جنگ کے بعد

بھروسہ اور ٹرمپ دونوں متضاد حقیقتیں ہیں۔ یہ سب مہربانیاں مودی صاحب کی ہیں

اسرائیل ،گریٹر اسرائیل نہ بن سکا، اس کا سہرا ایران کے غیرت مند لوگوں کو جاتا ہے۔ وہ سامراجی قہر کے سامنے ڈٹے رہے، سینہ تان کے ۔ بلاشبہ پاکستان اور اس کی موجودہ قیادت کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں، طویل عرصے بعد ہماری قیادت نے اس ملک کے مفادات کی درست طور پر ترجمانی کی ۔

اکثر ہم امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیے جاتے تھے۔ اس بار ہمیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ہماری قومی ترجیحات کیا ہیں۔ امریکا اور کئی ممالک کی خواہش تھی کہ پاکستان جنگ میں کود پڑے۔ ہم سنبھل کر چلے، ہم دفاعی حوالے سے مضبوط تو ہیں مگر مقروض بہت ہیں، ایک ایسی پگڈنڈی تھی جس پر ہرقدم سنبھل کر رکھنا تھا۔

بھروسہ اور ٹرمپ دونوں متضاد حقیقتیں ہیں۔ یہ سب مہربانیاں مودی صاحب کی ہیں، وہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں ہمارے ساتھ جنگ کرنے میں پہل کر بیٹھے، ہمارے پاس اس بار بھروسہ والی چینی ٹیکنالوجی تھی، ہم نے ایک ہی جھٹکے میں دشمن کے سات رافیل جہاز گرادیے۔

دنیا حیرت میں پڑ گئی۔ ابھی تو جنگ چلنی تھی مگر مودی نے ٹرمپ کو بار بار فون کیا کہ ہمارا پاکستان کے ساتھ سیز فائر کروا دو۔وہاں سے ہم نے اپنا کھویا وقار بحال کیا جو ابھی نندن پر گنوایا تھا۔

کس طرح سے ڈپلومیسی کی جاتی ہے شاید جنگ سے بھی زیادہ حساس معاملہ ہے۔ جنگ تو آمنے سامنے ہونے کا نام ہے، سفارتکاری تو پیوندکاری ہے، باریکیاں اور پیچیدگیاں ہیں، الجھی ڈوریوں کو سلجھانا ہے۔ اس بار وہ کام کیا پاکستان نے، دنیا حیران رہ گئی۔

سعودی عرب کو بھی ایران سے بچائے رکھا، تاکہ دفاعی معاہدے کا بھرم رہ جائے اور ایران کو بھی بات چیت میں مصروف رکھا، پاکستان نے اس بار کوئی اڈے نہیں دیے، ایران کو یہ بات اچھی لگی۔ چین نے بھی ایران کو بتایا کہ پاکستان پر بھروسہ کرنا ہوگا۔

امریکا ہمارے ساتھ یاری نبھاتا رہا اور ہندوستان اسرائیل کے ساتھ یاری نبھانے میں سب حدیں پار کرگیا اور اچانک جس کا ہمیں شک تھا وہی ہوا ،اسرائیل اور ہندوستان نے مل کر افغانستان میں طالبان کی حکومت کی حمایت کردی۔ ہم نے بھی ایک دن ضایع کیے بغیر افغانستان کے اندر گھس کر اس کو ’’سمجھایا‘‘ کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے طالبان کو افغانستان میں پناہ نہ دے۔

ہندوستان افغانستان کو بچانے کے لیے بیچ میں نہیں آیا۔ اسے کہیں سے اشارہ تھا کہ پہلے ایران سے نپٹ لیں ۔ایران در اصل ہماری جنگ لڑ رہا تھا، خلیج میں امریکا کے اڈے ہیں، ایران کہتا ہے کہ وہ اڈے اس کے خلاف استعمال ہورہے تھے۔ امریکا اور اسرائیل گریٹر اسرائیل بنا نے جارہے تھے ، لیکن بساط الٹ گئی ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے دفاعی معاہدہ کیا ہے ہندوستان کے ساتھ۔ سب سے زیادہ اسرائیل کے بعد کسی اور ملکوں کو ایران نے نشانے پر رکھا وہ تھے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات۔

