اسرائیل کا ٹرمپ کے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے کی مکمل حمایت کا اعلان

ایران کے تمام خلیجی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی کا آغاز پیر کی صبح سے ہوگا

نیتن یاہو صرف ایک سال میں امریکا کے ساتویں دورے کے لیے روانہ

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایران کے بحری ناکہ بندی کے فیصلے کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حمایت کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پیر کے روز کابینہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔

نتین یاہو کا مزید کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان سے واپسی کے بعد ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جو بے نتیجے رہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران نے پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کے قواعد کی خلاف ورزی کی جس پر صدر ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کیا جو درست ہے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکی صدر ٹرمپ کے اس سخت مؤقف کی تائید کرتا ہے اور اس معاملے پر امریکا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ایران کے تمام خلیجی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی کا آغاز پیر کو امریکی وقت کے مطابق صبح 10 بجے کیا جائے گیا۔

صدر ٹرمپ کے بقول اس ناکہ بندی کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو کنٹرول میں لینا ہے۔ جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کی انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔

اس آبی گزرگاہ کو ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کرنے کے بعد سے بند کر رکھا ہے جس ے نہ صرف تیل کی قلت پیدا ہوگئی بلکہ قیمتیں بھی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب کسی بھی فوجی جہاز کی موجودگی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

Load Next Story