پیرس کمیون، جدید دور کا پہلا کمیونسٹ انقلاب

انقلاب فرانس میں روسو اور والٹیئر کے نظریات و افکار نے اہم کردار ادا کیا

انیسویں صدی یورپ میں انقلابات کی صدی کہلاتی ہے اور جتنے بھی انقلابات آئے وہ سب بادشاہتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف آئے۔ اس کی بنیاد تو 1789 کا ’’انقلاب فرانس‘‘ بنا جس میں عوام نے پہلی بار بادشاہ لوئی چودہ اور ملکہ کو پھانسی دے دی تھی، تاہم لیڈروں کی لالچ اور اقتدار کی رسہ کشی کی وجہ سے بالآخر اس انقلاب عظیم کا انجام بھی 1799 میں لوئی بونارٹ کی شکل میں مطلق العنان بادشاہت کی شکل میں سامنے آیا۔

تاہم فرانس کے عوام نے اسے کبھی دل سے تسلیم نہ کیا۔ انقلاب فرانس میں روسو اور والٹیئر کے نظریات و افکار نے اہم کردار ادا کیا اور لوگوں میں شعور کی ایک نئی لہر پیدا کردی۔ خاص طور پر روسوکی یہ بات زبان زد عام ہوگئی کہ ’’اگر کوئی اسٹیج پر میری کردار کشی بھی کر رہا ہو اور کوئی جا کر اسے روکے گا، تو میں کردار کشی کرنے والے شخص کے اظہار رائے کی آزادی کے لیے اپنی جان تک لڑا دوں گا۔‘‘

انقلاب فرانس میں بائیں بازو کے کارکنان بالخصوص ’’گروندین‘‘ نامی تنظیم کا اہم کردار تھا مگر اس انقلاب کا سارا پھل بااثر لیڈر، جاگیردار اور سرمایہ دار کھاتے رہے اور نچلا طبقہ انقلاب کے پھل سے محروم رہا۔ ان محرومیوں کا نتیجہ تھا کہ 1871ء میں دنیا میں پہلا کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا، جسے دنیا آج پیرس کمیون کے نام سے جانتی ہے۔

18مارچ 1871 کو پیرس کمیون کے برپا ہونے سے پہلے یورپ کے جاگیردار اور سرمایہ دار اپنے مخالفین یعنی بائیں بازو باالخصوص انارکسٹ اور کمیونسٹ انقلابیوں کو ’’یوٹوپیا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے اور ان سے تقاضا کرتے تھے کہ جس انقلاب اور نظام کی تم بات کرتے ہو، اس کا عملی نمونہ دنیا کے کسی ایک کونے میں تو دکھاؤ؟

تب یہ لیفٹ کے انقلابی کارکنان خاموش ہوجاتے تھے اور ان کے پاس اس طرح کا کوئی نظام دکھانے کے لیے موجود ہی نہ تھا۔ تب پیرس کے انقلابیوں نے پیرس کمیون کی شکل میں جدید دور کا پہلا کمیونسٹ انقلاب برپا کر کے ان سے دائیں بازو کی جانب سے ملنے والے ان تمام تر طعنوں کا داغ ایک جھٹکے سے دھو دیا اور اب یہ انقلابی کارکنان فخر سے کہہ رہے تھے کہ یہ ہے ان کا نظام جس کا نام ’’کمیون‘‘ ہے اور پھر انھیں اس طرح چیلنج کرنے والے خاموش ہوگئے۔

11جنوری 1870کو جب ممتاز صحافی وکٹر نائرکو بادشاہ لوئی چودہ کے بھائی پرنس پائرے بونا پارٹ نے اپنے محل میں بلاکرگولیاں مارکر ہلاک کردیا تو پورے فرانس میں بادشاہت کے خلاف غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔ عظیم انقلابی خاتون انارکسٹ لیوئس مشعل نے انقلابی کارکنان کے اجتماع میں اعلان کیا کہ وہ ’’شہزادے پائرے نیپولین‘‘ پر حملہ کرکے اسے قتل کرنے کا اردہ رکھتی ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ انقلاب کی جانب پیش قدمی کی جائے، تاہم پیرس کمیون کے معمار اور عظیم انقلابی ایلائس ریکلس کے روکنے پر اپنا ارادہ ترک کرلیا۔ ایلائس ریکلس کا تعلق پیرس کے اشرافیہ طبقے سے تھا۔