اس جنگ میں جو ہمارے سامنے آبنائے ہارمز بند ہونے پر عیاں ہوا کہ ہماری تینوں بندر گاہیں ، ویسٹ وہارف اور ایسٹ وہارف کراچی اور گوادر کی بندرگاہ اتنی مصروف رہیں جس کا ہمیں اندازہ نہ تھا۔ ہمارا کراچی کا ایئرپورٹ بھی پھر ابھر کے سامنے آیا۔

یہ کیا بات ہوئی کہ ہم ایران سے تیل نہیں لے سکتے ، اس سے گیس نہیں لے سکتے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہم خود ہند وستان کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے اور ایرانی گیس پائپ لائن یہاں سے ہندوستان نہیں جاسکتی، جب کہ یورپ کے تمام ممالک ایسی سرحدیں کھول کر بیٹھے ہیں، یہ سب گریٹر اسرائیل کی ایک شکل تھی۔

یہ جو ہمارے اوپر اتنے قرضے ہیں اورپھر ہم پر قرضے اس لیے بھی ہیں کہ ہم ایران اور ہندوستان کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے۔ افغانستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہم سینٹرل ایشیا نہیں جاسکتے، انگریزی میں اس کو competitive advantage  کہا جاتا ہے۔

یعنی جو سستا ہے وہ لو اور جہاںمنافع زیادہ ہے وہاں بیچو، ہم اس کے برعکس چلتے رہے۔ اب ہندوستان میں بھی ایک سوچ ابھر رہی ہے کہ وہ چین سے دوستی بڑھائے، روس سے تجارت پاکستان کے ذریعے راہ داری بناکر کرے۔ یہ پورا region امیر ہوسکتا ہے ،اگر ہم اپنے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر کریں۔

بلاشبہ ہمیں تین چار ارب ڈالر دبئی سے آتے ہیں وہاں تار کین وطن جو کام کرتے ہیں وہ ہم بھیجتے ہیں۔ ہم نہیں چاہیں گے کہ ہمارے تعلقات خراب ہوں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات یہ خراب کرنا چاہے گا۔

اس جنگ کے بعد بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ امریکا اب سپر طاقت نہیںرہا۔ ایران کے ساتھ روس ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑا تھا اور چین بھی۔ ہند وستان جو اسرائیل کی ٹیکنالوجی لے کر ہم سے لڑا اور ہم چین سے جہاز لے کر اس سے لڑے۔ دنیا اب multilateral ہوگئی ہے۔ ہم پر امریکا کا دباؤ کم ہوا ہے۔ یہ جنگ بھی چین کی مداخلت پر ختم ہوتی ہے۔ ایران کو چین نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھروسہ کرے۔

ٹرمپ کے لیے امریکا کے اندر اس بار بڑی مخالفت کا سامنا ہے، وہ اب طاقتور نہیں رہا، اس سے پاور شفٹ ہوگئی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس، نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات ٹرمپ ہارے گا۔ اب تیزی سے یہ بیانیہ مضبوط ہورہا ہے کہ ٹرمپ ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔

جنگ عظیم دوم کے موقع پر روس میں سائبیریا کی نومبر ودسمبرکی سردی جس طرح جرمنی کے ہٹلر کی شکست کا سبب بنی تھی ،بالکل اسی طرح امریکا ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز ایران کا ایک ایسا مہلک ہتھیار ثابت ہوا کہ جس کی وجہ سے امریکا کو ہتھیار پھینک کر جنگ بندی کرنا پڑی۔ اتنا سبق تو ٹرمپ کو مل گیا ہوگا ، اگلی بار جنگ کرنے سے پہلے کسی جوتشی سے فال ضرور نکلوائے گا۔

اب ہم جنگ کے بعد کے زمانے یا عہد میں داخل ہو رہے ہیں ۔ طاقت کا سر چشمہ اب ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا ہے سینٹرل ایشیا اور رشیا ہے۔ پاکستان اندر سے اپنے ہاوس کو آرڈر میں لائے ۔ ہمیں فوکس کر نا ہو گا معاشی حوالے سے یہ ہماری جغرافیائی حیثیت تھی ،جس نے ہمیں سر خرو کیا ۔ ہمیں کراچی او ر گوادر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

Load Next Story