بھارتی میڈیا مذاکرات کی کامیابی پر شکوک وشبہات پیدا کرنے میں مگن

منہ پھٹ اینکرز جنگ بندی کا مذاق اڑانے لگے، پاکستان کی ثالثی پر بھی سوالات اٹھا دیے

پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران کے مابین اسلام آباد مذاکرات پر جہاں دنیا کی نظریں مرکوز ہیں، وہیں بھارتی میڈیا اور اس کے منہ پھٹ اینکرز اسلام آباد کی مثبت کاوش کو نقصان اور مذاکرات کی کامیابی پر شک وشبہات پیدا کرنے میں مگن ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان عالمی امن کے مرکز بن کر ابھرنا معمول پیش رفت نہیں، ایک حقیقی سفارتی لمحہ ہے جس نے پاکستان کو مغرب اور مشرق کے مابین پل کا کردار دیا ہے۔

40 سے زائد عالمی میڈیا اداروں نے مذاکرات کی کوریج کیلئے ویزوں کے درخواستیں دے چکے، معروف بھارتی نیوز چینلز  پرائم ٹائم مباحثوں میں پاکستان کے مشرق اور مغرب کے مابین سفارتی پل کے کردار پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا. 

بھارتی اینکر ارناب گوسوامی نے پوری پیش رفت اور جنگ بندی کا ایک مذاق قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پاکستان کیسے ایران امریکا ثالثی کرا سکتا ہے۔

جے ڈی وینس کی سکیورٹی کے  سوال پر سابق امریکی سفیر جیفیری گنٹر  سخت برہمی کا اظہار کیا۔

انڈیا ٹوڈے نے لائیو براڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ نائب صدر وینس پاکستان کا رخ نہیں کریں گے، طیارہ راستے میں موڑ کر واپس جا سکتے ہیں۔

اس کی برعکس جے ڈی وینس کا طیارہ اسلام آباد اترا جہاں ان کا استقبال کیا گیا۔ اسی براڈکاسٹ میں دعوے ہوئے کہ کوئی بھی پاکستان کو امن مذاکرات کا کریڈٹ دینا نہیں چاہتا۔ 

ایک اینکر نے دعویٰ کیا کہ امریکی نائب صدر کا طیارے اسلام آباد پہنچنے سے قبل لاپتا ہونے کی پراتھنا کی جا رہی ہیں۔

یہ پرارتھنا پدمناتھ سوامی مندر میں ہوئیں جہاں مقامی پنڈتوں کو وزیراعظم مودی نے پرارتھنا کیلئے 3000 روپے فی کس دیئے، یہ یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ طیارہ پاکستان نہیں پہنچنے گا۔

بھارتی میڈیا کا لہجہ مشیر قومی سلامتی اجیت دوول  کے ’’دوول ڈاکٹرئن‘‘ کے تحت بیانیہ کا عکاس ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار بنانا اور  اس کے تحت کئی سال سے بھارت پاکستان کو دہشت گردی برآمد کرنیوالی فیکٹری قراردے رہا ہے۔

سابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ کے فورم پر کہا کہ بھارت سکالرز، ڈاکٹرز، انجینئرز پیدا کرتا ہے، پاکستان صرف دہشت گرد۔

اس بیانیہ نے مغربی پارٹنرز کیساتھ اتحاد بنانے اور عالمی تاثر تشکیل دینے میں بھارت کی معاونت کی۔

تاہم 2020 میں یورپی یونین کی ڈس انفولیب نے 15سالہ بھارتی ڈس انفارمیشن نیٹ ورک  بے نقاب اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں 100 کے قریب ملکوں میں 750 جعلی میڈیا اداروں اور 265 بھارت نواز ویب سائٹ کے ڈس انفارمیشن میں ملوث ہونے کا نشاندہی کی، اقوام متحدہ کی منظورشدہ 10 این جی اوزاور متعدد تنظیموں کو بھی مبینہ طور پر ملوث قرار دیا۔

تفتیش کاروں کے مطابق ڈس انفارمیشن کا مقصد عالمی پلیٹ فارمز استعمال کرکے پاکستان کے خلاف وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔ 

تاہم سینئر رہنما کانگریس ششتی تھرور نے اس پیش رفت پر کہا کہ امن کاوشوں میں پاکستان کا کردار مسترد نہیں کیا جانا چاہیے، جغرافیہ وعلاقائی حقائق اسلام آباد کو کشیدگی کے خاتمہ میں براہ راست فریق بناتے ہیں،کشیدگی کے خاتمے کی کسی بھی حقیقی کاوش پر ہمیں خوش ہونا چاہیے، کیونکہ استحکام سے سب کے مفادات جڑے ہیں، جن میں توانائی، سلامتی اور معاشی استحکام شامل ہیں۔

متعلقہ

Load Next Story