فرانس کی جرمنی کے ہاتھوں شکست اور اس پر جرمن قبضے کے بعد فوج کے خلاف ایک لہر اٹھی اور اس کا اثر نہ صرف پورے فرانس پر پڑا بلکہ سب سے زیادہ اثر پیرس کے مسلح ’’نیشنل گارڈز‘‘ پر زیادہ پڑا، جن کا تعلق فرانس کے انقلابیوں کے ساتھ جڑ چکا تھا اور اب وہ جرمن فوج کو نکالنے کے لیے بے تاب تھے۔

آخر وہ دن آ ہی گیا جب پیرس کے انقلابیوں نے علم بغاوت بلند کردیا۔ سول وار ان فرانس کے مصنف کارل مارکس نے لکھا کہ 18مارچ 1871کی صبح جب پیرس کے شہری بیدار ہوئے تو ان کے کانوں میں ’’کمیون زندہ آباد‘‘ کے نعرے گونج رہے تھے۔

پیرس کے شہریوں نے تمام تر اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ پھانسی کے تختے توڑ دیے گئے تھے۔ مذہب کو پہلی بار ریاست سے الگ کیا گیا اورگرجا گھروں کے فنڈز بند کردیے گئے اور ان کے لیے وقف کی گئی املاک عوام کے حوالے کی جا چکی تھیں۔

ہر شخص کو کام کرنے کا حکم مل چکا تھا۔ سرمایہ دار، جاگیردار اور راہب یعنی کہ مذہبی پیشوا پیرس سے راتوں رات فرار ہوچکے تھے۔ ہر طرف برابری اور اشتراکیت کے نعرے گونج رہے تھے مطلب جدید دور کا ’’پہلا کمیونسٹ انقلاب‘‘ برپا ہوچکا تھا۔ لوگ فکرمند تھے تو صرف اس لیے کہ کہیں ان سے یہ نعمتیں کوئی چھین نہ لے۔

اس انقلاب کی وجہ سے یورپ کے دائیں بازو والے خوفزدہ ہوگئے اور پھر اڈولف تھیئرس کی قیادت میں تمام رجعت پرست قوتیں جمع ہونے لگیں۔ جرمنی نے سب دشمنیاں بھلا کر انقلاب دشمنی میں فرینچ حکمرانوں سے ہاتھ ملا لیا اور ساتھ میں اپنی فوج کو پیرس کمیون کو آگے بڑھنے سے روکنے کا حکم دے دیا۔

ہنگری، روس، برطانیہ، بیلجیم سمیت آٹھ ممالک نے ہر طرح کی مدد فراہم کی، جب کہ فرانس کا سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ بھی تمام تر وسائل کے ساتھ حکمران طبقے کا مکمل ساتھ دے رہا تھا۔

پیرس کمیون نے دنیا کو کیا دیا؟

ان انتہائی کٹھن حالات میں بھی پیرس کمیون نے کمیونزم کے تمام لوازمات پورے کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا جو صدیوں سے اپنی آنکھوں میں سمائے بائیں بازو کے انقلابی اسے شرمندہ تعبیرکرنے کے لیے بے تاب تھے۔

خواتین کو مردوں کے برابر آزادی اور حقوق دینے کا اعلامیہ تو انقلاب برپا ہونے سے ایک ماہ قبل ہی ہوچکا تھا۔ جنگی حالات کے باوجود 24 اپریل 1871 کو پیرس کمیون نے لوکل کاؤنسل کے انتخابات کرائے تو صنفی تفریق کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دنیا میں پہلی بار خواتین کو نہ صرف ووٹ کا حق دیا گیا بلکہ چھ سو میں سے آدھے سے زیادہ خواتین منتخب ہوکر آئیں۔

سب سے اہم بات ’’کمیون‘‘ کا قیام تھا تاکہ دنیا یہ دیکھ لے کہ ایک متبادل اشتراکی نظام ہی کامیابی کی ضمانت ہے جس میں صنفی، لسانی، فرقہ وارانہ اور نسلی تفریق کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔

پیرس کمیون نے کمیون دینے کے ساتھ ساتھ ایک اہم اعلان ’’مستقل فوج‘‘ کے خاتمے کا کیا جوکہ کمیون/کمیونزم کی لازمی ضرورت ہوتا ہے۔ کارل مارکس نے بھی اپنی کتاب ’’سول وار ان فرانس‘‘ میں اس اعلامیہ کا تذکرہ کیا ہے۔

