امریکا نے پاکستان کے ساتھ تجارت میں رکاوٹوں کا اعتراف کرلیا

بعض شعبوں میں رکاوٹوں کو مشترکہ حل کرنا ہوگا، سینئر اکنامک آفیسر امریکی قونصلیٹ

پاکستان کے ساتھ تجارت وسرمایہ کاری بڑھانے کیلیے کوشاں ہیں، کراچی چیمبر سے خطاب۔ فوٹو: فائل

امریکی قونصلیٹ کراچی کے سینئر اکنامک آفیسر الیگزینڈر اور نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا فروغ چاہتا ہے، واشنگٹن تجارت میں اضافے اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پراجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیلنجز کے ساتھ ساتھ تجارت کے وسیع مواقع بھی موجود ہیں، امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی طرف مصروف عمل رہنے پر پابند ہے، پاکستان میں مختلف معاشی سرگرمیوں میں امریکا مصروف عمل ہے اور ہم توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے اس مہم میں پاکستان کے حامی ہیں، ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ( یو ایس ایڈ) پاکستانی حکام کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

تعلیم پاکستان میں امریکی مصروفیات کی اعلی ترین ترجیحات میں سے ایک ہے، تعلیم کے شعبے میں امریکا نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور امریکا کی فنڈنگ سے چلنے والے پروگراموں کے ذریعے تعلیم کو بہتر بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے بارے میں منفی تاثر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے بارے میں پایا جانے والا تاثر حقیقت کے برعکس ہے، دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں مثبت پیغام بھیجنے کے لیے ہم سب کو ذمے داری کا مظاہر ہ کرنے اور مل جل کر کوششیں کرنی چاہییں جبکہ حکومت پاکستان کو بھی منفی تاثر کو زائل کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔


پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک صدی کے دوران تجارت میں خاطرخاہ اضافہ نہ ہونے سے متعلق ایک سوال پر الیگزینڈر اور نے کہا کہ بعض شعبوں میں کچھ رکاوٹیں ہیں جن کو مشترکہ طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت میں بتدریج اضافہ ہو رہاہے اور تجارت میں پیش رفت اس بات کی گواہ ہے خاص طور پر پاکستان سے آم کی برآمدات میں اضافہ قابل ذکرہے تاہم پاکستان کو امریکی مارکیٹوں میں اپنی مصنوعات اور خدمات کو مزید فروغ دینا چاہیے اوربہتر طریقہ یہ ہے کہ دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر عبداللہ ذکی نے اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ تجارتی حجم حقیقی گنجائش کے مطابق نہیں، کراچی چیمبرآف کامرس دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ اورتجارت کی نئی راہیں تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور ہم نے ہمیشہ سے یہ آواز بلند کی کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے اور تجارت میں حائل رکاٹوں کو دور کرنے کے لیے دونوں ملکوں کو کردار ادا کرنا چاہیے۔

عبداللہ ذکی نے پاکستان کے بارے میں غلط تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ امن وامان کی مجموعی صورتحال اتنی بھی خراب نہیں جتنی غیر ملکی تاجر اور صنعت کار سمجھتے ہیں اور یہ سب وقتاً فوقتاً منفی سفری ہدایات جاری کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوںنے دونوں ملکوں کے تاجروں کے درمیان تبادلہ خیال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس عمل سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے توانائی بحران سے نمٹنے، تعلیم کے فروغ، معاشی مواقع میں اضافے، صحت عامہ میں بہتری لانے اور ابترا انفرااسٹرکچر کی صورتحال بہتر بنانے میں تعاون کو بھی سراہا۔ پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس دیے جانے کا ذکرکرتے ہوئے عبداللہ ذکی نے زور دیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان آزاد تجارت معاہدہ (ایف ٹی اے) جلد از جلد طے کیا جائے جس کے ذریعے نہ صرف پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈیوں میں باآسانی رسائی حاصل ہو گی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔
Load Next Story