفے تحائف محض اپنے فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے دینے کا چلن نہیں تھا۔ منشی سکندر علی بھی ایسے ہی اصولوں کے پابند تھے۔ خوددار اور انا پرست باب 19میں مصنف کو اس احساس کو اجاگر کیا ہے ، کہ دھنورا کی باہمت خاتون کا تعارف اس طرح کرایا ہے کہ گاؤں میں ایک ستھیا تائی ہے جس کی عمر اس وقت 112سال ہے۔
ان کے شوہر کے انتقال کو نصف صدی گزرچکی ہوگی۔ انھوں نے اپنے بچوں کو پڑھایا لکھایا اور اس قابل کردیا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں۔ پوری گوجر برادری میں اپنا نام اور مقام بنایا اور پھر ان کا شمار معزز لوگوں میں ہونے لگا ایک اور اہم کردار بی بی کا ملتا ہے جو بے حد صابر و شاکر اور اپنے شوہر اور سسرالیوں کے ساتھ بے حد مخلص تھیں اور بے مثال کردار کی مالک خاندانوں کے ایثار و قربانی اور صبر و تحمل نے آپس کے رشتے ناتوں کو جوڑے رکھا۔
دھنورا کی کہانی دلچسپ اور سبق آموز ہے کہ خاندانوںکی آپس کی محبت دولت پیسے کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ ایثار وقربانی کی بدولت رشتے قائم رہتے ہیں۔دھنورا کو پڑھنے کے بعد اس بات کا احساس اچھی طرح ہوجاتا ہے کہ اسلم جمشید پوری نے مکمل معلومات اور اپنے تجربات و مشاہدے کے بعد قلم اٹھایا ہے۔
انھیں دیہات کی زبان پر مکمل عبور حاصل ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انھوں نے نہ صرف صرف دھنورا کو دیکھا ہے بلکہ وہاں کئی دن یا ماہ و سال بسر کیے ہیں۔ بغیر تجربے کے کسی بھی موضوع پر لکھنا ناممکن ہوتا ہے۔
قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد ہی کہانی کی فضا کو ہموار کیا جاسکتا ہے اور کرداروں کی زبان میں اپنی سوچ اور خیال کو منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ایک اچھا لکھاری کرداروں کو سمجھنے کے لیے اس کے قلب میں داخل ہوکر اس کی زندگی کی تلخیاں یا پھر شہنایاں کشید کرکے قلم اٹھاتا ہے۔
دھنورا میں ہمیں سیاسی و معاشرتی حالات ، سکھوں پر تشدد اور قتل عام ، بابری مسجد کی شہادت اور وہاں کے مکینوں کا ردعمل سامنے آتا ہے ۔ ناول کا اختتام اپنے قاری کو اس بات کی آگاہی دیتا ہے کہ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی سوچ میں تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔
خوف و ہراس لڑائی جھگڑے اور انتقام کی سیاست کی جگہ اب آنے والے قافلے کو خوش آمدید کہنے کے لیے دھنورا کے نوجوانوں میں ایک جوش و خروش پیدا ہوگیا ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی ہے جو کہ خوشگوار ہے مصنف کو اتنا اچھا ناول لکھنے پر میں مبارک باد پیش کرتی ہوں۔