سب سے اہم یہ کہ اس انقلاب کے بعد کسی کو نہ تو صدر، وزیراعظم یا وزیر نہیں بنایا گیا بلکہ تمام اعلامیہ کسی شخص یا اتھارٹی کے دستخطوں کے بجائے ’’کمیون‘‘ کی طرف سے جاری کیے گئے، جب کہ انٹرنیشنل کا ترانہ بھی پیرس کمیون کے ایک کمیونارڈ ’’یوجین پوٹیئر‘‘ کا دیا ہوا ہے۔

پیرس کمیون کی ناکامی، گو کہ پیرس کمیون 18مارچ 1871 کو برپا ہوا اور 30 ہزار سے پچاس ہزار لوگوں کی جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود یورپ کی آٹھ طاقتور ریاستوں کے مقابل صرف72 روز ہی قائم رہ سکا اور 28مئی کو بے جگری سے لڑنے والے ’’کمیونرڈز‘‘ کے خون سے اسے نہلا دیا گیا، تاہم بائیں بازو کے تمام گروپس اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ’’جدید دور کا پہلا کمیونسٹ انقلاب‘‘ ہے۔

پیرس کمیون کی ناکامی کے بعد ایلائیس ریکلس، ان کی اہلیہ نومی ریکلس، بھائی آنسلیم ریکلس، لیوئس مشعل، آندرے لیو، پال منک، صوفی پوریئر، نتھالی لیمیل اور بہت ساری خواتین سمیت آٹھ ہزار کمیونارڈز کو فرینچ کالا پانی (نیوکلدونیا جزائر) پر یہ کہہ کر قیدی بنا دیا گیا وہ ’’خدا کے منکرین‘‘ ہیں۔

ان سب میں نمایاں کمیونارڈ لیوئس مشعل ہیں جو کہ پیرس کمیون میں ’’خواتین بریگیڈ‘‘ کی کمانڈر تھیں۔ کمیونارڈز کی شان یہ ہے کہ جب دس سال کی قید و بند کی صعوبتوں کے بعد نیوکلدونیہ جزائر پر قید ان کمیونارڈز کی عام معافی کے لیے عظیم دانشور سینیٹر ’’وکٹر ہیوگو‘‘ نے سینیٹ میں قرارداد پیش کی تو اسی فیصد اراکین نے یہ کہہ کر حمایت کی کہ وہ بھی کمیونارڈز ہیں حالانکہ وکٹر ہیوگو کے بقول ان سمیت کوئی ایک بھی کمیونارڈ نہیں ہے۔

اس وقت کے فرنچ وزیراعظم جولیس آرمنڈ دوفارے نے نہ صرف سزائیں دینے پر معافی مانگی بلکہ اس سے بھی بڑا اعزاز انقلابیوں کے لیے عوام کا وہ احترام تھا کہ جب جولائی 1880میں دس سال بعد ان کمیونارڈز کو ایک سمندری جہاز میں واپس پیرس لایا گیا تو ان کے استقبال کے لیے پیرس شہر امڈ آیا۔

اس بار وہ خالی ہاتھ نہ آئے تھے بلکہ ہر شہری اپنے گھر کی قیمتی چیزیں اپنے ساتھ لے آیا تھا جو ان کمیونارڈز کو پیش کیں تاکہ وہ اپنی زندگی باآسانی دوبارہ شروع کرسکیں۔

پیرس کمیون کی یہ کامیابی ہے کہ آج دنیا بھر میں بالخصوص یورپ اور براعظم امریکا میں ایک ہزار سے زائد کمیونز موجود ہیں جن میں اسپین میں انقلابی کیتلونیا، پورٹوریل، میری ٹائم اور ایراگون کمیونز، فرانس میں لونگومے کمیون، اٹلی میں اسپیزانو البانیز، میکسیکو میں زپاٹسٹا، کیران، پاپولر انڈیجیمس کونسل آف اوکساکا اور مورلوس کمیونز (میکسیکو کا آئین کمیونز کی اجازت دیتا ہے)، انڈیا میں آروولے کمیون، اتھینز (یونان) میں ایگزارشیا کمیون، بلغاریہ میں اسٹرانزیا کمیون، بولیویا میں فجیوے کمیون، ڈنمارک میں فری ٹاؤن کرسچنیا شامل ہیں جب کہ آئس لینڈ انارکی کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔

Load Next Story