کراچی مویشی منڈی: خریداروں کی آمد اور بیوپاریوں کی امیدیں، انتظامیہ کے دعوے کتنے سچے؟

1200 ایکڑ پر محیط اس وسیع رقبے پر ملک بھر سے بیوپاریوں کے پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے

(فوٹو: فائل)

کراچی:

کراچی کی سپر ہائی وے پر قائم ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں گہما گہمی کا آغاز ہو چکا ہے۔ 1200 ایکڑ پر محیط اس وسیع رقبے پر ملک بھر سے بیوپاریوں کے پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں اس بار انتظامیہ نے شہریوں کو متوجہ کرنے کے لیے خریداری کے ساتھ ساتھ تفریحی سہولیات پر بھی خاص توجہ دی ہے۔

انتظامی تبدیلیاں اور نئے بلاکس

منڈی انتظامیہ کے مطابق اس سال منڈی کو نئے سرے سے منظم کیا گیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر طارق نندولی کا کہنا ہے کہ مارشلنگ ایریا کی جانب 'سیفائر' اور 'گولڈن' جیسے وی آئی پی بلاکس بنائے گئے ہیں، جبکہ صفائی ستھرائی کے نظام کو ماضی کے مقابلے میں بہتر رکھا گیا ہے۔ شہری اپنی فیملیز کے ساتھ رات کے وقت بھی منڈی کا رخ کر سکیں، اس کے لیے سڑکوں پر پول لائٹس اور تمام بڑے برانڈز پر مشتمل ایک 'فوڈ اسٹریٹ' بھی قائم کی جا رہی ہے۔

قیمتوں کا اتار چڑھاؤ: بیوپاری اور خریدار آمنے سامنے

منڈی میں اس وقت قیمتیں شہریوں کے لیے سب سے بڑا موضوعِ بحث ہیں۔ جہاں بیوپاری چارے، ٹرانسپورٹ اور لائیو اسٹاک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا رونا رو رہے ہیں، وہیں خریداروں کو قیمتیں جیب پر بھاری محسوس ہو رہی ہیں۔

بیوپاریوں کا موقف

پنجاب سے آئے ایک بیوپاری کے مطابق چھوٹے جانور کی کم از کم قیمت 4 لاکھ 50 ہزار روپے سے شروع ہو رہی ہے، جبکہ بھاری بھرکم اور خوبصورت نسل کے بیلوں کی مانگ 8 لاکھ روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

انتظامیہ کی امید

ایڈمنسٹریٹر طارق نندولی نے ایک حوصلہ افزا خبر دیتے ہوئے کہا کہ اس سال بیرونِ ملک جانوروں کی برآمد کم ہونے کے باعث مقامی مارکیٹ میں جانوروں کی بہتات ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔

'چیتا پرنٹ' بیل اور شہریوں کی دلچسپی
منڈی میں اس بار بھی منفرد رنگوں اور نسل کے جانوروں کی آمد جاری ہے۔ خریداروں میں خاص طور پر ان بیلوں کی دھوم ہے جن کی کھال پر قدرتی طور پر چیتے کی طرح کی دھاریاں اور نشانات موجود ہیں۔ اگرچہ کچھ خریدار ان قد آور جانوروں کو دیکھ کر ابتداً سہم جاتے ہیں، لیکن بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ یہ جانور صرف وضع قطع میں ہیبت ناک ہیں، مزاج میں نہیں۔

شہریوں کی حفاظت کے لیے 1200 سے زائد پولیس اہلکار اور رینجرز کے دستے تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پوری منڈی کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں سے کی جا رہی ہے۔ بیوپاریوں کے لیے پانی کی فراہمی کے دیرینہ مسئلے کو حل کرتے ہوئے فی جانور روزانہ کی بنیاد پر پانی کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے، اور چارے کی لانے لے جانے پر کسی قسم کی پابندی نہیں رکھی گئی۔

کراچی کی یہ مویشی منڈی آنے والے دنوں میں مزید پرہجوم ہونے کی توقع ہے، جہاں ایک طرف مذہبی فریضے کی ادائیگی کا جذبہ ہے تو دوسری طرف بیوپاریوں کی سال بھر کی محنت کا معاوضہ کھرے کرنے کی امید۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عید کے قریب خریدار اور بیوپاری کس 'درمیانی راستے' پر متفق ہوتے ہیں۔

Load Next Story